• تاریخ: 2011 دسمبر 26

جوانوں کو فکری اور اعتقادی انحراف سے کیسے محفوظ رکھا جائے؟


           

جوانوں کو فکری اور اعتقادی انحراف سے کیسے محفوظ رکھا جائے؟

ترجمہ : شبیر حسین وزیری

جس طرح لوگوں کو جسمانی لحاظ سے سالم اور پاک رکھنے کیلئے کئی ایک پیشگی اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح ان کو فکری اور اعتقادی آلودگیوں سے پاکسازی اور محفوظ رکھنے کیلئے بھی پیشگی اقدامات کے طور پر معاشرے میں علمی اور ثقافتی تدابیر کواسطرح مرتب کرنے کی ضرورت ہے کہ جوانوں اور نوجوانوں کیلئے ایک پاک ، سالم اور فکری آلودگیوں سے دور ماحول میسر ہو۔

اس مقصد کے پیش نظر علمی اور ثقافتی امور کے ذمہ دار افراداور والدین پریہ ذمہ داری عاید ہوتی ہے کہ وہ اپنے تعلیمی اور تربیتی پروگراموں کو اس انداز میں چلائیں کہ معاشرے سے فکری اور اعتقادی کج رویوں میں مبتلا یا اس کی زد میں موجود افراد کی نشاندہی کرکے انہیں ثقافتی یلغار کے حملوں سے محفوظ کرنے کیلئے اقدامات کریں تاکہ دوسرے ان بیماریوں میں مبتلاء نہ ہو۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کونسے طریقے ہیں جن کے ذریعے ہم جوانوں کو ان آلودگیوں سے محفوظ رکھ سکتے ہیں ؟

اس سوال کا جواب یہ ہے کہ یہ طریقے زمان و مکان، سن و شخصیت اور ماحول کے مختلف ہونے کے ساتھ مختلف ہو سکتے ہیں لیکن ہم یہاں پر صرف عمومی طور پر چند ایک طریقہ کار کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔
1 – معرفت اور دینی اعتقادات کا استحکام؛

انسان عموما فکری اور اعتقادی کجروی میں اس وقت گرفتار ہوتاہے جب اسکے دینی اعتقادات مستحکم اور ریشہ دار نہ ہو ۔ جب اعتقادات دلائل اور برہان پر مبنی نہ ہو ں اور اندھی تقلید کے طور پر کسی چیز پر اعتقاد رکھے تو تھوڑی بہت شبہ اندازی اور اعتراضات کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہوئے فکری اور اعتقادی انحراف کا شکار ہو جاتاہے۔پس فکری انحراف کے عوامل و اسباب میں سے بنیادی اور اہم ترین عامل اعتقادات کا سطحی اور کمزور ہوناہے لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ جوانوں اور نوجوانوں کے دینی اور مذہبی اعتقادات جو کہ انسان کی فطرت میں رچی بسی ہے،کو مظبوط جڑوں پر استوار کریں تاکہ دشمن کے غلط پروپیگنڈوں سے ان کے ثابت قدمی میں لرزش نہ آنے پائیں۔ اس مقصد کیلئے والدین اور ذمہ دار افراد کو چاہئے کہ تعلیمی اور تربیتی امورکو اسطرح مرتب کریں کہ جوانوں کی فطری حس خدا شناسی کو پھلنے پھولنے کیلئے زمینہ ہموار ہو ۔
2 – مذہبی اماکن میں جوانوں کی حاضری کیلئے زمینہ سازی:

جوانوں کی مساجد اور دیگر مذہبی اماکن میں حاضری سے ان میں منعقدہ روح پرور دینی اور مذہبی پروگرام انہیں دینی اور مذہبی امو ر میں دلچسپی کا باعث بنادیتا ہے اور انہیں خدا کے ساتھ انس و محبت پیدا کرنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہےاور آہستہ آہستہ انہیں اچھائی اور خوبیوں سے آراستہ کرتا ہے۔ جس طرح اماکن فساد و فحشاء انہیں خدا سے دور کرکے شیطان کے دام میں پھنسا دیتے ہیں اسی لئے اسلام نے نہ صرف فساد و فحشاء سے دور رہنے کا حکم دیا ہے بلکہ ایسے مقامات پر حاضری سے بھی منع فرمایاہے جہاں فسق و فجور انجام پاتے ہیں۔
۳ – اچھی اور معیاری کتابوں کے مطالعے پر آمادہ کرنا:
ممکن ہے کچھ جوان اور نوجوان دشمنوں کی پروپیگنڈے میں آکر دینی مسائل سے آگاہی سے بے نیازی احساس کریں اور کتابوں کے مطالعے کیلئے کوئی انگیزہ نہ رکہیں ۔ اس صورت میں والدین اور ذمہ دار افراد کا وظیفہ بنتاہے کہ ان غلط افکار کو انکے ذہنوں سے نکال باہر کریں اور ان کےلئے معیاری کتب کے مطالعے کیلئے زمینہ فراہم کریں اور کتابوں کے مطالعے کے فواید سے آگاہ کرکے انہیں اس اہم کام پر آمادہ کریں۔
۴ – مذہبی اور مناسب تفریحی پروگراموں کا انعقاد:

مذہبی نشتوں جیسے احکام دینی کا بیان اور سیاسی و اجتماعی مسائل کا صحیح تجزیہ اور تحلیل اور دعا و مناجات کے پروگراموں کا انعقاد جوانوں میں معنوی افکار کے فروغ کیلئے انتہای ضروری اور اہم ہے ۔ ان پروگراموں کو حد المقدور جذاب اور متنوع بنانا چاہئے تاکہ نوجوانوں کی دالچسپی میں اضافہ کاباعث بنے، اس مقصد کیلئے ان پروگراموں کے ساتھ ادبی اور ہنری محافل کا انعقاد اور معیاری فلموں اور ڈراموں کی نمایش سے لیکر دیگر مناسب تفریحی پروگراموں سے مدد لے سکتے ہیں ۔
۵ – سوال و جواب کے نشستوں کا انعقاد:

ایک اہم عامل جو نوجوانوں کو فکری اور اعتقادی انحراف میں دھکیل دیتے ہیں دینی ، سیاسی اور اجتماعی مسائل کا غلط تجزیہ و تحلیل ہے جب جوان کسی بھی نئے مسئلے سے دوچار ہوتا ہے تو کوشش کرتا ہے کہ اسے صحیح معنوں میں درک کریں جب والدین اور تعلیم و تربیت کے ماہرین انکا صحیح اور مناسب تجزیہ نہ کریں تو نوجوان اپنی فطری حس جستجو کو سیراب کرنے کیلئے دست و پا مارنا شروع کردیتا ہے اس دوران اغیار جوکہ ہر آن ایسے شکاری کی گھات میں ہوتے ہیں موقع مناسب پا کر اپنا زہریلا مواد (ان مسائل کے غلط اور شبہ انگیز تجزیہ اور تحلیل ) کے ذریعے انکی افکار کو غلط سمت دینا شروع کرتے ہیں ۔ ایسے میں اگر والدین اور معاشرے کے دلسوز اور ذمہ دار افراد تجربہ کار اور ماہرین کے ذریعے سوال و جواب کی صورت میں ان مسائل کا صحیح تجزیہ پیش کریں تو حتما ہمارے جوان اور نوجوان بہت ساری فکری اور اعتقادی کج رویوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔
۶ – گھروں میں جوانوں اور نوجوانوں کیلئے دوستانہ ماحول پیدا کرنا:

بچپنےاور نوجوانی کے ایام میں زیادہ تر بچے اور نوجوان غلط قسم کے دوستیوں میں گرفتار ہوجاتے ہیں اس کی وجہ گھروں میں ان کیلئے دوستانہ اور محبت سے بھرے ماحول کا فقدان ہوسکتاہے۔ جب گھروں میں اس چیز کا وجود نہ ہو یا کم رنگ ہو تو جوان اور نوجوان گھر سے باہر اسکی تلاش میں نکل پڑتا ہے جو انہیں بعض اوقات دشمنوں کے دام میں گرفتار کر دیتا ہے ۔ بنابراین اگر گھر میں یہ ماحول انکے لئے والدین اور دوسرے افراد خانوادہ کے ذریعے فراہم ہو تو کافی حد تک ان کی فکری اور اعتقادی مسائل میں انحراف سے بچنے کا سامان فراہم ہو جاتاہے۔
۷ – اچھے اور شایشتہ دوستوں کا انتخاب:

کبھی دیکھنے میں آتا ہے کہ ایک شخص کیلئے تربیتی اور تعلیمی ماحول، کامل اور اچھے انداز میں فراہم ہونے کے باوجود برے دوستوں کے ساتھ رفت و آمد ان کے انحراف کا سبب بنتا ہے۔ ايسا اسلئے هوتا هے که جوان اور نوجوان اپنے کم تجربه اور ماحول کے اونچ نيچ سے صحيح آشنا نه هونے کي وجه سے يا دوست اور دوستي کے حقيقي معيار اور سنجش ميں اشتباه کرنے کي وجه سے غلط اور برے دوستوں کے ساتھ رفت و آمد رکھتا هے۔

لذا اگر والدین اس زمینے میں اگر انکی راہنمائی کریں اور اپنے تجربوں اور آگاہی کے ذریعے انکی مدد کریں تو کافی حد تک جوانوں کو فکری آلودگیوں سے بچایا جا سکتا ہے۔

ممکن ہے کہا جائے کہ آخر کیسے ماں باپ اور دوسرے ذمہ دار افراد ان کے لئے دوستوں کا انتخاب کرسکتے ہیں؟
اسکا جواب یہ ہے کہ درست ہے والدین اور دوسرے افراد ابھی انکی دوستوں کی انتخاب میں کوئی کردار ادا نہیں کرسکتا لیکن بچپنے میں تو والدین یہ کام کرسکتے ہیں اور وہ اس طرح کہ اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ جوان اور نوجوان اکثر ان افرادکے ساتھ دوستی کرتے ہیں جن کے ساتھ بچپنے میں زیادہ آمدورفت رکھتے تھے یا جسے وہ بچپنے سے جانتا تھا پس والدین بچپنے سے ہی انکے دوستوں کا انتخاب کرکے انہیں جوانی اور نوجوانی میں اس مشکل سے دور رکھ سکتےہیں۔
نتیجہ :

گھر ، مدرسہ اور ثقافتی مراکز ہر کوئی جوانوں اور نوجوانوں کی فکری اور اعتقادی انحراف سے پیشگی حفاظت میں اپنا اپنا کردار ادا کرسکتا ہے۔

گھر ، پیدائش اور بچپنے سےہی ایک دوستانہ اور آلودگیوں سے پاک ماحول فراہم کرکے اپنا کردار ادا کرسکتاہے۔
اور مدرسہ ، ایک معیاری اور اچھے تربیتی نظام تعلیم کے ذریعے جوانوں اور نوجوانوں کی فکری اور اعتقادی محاذوں کی نگہبانی کرسکتی ہے۔

جبکہ ثقافتی امور کےذمہ دار افراد معاشرے میں ایک پاک و صاف ثقافتی مراکز میں مناسب تربیتی اور تفریحی پروگراموں کے انعقاد کے ذریعے جوانوں اور نوجوانوں کےفارغ اوقات سے استفادہ کرکے انہیں غیروں کےثقافتی یلغارکے دام میں پھنسنےسے بچایا جا سکتے ہیں۔

لازم ہے کہ ہر شخص حسین ابن علی ہو
اے قوم وہی پھر ہے تباہی کا زمانہ

اسلام ہے پھر تیر حوادث کا نشانہ
کیوں چپ ہے اسی شان سے پھر چھیڑ ترانہ
تاریخ میں رہ جائے گا مردوں کا فسانہ
مٹتے ہوئے اسلام کا پھر نام جلی ہو
لازم ہے کہ ہر شخص حسین ابن علی ہو
..................................................

Rizvia.net

Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved