• تاریخ: 2012 مارچ 29

جوانی، غنیمت ہے


           


قرآن:

اور جو کچھ خدا نے دیا ہے اس سے آخرت کے گھر کا انتظام کرو اور دنیا میں اپنا حصّہ بھول نہ جاؤ اور نیکی کرو جس طرح کہ خدا نے تمہارے ساتھ نیک برتاؤ کیا ہے اور زمین میں فساد کی کوشش نہ کرو کہ اللہ فساد کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا ہے[1]

اور یہ وہاں فریاد کریں گے کہ پروردگار ہمیں نکال لے ہم اب نیک عمل کریں گے اس کے برخلاف جو پہلے کیا کرتے تھے تو کیا ہم نے تمہیں اتنی عمر نہیں دی تھی جس میں عبرت حاصل کرنے والے عبرت حاصل کرسکتے تھے اور تمہارے پاس تو ڈرانے والا بھی آیا تھا لہٰذا اب عذاب کا مزہ چکھو کہ ظالمین کا کوئی مددگار نہیں ہے۔[2]

احادیث:

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم علی علیہ السلام کو سفارش کرتے ہوئے ہوئے چار چیزوں کی تاکید کررہے ہیں:اے علی بڑھاپے سے پہلے جوانی ،بیماری سے پہلے تندرستی،نیاز مندی سے پہلے بے نیازی اور موت سے پہلے زندگی کی قدر ومنزلت پہچان لو۔[3] 

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:انسان کو دنیا میں  آخرت ،زندگی میں موت اور جوانی میں بڑھاپے کے لئے زاد راہ فراہم کرنا چاہئے کیونکہ دنیا تم لوگوں کے لئے اور تم لوگ آخرت کے لئے پیدا کئے گئے ہو۔[4]

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:تمام امور اپنے زمانے کی زد میں ہیں۔[5]

امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں:جوانی کو بڑھاپے سے پہلے اور تندرستی کو بیماری سے پہلے درک کرو۔[6]

امام علی علیہ السلام نے فرمایا:دنیا بہت جلد نابود ہونی والی ہے اور جوانی بھی بہت جلد بڑھاپے میں تبدیل ہوجاتی ہے۔[7]

امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں:فرصتوں سے فائدہ اٹھاؤ اس لئے کہ بادلوں کی طرح بہت جلد گزر جاتی ہیں۔[8]

امام صادق علیہ السلام خدا وندمتعال کے اس قول "کیا ہم نے تمہیں اتنی عمر نہیں دی تھی جس میں عبرت حاصل کرنے والے عبرت حاصل کرسکتے تھے[9]" کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ قول اٹھارہ سالہ نوجوانوں کی مذمت میں ہے۔[10]

 



[1] قصص/۷۷

[2] فاطر /۳۷

[3] کتاب من لایحضرہ الفقیہ ،ج۴،ص۳۵۷،ح۵۷۶۴،الخصال: ص۲۳۹،ح۸۵

[4] تنبیہ الخواطر،ج۱،ص۱۳۱

[5] عوالی الاآلی ،ج۱،ص۲۹۳،ح۱۸۰

[6] غرر الحکم،ح۴۳۸۱

[7] غررالحکم،ح۹۶۸۹

[8] غررالحکم،ح۲۵۰۱

[9] فاطر،۳۷

[10] الخصال،ص۵۰۹،ح۲

Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved

Fatal error: Exception thrown without a stack frame in Unknown on line 0