• تاریخ: 2011 جولائی 02

نوجوانوں کی ترقی کا راز


           


بیکراں ذخیرہ

جو نوجوان قرآن کی تعلیم حاصل کرتے ہیں انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ انہوں نے تا حیات فکری اور ذہنی ذخیرہ تیار کر لیا ہے۔ یہ بے حد قیمتی چیز ہے۔ ممکن ہے کہ نوجوانی کے ایام میں آيات قرآنی سے گہرے مفاہیم اور تعلیمات کا استنباط نہ ہو سکے اور نوجوان صحیح طور پر اس کا ادراک نہ کر پائے، ممکن ہے کہ نوجوان کو قرآنی تعلیمات کی بہت سطحی باتیں ہی سمجھ میں آ سکیں لیکن جیسے جیسے وہ علمی پیشرفت کرے گا اور اس کی معلومات میں اضافہ ہوگا وہ اپنے حافظے اور ذہن میں موجود آیات قرآنی سے اور زیادہ استفادہ کرنے کے لائق ہوگا۔ ذہن انسانی میں قرآن کا نقش ہو جانا بہت بڑی نعمت ہے۔ ایک شخص ہے جو کسی موضوع پر کوئی آيت تلاش کرنے کے لئے بارہا قرآن کی فہرست اور آیات کو متلاشی نظروں سے دیکھتا ہے اور دوسرا شخص ہے کہ آيات قرآنی اس کے ذہن و دل اور آنکھوں کے بالکل سامنے ہیں اور وہ انہیں با قاعدہ دیکھ رہا ہوتا ہے اور اسلامی تعلیمات کے ہر شعبے میں ضرورت کے مطابق وہ قرآن سے استنباط اور استدلال کرتا ہے، ان پر غور و فکر کرتا ہے اور ان سے استفادہ کرتا ہے، دونوں میں بہت فرق ہے۔ بچپنے اور لڑکپن سے لیکر نوجوانی تک قرآن سے انس بہت بڑی نعمت ہے۔


توکل بر خدا

نوجوانوں کو چاہئے کہ اللہ تعالی پر توکل کریں، اس سے طلب نصرت و مدد کریں، اپنے قلوب میں ایمان کو مضبوط کریں، یہ کامیابیاں بہت اہم ہیں، خود اس نوجوان کی شخصی کامیابی کے لحاظ سے بھی اور قومی کامیابی کی نظر سے بھی، انہیں چاہئے کہ ایمان کو کمزور کرنے والے عوامل و اسباب کو یہ موقع نہ دیں کہ وہ دیمک کی مانند ایمان کی جڑوں کو چاٹ جائیں۔

اللہ تعالی کی ذات پر توکل اور توجہ اس لئے ضروری ہے کہ آپ اپنے نفس اور اپنے دل کو مستحکم اور قوی بنا سکیں۔ واقعی اگر ہمارے اندر ہماری اندرونی ساخت محکم بنی رہی تو کوئی بھی بیرونی مشکل ہمیں مغلوب نہیں کر سکے گی۔ اپنے باطن اور اپنے دل کو اس طرح محکم بنانے کی ضرورت ہے کہ تمام ظاہری جسمانی اور ارد گرد کی خامیوں، کمیوں اور کمزوریوں پر قابو پایا جا سکے۔ یہ چیز توکل علی اللہ سے حاصل ہوتی ہے۔


جذبہ خود اعتمادی کی تقویت

نوجوانو کو چاہئے کہ اپنے طبقے کے اندر تلاش و جستجو، امید و بلند ہمتی، خود اعتمادی کے جذبے اور اس خیال کو کہ " ہم کچھ بھی کر سکتے ہیں" تقویت پہنچائیں۔ عربوں کے یہاں ایک کہاوت ہے " ادل دلیل علی امکان شیء وقوعہ" اس بات کی محکم ترین دلیل کہ ایک چیز دائرہ امکان میں ہے، یہ ہے کہ وہ چیز واقع ہو جائے۔ اس بات کی سب سے بڑی دلیل کہ ایرانی نوجوان نسل سائنس و ٹکنالوجی کے میدان میں نئی ایجادات کر سکتی ہے، علوم کی سرحدوں سے گزر سکتی اور اس کے آگے جا سکتی ہے، یہ ہے کہ ایرانی نوجوان نسل عملی طور پر ایسا کرکے دکھائے۔


علمی مساعی

نوجوانوں کو چاہئے کہ حصول علم کی راہ میں اور اپنی علمی توانائیاں بڑھانے کے سلسلے میں ہرگز کوئی کوتاہی نہ کریں۔ جو کامیابیاں حاصل کر چکے ہیں اس پر قناعت نہ کریں بلکہ اسے پہلا قدم ہی مانیں۔ نوجوان کوہ پیما کی مانند ہوتا ہے جسے چوٹی پر پہنچ جانے تک آگے بڑھنا ہی رہتا ہے۔ راستے کے شروعاتی پیچ و خم میں بسا اوقات آدمی کو پسینے چھوٹنے لگتے ہیں۔ ابتدائی کامیابیوں پر قانع نہیں ہونا چاہئے۔ نظریں چوٹی پر ٹکی ہونی چاہئے۔ محنت و مشقت کرنی چاہئے، دشواریوں اور سختیوں کو برداشت کرنا چاہئے تاکہ چوٹی کو فتح کیا جا سکے۔


وقت کا بھرپور استعمال

نوجوانوں کو چاہئے کہ وقت کا بہترین استعمال کریں۔ البتہ یہ چیز وقت کو منظم کئے بغیر ممکن نہیں ہے۔ انہیں چاہئے کہ بیٹھ کر اپنی سمجھ سے اپنا نظام الاوقات تیار کریں۔ نظام الاوقات کا مسئلہ یہ ہے کہ اس کا کوئی عمومی نمونہ نہیں ہے کہ میں کہوں کہ سارے لوگ اسی ایک نظام الاوقات کے مطابق کام کریں۔ ہر انسان اپنی عمر کے لحاظ سے، اپنی گھریلو زندگی کی مصروفیات کے لحاظ سے، اپنے وسائل کے لحاظ سے، اس شہر کے لحاظ سے جہاں وہ زندگی گزار رہا ہے، ممکن ہے کہ ایک مخصوص نظام الاوقات تیار کرے۔ نظام الاوقات ہر ایک کو تیار کرنا چاہئے اور اس کے ذریعے اپنے وقت کا بہترین استعمال کرنا چاہئے۔

خامنہ ای ڈاٹ آئی آر

Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved