• تاریخ: 2012 ستمبر 05

ہمارے نوجوان مسابقت کی دوڑ میں پیچھے کیوں؟


           

 

ہمارے نوجوان مسابقت کی دوڑ میں پیچھے کیوں؟

بقلم: سید افتخار علی جعفری

دنیا کی علم و ٹکنالوجی کے میدان میں روز افزوں ترقی، الیکٹرانیک مشینوں کی ہر آئے دن نت نئی ایجادات، اور دیگر تعلیمی مسابقوں کے میدان میں حیرت انگیز کامیابیوں کو دیکھ کر بر صغیر میں سکونت پذیر ہر فرد کے ذہن میں یہ سوال کھٹکنے لگتا ہے کہ ہمارے نوجوان مسابقت کی دوڑ میں پیچھے کیوں ہیں؟ جبکہ باقی دنیا کے نوجوان بہت آگے نکل چکے ہیں۔ دقیق نگاہ سے اگر اس کی وجوہات کا مطالعہ کیا جائے تو مختلف علل و اسباب سامنے آئیں گے جو ہمارے نوجوانوں کے سامنے اس راہ میں رکاوٹ ہیں۔ جن میں سے چند ایک کی طرف اس مختصر مقالہ میں اشارہ کیا جاتا ہے:

۱: بے مقصد محنت؛ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی بھی قوم کی ترقی میں اس کے نوجوان کا اہم رول ہوا کرتا ہے دنیا میں صرف وہی قومیں اپنا نام و نمود پیدا کر سکتی ہیں اور سر اٹھا کر چلنے کے قابل بن سکتی ہیں بلکہ بعبارت دیگر،وہی قومیں اس عالم بیکراں میں اپنے وجود گم گشتہ کو حوادث زمانہ کی زد سے نکال کر دنیائے علم و دانش کی وادی میں قدم رکھنے کے قابل بن سکتی ہیں جن کے جوانوں میں تعین مقصد اور حصول مقصد کی راہ میں جانفشانی اور جانثاری کا جذبہ ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر  کی طرح جوش مارتا ہوا نظر آئے۔ اس کے بر عکس اگر جوانوں کی محنت اور تک و دو کا کوئی مقصد معین نہ ہو کوئی ٹارگٹ ان کے سامنے نہ ہو تو ان کی ساری تلاش و جستجو بغیر کسی ٹارگٹ کے انجام پائے گی۔ ان کی مثال ایک ایسے راہرو کی ہو گی جو کڑکتی دھوپ میں صحرائے دق و لق میں خار دار جھاڑیوں کے بیچ میں دوڑتا ہوا نظر آئے اور جب اس سے سوال کیا جائے کہ حضور جانا کہاں ہے؟ تو پلٹ کر جواب دے کچھ معلوم نہیں۔! ایسا انسان دن دگنی رات چگنی محنت کرتا رہے اس کی محنت کا کوئی ماحصل نہیں ہو گا۔ اس لیے کہ اسے منزل کا پتہ ہی نہیں۔

دنیا میں قدم رکھنے والا ہر انسان اگر روز اول ہی اپنی زندگی کے مقصد کا تعین کر لے تو بہت آسانی سے پیشرفت اور ترقی کی منازل طے کر سکے گا۔ اس کی دنیوی زندگی بے معنی نہیں ہو گی۔ اس کے دنیا میں آنے کا مقصد ہی اسے کمال کی راہیں دکھلائے گا۔ اور انسان اس کمال کو پا کر اپنی زندگی کے مقصد کے حصول میں کامیاب ہو جائے گا۔ لیکن اگر مقصد حیات سے بے خبر رہا تو ہر موڑ پر ناکامیوں کا سامنے کرنے کے علاوہ اسے کچھ نصیب نہیں ہوگا۔ پس سب سے پہلی منزل مقصد کا تعین ہے جیسا کہ مولانا روم کہتے ہیں:

روزہا فکر من اینست و ھمہ شب سخنم        چرا غافل از احوال دل خویشتنم

ز کجا آمدہ ام آمدنم بہر چہ بود                   بہ کجا می روم آخر ننمائی وطنم

انسانی ترقی کا سب سے بڑا راز اسی میں مضمر ہے کہ انسان اپنی زندگی کے مقصد کو، اپنی زحمت اور محنت کے ٹارگٹ کو معین کرے اور اس کے بعد اس کے حصول کی راہ میں پوری جد و جہد کے ساتھ جٹ جائے تو یقینا کامیابیاں اسکے قدم چومیں گی۔

۲: کاہلی اور سستی:۔ مولائے کائنات علی علیہ السلام کا یہ فقرہ ’’ من جد وجد‘‘ جویندہ یابندہ ہے اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ کاہلی اور سستی کرنے والا انسان کبھی کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکتا۔

تعین مقصد کے بعد، مقصد کو پانے کے لیے مسلسل محنت اور جستجو کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن اگر کوئی نوجوان اپنا ٹارگٹ تو معین کرتا ہے لیکن اس کو پانے کے لیے تلاش و کوشش نہیں کرتا بلکہ کاہلی اور سستی برتتا ہے ایسا انسان کامیابیوں کے صرف سپنے دیکھ سکتا ہے انہیں حاصل نہیں کر سکتا۔

۳: ناکامی سے دل برداشتہ ہونا۔ اکثر اوقات انسان ترقی کی راہ میں کچھ دیر تک محنت کرتا ہے اور کسی ایک ناکامی کا سامنا کرنے سے دل سر زد ہو کر ہمت ہار جاتا ہے ، کاہلی اور سستی اس کے کام میں سرایت کر جاتی ہے حالانکہ یہ بات مسلم ہے کہ مسابقہ میں دوڑ لگانے والا ہر انسان ضروری نہیں کہ پہلی بار ہی مسابقہ جیت جائے ناکام بھی ہو سکتا ہے مگر اس کی یہ ناکامی اس کے سامنے رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ اس لیے کہ ناکامی کے بعد ہی انسان کامیابی کو پا سکتا ہے۔ ہارنے کے بعد ہی انسان جیتنے کا واقعی مزہ چھکتا ہے۔ قرآن کریم کا یہ فیصلہ ہے’’ ان مع العسر یسرا‘‘ کامیابی ناکامی کا سامنا کئے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی۔ پستیوں کو سر کئے بغیر انسان کمال تک نہیں پہنچ سکتا۔ پہاڑ کی چوٹی پر جانے کے لیے انسان کو پہاڑ کے دامن سے سفر شروع کرنا ہوتا ہے اور اس سفر میں کانٹےدار جھاڑیوں سے، کٹھن راہوں سے اور کتنی دوسری مشکلات سے گزرنا ہوتا ہے۔

لیکن اگر اس کے نشیب و فراز کو دیکھ کر پہاڑ کے دامن میں کاہلی اور سستی کا شکار ہو گیا یا اس کے کٹھن راستے کو دیکھ کر دل برداشتہ ہو گیا تو کبھی بھی پہاڑ کی چوٹی تک نہیں پہنچ سکے گا۔

۴: نقل پر انحصار:۔ بر صغیر کی نوجوانوں کی صلاحیتوں میں اضافہ نہ ہونے کا باعث ان کا نقل پر انحصار ہے۔ پورا سال یہ سوچ کر محنت کرنے میں کوتاہی کرتے ہیں کہ امتحان میں نقل کر کے پاس نمبر لے آئیں گے ۔ اساتذہ کرام بھی انہیں محنت کرانے کے بجائے پورا سال ان سے طرح طرح کے کام لیتے رہتے ہیں اور امتحان میں ان کی ہلپ کر کے پاس کر دیتے ہیں یا کروا دیتے ہیں حالانکہ یہ ان کے ساتھ کوئی ہلپ و مدد نہیں ہے بلکہ اس مدد کے اندر چھپا ہوا ظلم ہے جو ان کے حق میں کیا جا رہا ہے۔ چھوٹی کلاسوں میں نقل کروا کر ان کی بنیادوں کو کمزور بنانا اور بڑی کلاسوں میں پہنچ کر فیل ہو جانا یا نمبر کم لانا اور پھر ناکارہ ہو کر گھر بیٹھ جانا اس سے بڑا ظلم کیا ہو سکتا ہے۔

۵:۔ احساس کمتری کا شکار؛ ہمارے نوجوان معمولا جس بیماری کے شکار رہتے ہیں وہ ہے احساس کمتری ، دوسروں کی صلاحیتوں اور ان کے کارناموں کو دیکھ کر حسرت کھانا اور اپنی صلاحیتوں کی پردہ پوشی کرنا اور انہیں اجاگر نہ کرنا ہمارے نوجوانوں کی سب سے بڑی خامی ہے۔ جس کی وجہ سے وہ ترقی کی راہوں میں لڑکھڑا جاتے ہیں حالانکہ اگر اپنے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوں سے پردہ ہٹا کر انہیں بروئے کار لایاجائے دوسروں کی نقل اور عقل کی پیروی کرنے کے بجائے اپنی عقل اور سوچ سے صحیح استفادہ کیا جائے تو ہمارے سماج میں بھی کئی چھپے رستم سامنے آئیں گے جن کے فکری جوہر بڑے بڑے مارکوں کو سر کرنے میں مفید ثابت ہوں گے مگر وجہ یہ ہے کہ ہم اپنے آپ کو کچھ بھی نہیں سمجھتے اور دوسروں کو سب کچھ سمجھ لیتے ہیں۔ مثل مشہور ہے گھر کی مرغی دال برابر۔ ہمارے سماج میں اگر کوئی اپنی کاوشوں سے آگے بڑھنے کی کوشش بھی کرتا ہے تو دوسرے بجائے اس کی حوصلہ افزائی کے اسے مسخرہ بنا لیتے ہیں یا اس کی لِگ پُلینگ کرنے لگتے ہیں۔ جس سے وہ دل سرد ہو کر بیٹھ جاتا ہے اور اپنی صلاحیتوں کو گور ندامت و حسرت میں ہمشیہ کے لیے دفن کر دیتا ہے۔

دنیا میں قدم رکھتے وقت ہر انسان ذہنی اعتبار سے مساوی ہوتا ہے لیکن فرق صرف انتا ہے کہ بعض افراد کی ذہنی ڈویلپ منٹ کے لیے اچھی خوراک، وسائل اور اسباب فراہم ہوتے ہیں جن کی بنا پر وہ ذہین ہو جاتے ہیں۔ اور ان کا ذہن جلدی رشد و نمو کرتاہے اور نئے نئے اختراعات کرتا ہے اور بعض افراد کو ایسے اسباب فراہم نہیں ہوتے۔لہذا ان کے ذہن کند ہو جاتے ہیں اور مٹی میں دبے لوہے کی طرح دھیرے دھیرے زنگ خوردہ ہو کر ناکارہ ہو جاتے ہیں اور سوچنے سمجھنے اورکچھ ایجاد کرنے کی صلاحیت ان کے اندر نابود ہو جاتی ہے۔ ذہن ایسی مشینری ہے اسے جتنا استعمال کیا جائے اتنی اس کی گارنٹی بڑھتی رہتی ہے۔ اس میں وسعت پیدا ہوتی ہے اور اگر اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے تو وہ بوسیدہ ہو کر بیکار ہو جاتا ہے۔

۶: جنسی تمایل؛ انسان طبیعی طور پر اپنے جنس مخالف کی طرف زیادہ مایل ہوتا ہے۔ مخصوصا نوجوان حد بلوغ سے لے کر بائیس تئیس سال تک حد سے زیادہ جنسی تمایل اور شہوت انگیزی کا شکار رہتے ہیں۔ اس دوران ان کی سوجھ بوجھ ناپختہ، اپنے نفع و نقصان کا احساس کمتر اور اپنی انا اور جوش و جذبہ کو دکھلانے کا شوق زیادہ رہتا ہے۔ حالانکہ یہی عمر ان کے بننے اور کسی مقام تک پہنچنے کی ہوتی ہے۔ جو نوجوان اس دوران جنسی مسائل میں الجھ جاتے ہیں وہ کسی بھی صورت میں پڑھائی لکھائی میں دھیان نہیں دے سکتے اس لیے کہ جنسی تمایل کا سب سے پہلا اٹیک اس کے دماغ اور فکر پر ہوتا ہے۔ انسان کی فکر ان چیزوں میں مشغول ہو جاتی ہے اور وہ ذہنی طور پر مفلوج ہو کر رہ جاتا ہے۔

آج کے دور میں نوجوان کو ذہنی طور پر مفلوج بنانے کے لیے الی ماشاء اللہ وسائل فراہم کیے جاتے ہیں جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں:

الف؛ بے پردگی اور طرح طرح کے فیشن؛ آج فیشن کی دنیا ہے ہر چیز فیشن بن چکی ہے خاص کر کے کپڑوں کے فیشن نے تو شرم و حیا کا جنازہ نکال دیا ہے دنیا میں مہنگائی کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ کم سے کم کپڑوں کا خرچہ تو کم ہو گیا ہے کہ ایک انڈر ویئر میں بھی کام چل سکتا ہے اور مہنگائی اسی کثرت سے بڑھتی رہی تو وہ بھی کھلے عام اتر جائے گا۔

فیشن پرستی کا سب سے زیادہ اثر نسل جوان پر ہوتا ہے جتنی عریانیت بڑھتی چلی جائے گی شہوت انگیزی میں اضافہ ہوتا رہے گا۔ نسل جوان کے ذہن انہیں الجھاو میں الجھتے رہیں گے سماج میں علمی ترقی کے بجائے برائیوں میں تیزی سے ترقی ہو گی جیسا کہ ہو بھی رہی ہے اور نتیجہ یہ نکلے گا کہ ایس ترقی آتش جہنم کو بھڑکانے کا سامان مہیا کرے گی۔

ب؛ ٹیلیویژن کے گندے پروگرام وغیرہ؛ نوجوانوں کی ترقی کی راہ میں ایک اہم رکاوٹ ٹی وی کے غیر مہذب پروگرام و چینلز ہیں اور یہ سامراج اور انگریزوں کی ایک اہم پالیسی ہے کہ نسل جوان کو ہر طریقہ سے شہوت پرستی اور جنسیات میں مشغول رکھا جائے تاکہ ان کے ذہن حکومتی نظام اور سرکار کی کارکردگی کی طرف متوجہ نہ ہوں وہ پڑھائی لکھائی میں آگے بڑھ ہی نہ سکیں انکی عقلوں پر شہوت کے پردے پڑے رہیں تاکہ ان کے اندر سامراجی اقتدار کی پالیسی درک کرنے کی سوجھ بوجھ پیدا ہی نہ ہو, ان کے خلاف کوئی آواز اٹھانے والا سامنے نہ آئے۔

اس پالیسی کے تحت دنیا بھر میں انگریزوں نے فحاشی ، بے پردگی، عریانیت اور سیکس فری جیسے بد افعال کو ہوا دی ہے جس سے انسانوں کے اندر حیوانیت عروج پا رہی ہے اور انسانیت قعر فنا میں گر چکی ہے۔

۶: علمی ترقی کے لیے امکانات کا فراہم نہ ہونا؛۔ اسکولوں کالجوں وغیرہ میں جدید ٹیکنالوجی کے وسائل مہیا نہیں ہیں حتی بعض اسکولوں میں تو بچوں کے بیٹھنے کے لیے فرش تک مہیا نہیں ہے اسکولوں کی یہ خستہ حالت بچوں کے شوق و جذبہ کو سست بناتی ہے اور دیگر وسائل کی کمی یا عدم فراہمی ان کی اس میدان میں پیشرفت کرنے میں رکاوٹ بتنی ہے۔

۷: غربت اور مفلسی: دور حاضر میں جتنی پڑھائی مہنگی ہو چکی ہے اتنا خود انسان مہنگا نہیں رہا۔ امیر اور پیسے والے لوگ اپنے بچوں کی پڑھائی میں طرح طرح کے جتن کر سکتے ہیں اور ان کی پیشرفت کے راستے آمادہ کر سکتے ہیں مگر غریب عوام بچاری کدھر جائیں حالانکہ ہندوستان کے اکثر عوام فقر اور مفلسی کا شکار ہیں۔

۸: دین اور مذہب سے کنارہ کشی: نسل جوان کے ہر موڑ پر پیچھے رہنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے نوجوان دین اور دینی تعلیمات سے کنارہ کش ہو گئے ہیں۔ دین سے وابستگی اور دینی تعلیمات سے آشنائی کا کم سے کم دنیوی فائدہ یہ ہے کہ انسان کی فکری رشد و نمو میں حد سے زیادہ مفید ثابت ہوتی ہیں۔ دین الہی سے دوری فکر میں جمود پیدا کرتی ہے اور دینی تعلیمات انسانی فکر کے دریچے کھول کر اسے کمال اور ترقی کے واقعی راستوں سے آگاہ کرتی ہے۔

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جہاں دنیوی فکر کی انتہا ہوتی ہے وہاں سے دینی فکر کی ابتدا ہوتی ہے اس لیے کہ دنیوی فکر کا خالق انسان ہے اور دینی فکر کا خالق خود انسان کا خالق ہے۔ تو ظاہر ہے کہ این کجا و آن کجا۔ اگر کوئی نوجوان تعلیمات دین کے سائے میں رہتے ہوئے دنیوی علوم سے استفادہ کرے گا تو تکامل کی راہ میں کامیابیاں اس کے قدم چومیں گی۔ لیکن دین سے دوری اختیار کر کے دنیوی علوم کے پیچھے جانے والا مادیت کے دلدل میں پھنس جائے گا اور سوائے چند مادی چیزوں کے کچھ بھی اس کے ہاتھ نہیں لگے گا۔

السلام علی من اتبع الہدیٰ

 

Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved

Fatal error: Exception thrown without a stack frame in Unknown on line 0