• تاریخ: 2011 جولائی 02

نوجوان اور اعلی عہدہ داروں کی ذمہ داری


           

یہ صرف ماں باپ ہی نہیں ہیں جو جوانوں کے ذمہ دار ہیں۔ تعلیمی عہدہ داروں، سیاسی حکام، معاشی منصوبہ سازوں، سب کو ان افراد میں شمار کیا جاتا ہے جو ملک کے نوجوانوں کے ذمہ دار کہلاتے ہیں۔ ملک کے نوجوان، حکام کی اولادوں کا درجہ رکھتے ہیں۔ اگر حکام اور نوجوان طبقے پر پدرانہ اور فرزندانہ جذبہ محیط ہو جائے جو نوجوانوں کے بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ ممکن ہے کہ بعض مشکلات ایسی ہوں جو قلیل مدت میں حل نہ کی سکیں لیکن نوجوان نسل اور نوجوان طبقے کی اطلاعات میں اضافہ کرنا اور ان سے مدد حاصل کرنا وہ طریقے ہیں جن سے اس صورت حال کو قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔ ملک کی عظیم نوجوان نسل ایک فیاض اور متلاطم دریا کی مانند ہے۔ یہ دریا مسلسل بہہ رہا ہے اور برسوں بعد بھی اسی طرح بہتا رہے گا۔ اس دریا کے سلسلے میں دو طرح کا طرز عمل اختیار کیا جا سکتا ہے۔

ایک طریقہ تو یہ ہے کہ ملک کے حکام، دانشمندانہ، عاقلانہ اور عالمانہ انداز اختیار کرتے ہوئے سب سے پہلے اس دریا کی اہمیت و افادیت کو پہچانیں، دوسرے مرحلے میں ان جگہوں اور مراکز کی نشاندہی کریں جنہیں اس دریا کے پانی کی ضرورت ہے، تیسرے مرحلے میں منصوبہ بندی اور پانی کی سپلائي کا نیٹ ورک تیار کریں اور پھر پانی کو جہاں جہاں ضرورت ہے، پہنچائیں۔ یہ کر لیا گيا تو ہزاروں باغ اور لالہ زار چمن اس لا محدود نعمت الہی سے بہرہ مند ہوں گے اور بے آب و گياہ خطوں میں شادابی دوڑ جائے گی۔ اس دریائے متلاطم کے پانی کو انرجی پیدا کرنے والے ڈیم تک بھی پہنچایا جا سکتا ہے اور اس طرح انرجی کا ایک عظیم سرچشمہ تیار کیا جا سکتا ہے اور پورے ملک کو فعالیت اور سعی و کوشش کے لئے آمادہ کیا جا سکتا ہے۔ اگر اس سلسلے میں یہ طرز عمل اختیار کیا جائے تو یہ نعمت ثمر بخش اور بارآور بن جائے گی جس پر اگر معاشرے کا ہر ایک فرد روزانہ سیکڑوں بار سجدہ شکر بجا لائے تو بھی کم ہے۔ اس طرح کے طرز عمل کا لازمہ ہے منصوبہ بندی کرنا، رہنمائی کرنا، راستوں اور میدانوں کو کھولنا، احتیاجات کو متعین کرنا اور اس گراں بہا پونجی اور اس ہدیہ الہی کو ضرورت کی جگہ پر رکھنا ہے۔ جس کا نتیجہ شادابی، تازگي، تعمیر و ترقی، جوش و جذبے اور برکت و رحمت کی شکل میں نکلے گا۔

دوسرا طرز عمل یہ ہے کہ حکام اس موجزن اور فیض رساں دریا کو اس کی حالت پر چھوڑ دیں، اس کے بارے میں کوئی فکر کرنے کی زحمت نہ کریں، اس کے لئے کوئی منصوبہ بندی نہ کریں اور اس کی قدر و قیمت نہ سمجھیں تو نتیجہ یہ ہوگا کہ نہ صرف کھیتیاں سوکھ جائیں گی اور باغ اجڑ جائیں گے بلکہ خود یہ پانی بھی ضائع ہوگا۔ اس صورت حال میں اس پانی کا بہتر انجام یہی ہو سکتا ہے کہ وہ سمندر کے کھارے پانی میں مل کر ضائع ہو جائے، یا پھر دلدل یا ایسے مرکز میں تبدیل ہو جائے جو انواع و اقسام کی آفات و بلیات کی جڑ شمار کئے جاتے ہیں، بد ترین صورت حال یہ ہو سکتی ہے کہ ایک سیلاب کا روپ اختیار کرکے قوم کی ساری جمع پونجی کو مٹا دے۔ اگر منصوبہ بندی نہ ہوئی اور محنت سے کام نہ کیا گيا تو یہی نتائج نکلیں گے۔

Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved

Fatal error: Exception thrown without a stack frame in Unknown on line 0