• تاریخ: 2011 دسمبر 28

نوجوان اورثقافتی یلغار


           

نوجوان اورثقافتی یلغار

عزیز دوستو!
آپ بخوبی جانتے ہیں کہ ہم اکیسویں صدی میں زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ صدی ثقافتی یلغار یا تہذیبوں کے تصادم کے عروج کا دور ہے۔مسلم معاشرے میں غیر اسلامی ثقافت جس میں مغربی اور ہندوانہ ثقافت سر فہرست ہے نے اسلامی ثقافت کو معاشرے ، خصوصا نوجوان نسل سے دور کر دیا ہے ۔ ثقافتی یلغار کیا چیز ہے اور اس کے اثرات کیا ہیں ؟
ثقافتی یلغار
انسان کے افکار، گفتار، رفتار اور کردار کے انفرادی اور اجتماعی طور طریقوں کا دوسری ثقافت پر حملہ کرنا ثقافتی یلغار کہلاتا ہے۔
آج کے دور کے جوان جہاں بھی نکلیں اور جہاں بھی دیکھیں اس کو فحاشی، عریانی اور غیر اخلاقی مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ شیطانی حربوں کے استعمال سے نوجوان نسل کی جنسی خواہشات کو ابھارنے کی بہت سی کوششیں کی جارہی ہیں اور ان کو اخلاق، تعلیم، آداب و احترام ، معاشرتی فلاح و بہبود اور قومی و ملی ترقی میں حصہ لینے سے دور رکھا جا رہا ہے۔ جس کی وجہ سے ہماری سوچ ، گفتارو رفتار اور ہمارے کردار دوسروں کی ثقافت کی ترجمانی کر رہے ہیں اور ہمیں دیکھ کر غیر جانب دار نہ فیصلہ کرنے والا شخص یہی کہنے پر مجبور ہے کہ یہ لوگ یا تو ہندوثقافت کے ترجمان ہیں یا مغربی ثقافت کے ترجمان، کیونکہ وہ دیکھتا ہے کہ ہمارا رہن سہن، اٹھنا بیٹھنا، باہمی تعلقات اور تمام سرگرمیاں دوسری ثقافت کی ترجمانی کررہی ہیں۔ حالانکہ اسلامی ثقافت رہتی دنیا تک کے لیے مادی و روحانی سعادتوں کا حسین امتزاج ہے ۔ اس کے باوجود ہم نے اس الٰہی ثقافت کو چھوڑ دیا ہے ۔ چنانچہ حکیم الامت مصور پاکستان علامہ اقبال ؒ فرماتے ہیں
وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود
یہ مسلمان ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائے یہود
اس فکری غلامی اور ثقافتی شکست سے نکلنے کا واضح اور واحدراستہ یہی ہے کہ ہم اسلامی ثقافت کو زندہ کریں اور اپنی ذات اور معاشرے میں اسلامی ثقافت کو اجاگر کرنے کے لیے اسلامی تعلیمات کو عملاً فروغ دیں تاکہ ہم ایک زندہ، آزادفکر، سربلند اور باغیرت قوم کی حیثیت سے اپنے پاﺅں پر کھڑے ہوسکیں ۔ واضح رہے کہ اسلام انسان کو نہ عشق و محبت سے روکتا ہے اور نہ ہی جنسی تسکین، نہ ہی سیر وتفریح سے اور نہ دوسروں کے ساتھ معاشرتی عمل سے ، لیکن اسلام ان میں سے ہر ایک کے لیے صحیح اور غلط راستے کی نشاندہی کرتاہے۔ اور درست اور سعادت مند راستے کی طرف رہنمائی کرنا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کی سب سے پیاری مخلوق انسان دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، مادی لحاظ سے بھی اور روحانی لحاظ سے بھی کامیاب اور متوازن زندگی گزار سکیں۔ جبکہ مغربی تہذیب و ثقافت نے مغربی معاشرہ کو تباہی کے دہانے پہنچا دیا ہے۔ مغربی معاشرہ تمام اخلاقی اقدار اور انسانی سعادت مندی کے آثارکھو چکا ہے۔ مادیت کے بت نے ان کی آنکھوں پر پردہ ڈا ل دیا ہے۔ لیکن افسوس ہماری نوجوان نسل اب اسی فرسودہ تہذیب و ثقافت کو روشن خیالی، ترقی پسندی اور عظمت سمجھنے لگی ہے۔ جبکہ مغربی تہذیب کا گہرا مطالعہ رکھنے والے حکیم الامت علامہ اقبال ؒ نے کیا خوب کہا ہے
اٹھا کر پھینک دو باہر گلی میں
نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے
علامہ اقبال ؒ مغربی تہذیب کے مستقبل کی پیشین گوئی اس طرح کرگئے ہیں کہ
تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی
جو شاخ نازک پر آشیانہ بنے گا ناپائدار ہو گا
کیونکہ علامہ ؒ دیکھ رہے تھے کہ مغربی تہذیب کی بنیادیں کھوکھلی ہیں۔
آج ہمارے تعلیمی نصاب، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر غیر دینی عناصر اثر انداز ہیں۔ اور وہ غلط، فاسد اور اخلاق سوز مفاہیم اور مناطر کو اس قدر دلچسپ، جاذب النظر اور قابل تقلید بنا کر پیش کرتے ہیں کہ نئی نسل کو ان کی تقلید کے بارے میں کہنے کی ضرورت ہی نہیں رہتی بلکہ وہ خود اس غیر اسلامی مغربی ثقافت اور تہذیب کو پسند کرنے لگتی ہے اور اسی کو جدید، دلچسپ، قابل عمل اور اعلیٰ تہذیب و ثقافت سمجھ کر تقلید کرتی ہے۔ نئی نسل کو اس ثقافتی یرغمالی سے بچانا یقینا تمام صاحبان دین ودانش اور وارثان انبیاءعلیہم السلام کی اولین ذمہ داری ہے۔ ان غیر دینی عناصر کو جدید اور مؤثر ذرائع سے ہی شکست دے کر آئندہ نسل کو بچایا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے ہر ایک کو اپنی بساط کے مطابق قیام کرنا چاہیے۔
پوری دنیا میں اسلامی بیداری کو دیکھ کر اسلام دشمن عناصر خصوصا ًیہود و ہنود نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ مسلمان قوم کی قوت و طاقت کا اصل سر چشمہ اس کے نوجوان کا جذبہ ایمان اور پختہ دینی افکار ، شفاف کردار اور باشرف اخلاق ہے اور یہی چیزیں اسلام دشمن عناصر کے لیے خطرے کا باعث ہیں۔ لہٰذا انہوں نے عالمی سطح پر اپنی سازشوں کو منظم انداز میں مزید تیز کر دیا ہے تاکہ مسلمان قوم کی نوجوان نسل کو فحاشی ، عریانی ، موسیقی ، کھیل کود ، اور سیر و تفریح میں مگن رکھیں تاکہ یہ اپنی عظمت ، قوت اور قائدانہ صلاحیتوں سے نا آشنا رہےں اور ان کی تہذیب و ثقافت کی غلامی کو ہی اپنی عظمت سمجھیں تا کہ وہ (یہود و ہنود) اپنا وجود اس دنیا میں باقی رکھ سکیں ۔
عزیز دوستو! ان حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں اپنے افکار کو اسلامی عقائد اپنے رویے اور سلوک کو اسلامی اخلاق اور اپنے روزمرہ کے امور کو اسلامی شریعت کے عظیم اور الٰہی سانچے میںڈھال کر اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی گزارنی پڑے گی۔ تاکہ ہم دنیا اور آخرت میں مادی اور روحانی دونوں اعتبار سے کامیاب و کامران اور سعادت مند زندگی گزار سکیں۔ البتہ علم و حکمت کی اصلی وارث مسلمان قوم ہی ہے لہٰذا علم و حکمت جہاں سے بھی ملے حاصل کرنا مسلمانوں پر فرض ہے ۔ جس طرح حکیم الامت علامہ اقبال ؒ نے اعلیٰ تعلیم تو مغرب میں ہی حاصل کی لیکن وہ ان کی تہذیب کے غلام نہیں بنے بلکہ اس کھوکھلی تہذیب پر زبردست تنقید کی ۔ علامہ اقبال ؒ کو یہ حسرت رہی کہ علم و حکمت میں مسلمان قوم نے مغرب کو اپنے علمی خزانے تو پیش کیے لیکن خود اس عظیم خزانے سے استفادہ نہیں کیا ۔
مگر وہ علم کے موتی کتابیں اپنے آباءکی
جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارہ
پس تمام مسلمان جوانوں کا یہ فرض ہے کہ وہ دو چیزوں کا بھر پور خیال رکھیں ۔
۱۔ ہر مقام پر اسلامی تشخص کو برقرار رکھتے ہوئے ایک باکردار اور با شعور مسلمان بنیں۔
۲۔ زندگی کے جس میدان میں کام کرنا چاہتے ہیں اس میں سب سے آگے نکلیں۔ کیونکہ قیادت کے سب سے زیادہ حقدار مسلمان ہی ہیں۔
اٹھ کہ اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے
مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے۔

نوائے علم ڈاٹ کام

 

Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved