• تاریخ: 2012 اپریل 16

جوان، قرآن کی روشنی میں


           


قرآن علوم  ومعارف کا ایسا گہرا دریا ہے جس میں غوطہ ور ہونا کسی عام انسان کے بس کی بات نہیں ،البتہ انبیاء الہی اور ائمہ طاھرین(ع) اس سے مستثنیٰ ہیں۔قرآن دروس وعبرت کی کتاب ہے جس سے ہر انسان اپنے وجود کی لیاقت اور اپنی روحی آمادگی کے نتیجہ میں بہرہ مند ہوسکتا ہے ۔ اور اس کی آیات پہ غور وفکر کرنے سے اپنے مطلوبہ کمال تک پہونچ سکتا ہے۔وہ افراد جو حق وحقیقت کی تلاش میں ہیں قرآن کے مطالعہ سے حق وحقیقت تک پہونچ سکتے ہیں کیونکہ قرآن ایک ایسی کتاب ہے جس میں ہر خشک وتر موجود ہے۔جیسا کہ خود قرآن میں ارشاد ہوتا ہے :"لا رطب ولا یابس الا فی کتاب کتاب مبین" [1]

انسان کو چاہئے کہ اپنے پورے وجود کے ساتھ عظمت قرآن کو سمجھے اور اسے اپنا امام وپیشوا قرار دے تاکہ فلاح وبہبودی اس کے شامل حال ہوسکے۔

قرآن کریم کی آیات میں ۱۰ مرتبہ "جوان" کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جن میں لفظ "فتی" یا ا س کے مشتقات کو استعمال کیاگیا ہے۔قرآن میں مذکورہ لفظ استعمال ہونے میں بہت سے نکات مضمر ہیں، منجملہ قرآنی ثقافت میں نوجوان"جوانمرد" کہلاتا ہے لہذا اسے جوانمردی کے اصول یعنی طہارت ،عفو وگذشت،شجاعت وشھامت کی رعایت کرنا چاہئے۔

مذکورہ لفظ اور اس کے مشتقات، قرآن میں متعدد افراد کے لئے استعمال ہوئے ہیں منجملہ کچھ موارد کی طرف اشارہ کیا جارہا ہے:

۱۔حضرت ابراہیم(ع)(انبیاء،۶۰)

۲۔۳۔حضرت موسی (ع) کے دوست اور رفیق(کھف،۶۰و۶۲)

۴۔حضرت یوسف(ع)(یوسف،۳)

۵۔زندان میں حضرت یوسف(ع) کے ساتھی(یوسف،۳۶)

۶۔۷۔اصحاب کھف(کھف،۱۰و۱۳)

۸۔حضرت یوسف(ع) کی بادشاہت کے دور میں ان کے خدمتگزار(یوسف،۶۲)

۹۔۱۰۔مومن کنیزیں (نساء،۲۵)و(نور،۳۳)

قرآن، حضرت ابراہیم (ع) کے بارے میں فرماتا ہے:"  قالوا سمعنا فتى يذكر هم يقال له ابراهيم" انہوں نے کہا کہ ہم نے ابراہیم نامی ایک جوان کا نام سنا ہے جو ہمارے خداؤوں کو برائی سے یاد کرتا تھا۔

بعض روایات کی بنا پر اس وقت جناب ابراہیم (ع) کی عمر سولہ سال تھی  لہذا آپ کے اندر  جوانمردی کی تمام خصوصیات پائی جارہی تھیں۔[2]

اصحاب کھف قرآن کی  نہایت جالب اور سبق آموز داستان ہے۔ دو موارد میں اصحاب کھف کو قرآن نے جوان کہا ہے: "اذ اٰوی الفتیۃ الی الکھف فقالوا ربنا اٰتنا من لدنک رحمۃ وھیّء لنا من امرنا رشداً"۔[3] جبکہ کچھ جوانوں نے غار میں پناہ لی اور یہ دعا کی کہ پروردگار ہم کو اپنی رحمت عطا فرما اور ہمارے لئے ہمارے کام میں کامیابی کا سامان فراہم کردے۔

"نحن نقص علیک نبأھم بالحق انھم فتیۃ امنوا بربھم وزدناھم ھدیٰ"[4]

ہم آپ کو ان کے واقعات بالکل سچے سچے بتارہے ہیں-یہ چند جوان تھے جو اپنے پروردگار پر ایمان لائے تھے اور ہم نے ان کی ہدایت میں اضافہ کردیا تھا۔

اصحاب کھف ۳۰۹ سال طولانی نیند کے بعد خدا وند متعال کے ارادہ سے بیدار ہوئے تاکہ قیامت اور مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے  کے سلسلے میں دلیل بن سکیں۔

قرآن نے ان افراد کو جوان کہہ کر پکارا ہے ۔امام صادق(ع) سے منقول ایک روایت میں آیا ہےکہ اصحاب کھف سب کے سب بوڑھے اورسن رسیدہ تھے لیکن خدا وندمتعال نے ان کے ایمان کی وجہ سے انہیں جوان کہا ہے۔ لہذا جو شخص خدا پہ ایمان لائے اور تقویٰ اختیار کرے وہ جوان اور جوانمرد ہوتا ہے۔[5]

منبع: راسخون ڈاٹ نٹ



[1] انعام / ۵۹

[2] تفسیر نمونہ،ج۱۳،ص۴۳۵و۴۳۶

[3] کھف/۱۰

[4] کھف/۱۳

[5] میزان الحکمہ ،ج۵،ص۱۰

Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved