• تاریخ: 2012 فروری 28

قرآن اور جوان


           


حرف ناشر
بچپنا اور نوجوانی انسان کی شخصیت اور اس کی فطری صلاحیتوں کے رشد ونمو کا دور ہوتا ہے جب کہ جوانی، بہار ، تروتازگی اور شادابی کا زمانہ ہوتا ہے۔ تاریخ کے نامور افراد نے نوجوانی اور جوانی میں اپنی شخصیت میں نکھار پیدا کیا تھا۔ قرآن جو ایک انسان ساز کتاب ہے ، بچپنے ، نوجوانی اور جوانی پر خاص توجہ دیتی ہے اس لیے اس نے زندگی کے ان حسین لمحات کے بارے میں کافی گفتگو کی ہے۔ اُن میں سے بعض منتخب آیات کو آپ کے سامنے پیش کرنے کی سعادت حاصل کررہے ہیں۔
شعبہ نشر و اشاعت
ادارہ التنزیل پاکستان
نوٹ: آیات کا ترجمہ علامہ ذیشان حیدر جوادی کے ترجمہ قرآن سے اخذ کیا گیا ہے۔


(
۱) طلاطلم موجوں میں بچہ
انِ اقذِ فِیہِ فِی التَّابُوتِ فَاقذِ فِیہِ فِی الیَمِّ ۔۔۔
(سورئہ طہ /
۹۳)
ترجمہ:
بچے کو صندوق میں رکھ دو اور پھر صندوق کو دریا کے حوالے کردو۔
پیغام:
ظالم اور ستمگر بچوں پر رحم نہیں کرتے اور انہیں بھی اپنے ظلم کا نشانہ بناتے ہیں۔ لیکن اگر خدا کی مدد ساتھ ہو تو جناب موسیٰ علیہ السلام بچپنے میں ہی طلاطم موجوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے مقصد تک پہنچ جاتے ہیں۔

(
۲) تپتے صحرا میں کم سن فرزند
رَبَّنَا اِنِّی اسکَنتُ مِن ذُرِّیَّتِی بِوَادٍ غَیرِ ذِی زَرعٍ۔۔۔
(سورئہ ابراہیم/
۷۳)
ترجمہ:
اے میرے پروردگار میں نے اپنی اولاد، بیوی کو اس بے گھیتی (خشک و تپتے صحرا) میں رہا کیا۔۔۔۔
پیغام:
جناب ابراہیم علیہ السلام نے اپنی زوجہ جناب ہاجرہ ؑاور اپنے بیٹے جناب اسماعیل علیہ السلام کو مکہ کے تپتے صحراءمیں چھوڑدیا ۔خداوند متعال نے ان کی کیا خوب میزبانی کی کہ جناب اسماعیل علیہ السلام کے قدم مبارک سے چشمہ جاری ہوگیا جو آج بھی عاشقوں کے لیے قبلہ گاہ ہے۔

(
۳) شیر خوار بچے کا مقام نبوّت پر فائز ہونا
قَالَ اِنِّی عَبدُ اللّٰلہِ اتٰانِی الکِتَابَ وَجَعَلَنِی
(سورئہ مریم/
۰۳)
ترجمہ:
بچہ (جناب عیسیٰ علیہ السلام )نے آواز دی کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اُس نے مجھے کتاب دی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے۔
پیغام:
اگر خدا چاہے تو بچہ گہواہ میں گفتگو کرسکتا ہے۔نبوت میں سن وسال کی کوئی قید نہیں اسی طرح دوسری ذمہ داریوں میںبھی جیسا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہّٰ علیہ و آلہ وسلم نے
۸۱ سالہ نوجوان کو لشکر اسلام کا سپاہ سالار بنایا تھا۔

(
۴) سختیاں اور نوجوان
۔۔۔ قَالَ یٰا بُشرَیٰ ھٰذٰا غَلَا۔
(سورئہ یوسف/
۹۱)
ترجمہ:
(اور وہاں ایک قافلہ آیا جس کے پانی نکالنے والے نے اپنا ڈول کنویں میں ڈالا تو) آواز دی ارے واہ یہ تو بچہ ہے۔۔۔۔
پیغام:
جو نوجوان اپنی زندگی کے ابتدائی مراحل میں سختیاں برداشت کرتا ہے اس کا مستقبل روشن ہوتا ہے جس طرح جناب یوسف علیہ السلام نے سختیاں برداشت کی، پہلے کنویں میں ڈال دیئے گئے پھر غلام بناکر بھیج دیئے گئے مگر ہرگز خدا کی رحمت سے مایوس نہ ہوئے۔

(
۵) ایک نوجوان کے لیے آگ کا سرد ہونا
قَالُوا حَرِّ قُوہُ وَانصُرُوا۔۔۔قُلنٰا یٰا نٰارُکُونِی بَردًا و سَلَامًا عَلٰی اِبراہِیمَ ۔
(سورئہ انبیاء/
۸۶، ۹۶)
ترجمہ:
ان لوگوں نے کہا کہ ابراہیم کو آگ میں جلادو اور اگر کچھ کرنا چاہتے ہو تو اس طرح اپنے خداو


¿ں کی مدد کرو۔۔۔تو ہم نے حکم دیا کے اے آگ ابراہیم کےلئے سرد ہوجا اور سلامتی کا سامان بن جا۔
پیغام:
نوجوانوں کی ایک خاصیت حق پرستی اور خرافات سے مقابلہ کرنا ہے جیسا کہ جناب ابراہیم علیہ السلام جوانی میں بت پرستی کے مقابلے میں کھڑے ہوگئے۔
نوجوان پاک و پاکیزہ دل رکھنے اور دنیا سے بے رغبتی کی وجہ سے دوسروں کی نسبت جلد ظلم و ستم کے خلاف کھڑے ہوکر اس راہ میں سختیاں برداشت کرتے ہیں ۔ ایسے میں خدا کی مدد ان کے ساتھ ہوتی ہے۔

 


(
۶) مبارز اور شجاع جوان
۔۔۔ اِنَّھُم فِتیَة ئَ امَنُوا بِرَبِّھِم وَزِدنَھُم ہُدًی۔
(سورئہ کھف/
۳۱)
ترجمہ:
۔۔۔یہ چند (مبارز) جوان (اصحاب کہف) تھے جو اپنے پروردگار پر ایمان لائے تھے اورہم نے ان کی ہدایت میں اضافہ کردیا تھا۔
پیغام:
جوانوں کی ایک خاصیت، ظلم کا خاتمہ اور عدالت کا قیام ہے۔ ان کا خدا پر ایمان انہیں ظلم و ستم کے خلاف جہاد میں تقویت دیتا ہے۔
کیا ہم اصحاب کہف کی طرح باایمان،پاک و پاکیزہ اور شجاع جیسی صفات کے مالک بن سکتے ہیں تاکہ مورد لطف و کرم پروردگار قرار پائیں۔

(
۷) مہربان جوان
وَ اِن کُنَّا لَخٰاطِئِینَ۔ قَالَ لَا تَثرِیبَ عَلَیکُمُ الیَومَ۔۔۔
(سورئہ یوسف/
۱۹، ۲۹)
ترجمہ:
(حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے کہا)اور ہم سب خطا کار تھے ۔ یوسفؑ نے کہا آج تمہارے اوپر کوئی الزام نہیں ہے۔۔۔۔
پیغام:
جناب یوسف علیہ السلام کے بھائی اُن سے نیکی اور اچھائی کا درس بھی لے سکتے تھے مگر ان کی جسارت نے انہیں جناب یوسفعلیہ السلام کے قتل پر آمادہ کردیا اسی غرض سے انہوں نے جناب یوسف علیہ السلام کو کنویں میں ڈال دیا۔
آخر کار جب جناب یوسف علیہ السلام بادشاہ مصر بنے تو ان کے بھائی ان کے سامنے فریاد کرنے لگے اور اپنے کیے پر معافی مانگنے لگے۔ یہ جناب یوسف علیہ السلام کی فراخدلی تھی کہ آپ نے اُن سب کو معاف کردیا۔

(
۸) صاحبِ کردار نوجوان
قَالَ رَبِّ السِّجنُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا تَدعُونَنِی۔۔۔
(سورئہ یوسف/
۳۳)
ترجمہ:
یوسف ؑنے کہا کہ پروردگار یہ قید مجھے اس کام سے زیادہ محبوب ہے جس کی طرف یہ لوگ دعوت دے رہے ہیں۔۔۔۔
پیغام:
اگر ایک صاحب کردار نوجوان کے سامنے دو راہیں ہوں تو وہ کون سی راہ کا انتخاب کرے گا۔یقینا وہ صحیح اور درست راہ کا انتخاب کرے گا۔

(
۹) نافرمانی اور جوان
قَالَ سَاوِی اِلٰی جَبَلٍ یَّعصِمُنِی مِنَ المٰائِ۔۔۔
(سورئہ ھود/
۳۴)
ترجمہ:
(حضرت نوح علیہ السلام کا بیٹا) اُس نے کہا کہ میں عنقریب پہاڑ پر پناہ لے لوں گا وہ مجھے پانی سے بچالے گا۔۔۔۔
پیغام:
اگر کوئی جوان راہ ِانحراف اختیار کرتا ہے تو گویا اُس نے انبیاءکی نافرمانی کی ہے چاہے وہ جوان نبی کا بیٹا ہی کیوں نہ ہو۔
جوان پاک و پاکیزہ دل کا مالک ہوتا ہے۔ لہٰذا شیطان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ ناتجربہ کار جوان کو راہ ِصحیح سے منحرف کردے۔

(
۱۰) بت شکن جوان
فَجَعَلَھُم جُذَاذًا اِلاَّ کَبِیرًا لَھُم۔۔۔
(سورئہ انبیائ/
۸۵)
ترجمہ:
پھر ابراہیمؑ نے ان کے بڑے کے علاوہ سب کو چور چور کردیا۔۔۔۔
پیغام:
جوانوں کی ایک خاص بات ان کا حق پرست ہوناہے جیسا کہ جناب ابراہیمعلیہ السلام نے اپنی جوانی میں بت پرستی سے مقابلہ کرکے حق پرستی کا بول بالا کردیا۔

(
۱۱) مدیریت اور جوان
قَالَ اجعَلنِی عَلٰی خَزٰائِنِ الارضِ اِنِّی حَفِیظ عَلِیم۔        (سورئہ یوسف / ۵۵)
ترجمہ:
یوسفؑ نے کہا کہ مجھے زمین کے خزانوں پر مقرر کردو بیشک میں محافظ بھی ہوں اور صاحب علم بھی۔
پیغام:
امانت داری اور ذمہ داری کو صحیح ادا کرنا، مدیریت کی دو شرطیں ہیں۔
ایک جوان اپنے دل کی پاکیزگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے امانت دار اوراپنے ذہن کی ترو تازگی اور شادابی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بہترین طالب علم بن سکتا ہے۔

(
۱۲) صابر و مطیع جوان
یٰا اَبَتِ افعَلمٰا تُومَرُ سَتَجِدُنِی اِنشَا اللّٰہُ مِنَ الصَّابِرِینَ۔
(سورئہ صافات/
۲۰۱)
ترجمہ:
بابا آپ کو جو حکم دیا جارہاہے اس پر عمل کریں انشاءاللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔
پیغام:
جناب اسماعیل علیہ السلام نے جناب ابراہیم علیہ السلام کے کہنے کے مطابق ”بیٹا میں خواب میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہیں ذبح کررہا ہوں“ قربانی کے لیے تیار ہوگئے۔ اس لیے کہ وہ یہ جانتے تھے جو کچھ پروردگار کی طرف سے ہے، وہ حق ہے۔

(
۱۳) حق پرست اور مبارز نوجوان
وَقَالَ مُوسَیٰ یٰا فِرعَونُ اِنِّی رَسُول مِّن رَّبِّ العٰالَمِینَ۔۔۔ فَارسِل مَعِیَ بَنِی اسرَائِیلَ۔
(سورئہ اعراف/
۴۰۱،۵۰۱)
ترجمہ:
اور موسیٰؑ نے فرعون سے کہا کہ میں رب العالمین کی طرف سے فرستادہ ہوں۔۔۔ لہٰذا بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دو۔
پیغام:
نوجوان کی خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ وہ ظلم و ستم کو برداشت نہیں کرتا اور اس کے خلاف کھڑا ہوجاتاہے۔ انبیاءکرامؑ کے اہم فرائض میں سے ایک ظلم کے خلاف قیام کرنا تھا جیسا کہ جناب ابراہیم علیہ السلام نے نمرور کے خلاف، جناب موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے خلاف اور جناب داود علیہ السلام نے جالوت کے خلاف قیام کیا۔

(
۱۴) پاکیزہ جوان، خاتون
وَمَریَمَ ابنَتَ عِمرٰانَ الَّتِی احصَنَت فَرجَھَا فَنَفَحنٰا فِیہِ مِن رُّوحِنٰا ۔۔۔
(سورئہ تحریم/
۲۱)
ترجمہ:
اور (مثال بیان فرمائی) مریم بنت عمران کی جس نے اپنی عفت کی حفاظت کی تو ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی۔۔۔۔
پیغام:
اگر کوئی مرد یا عورت پاک وپاکیزہ کردار کا مالک ہو تو خدا کی رحمت ہمیشہ اس کے شامل حال رہتی ہے۔

(
۱۵) مطیع و فرمانبردار
۔۔۔ قَالَ مَعَاذَ اللّٰہِ اِنَّہُ رَبِّی احسَنَ مَثوَیٰ ۔۔۔
(سورئہ یوسف/
۳۲)
ترجمہ:
(یوسفؑ نے) کہا کہ معاذ اللہ وہ میرا مالک ہے اس نے مجھے اچھی طرح رکھا ہے۔۔۔۔
پیغام:
جناب یوسف علیہ السلام نے خدا کی اطاعت کی لذت کو فعل حرام کی لذت پر ترجیح دی اور شیطان کے فریب میں نہ آئے اس لیے کہ شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ تمام نوجوانوں کو برائی میں مبتلا کردے لیکن صاحب کردار جوان، پاک و پاکیزگی کی دائمی لذت کو گناہ کی چند لحظے کی لذت پر ترجیح دیتا ہے۔

(
۱۶) استاد اور نوجوان شاگرد
قَال لَہُ مُوسَیٰ ھَل اَتَّبِعکَ عَلَیٰ ان تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمتَ رُشدًا۔                
(سورئہ کہف/
۶۶)
ترجمہ:
موسیٰ ؑنے اس بندے سے کہا کہ میں آپ کے ساتھ رہ سکتا ہوں کہ آپ مجھے اس علم میں سے کچھ تعلیم دیں جو رہنمائی کا علم آپ کو عطا ہوا ہے۔
پیغام:
ہمیں کمال تک پہنچنے کے لیے چاہیے کہ مسلسل تحصیل ِعلم کریں۔ معارف ِالٰہیہ کے حصول کے لیے اپنے اساتذہ کے سامنے متواضع رہنا چاہیے اور اُن سے سیکھیں۔
وہ علم اہمیت کا حامل ہے جو رشدِ معنوی کے لیے پیش خیمہ ہو۔

(۱۷) ورزش اور حصولِ علم
۔۔۔ قَالَ اِنَّ اللّٰہَ اصطَفَاہُ عَلَیکُموَ زَادَہُ بَسطَةً فِی العِلم

 ترجمہ:
۔۔۔نبی نے جواب دیا کہ انہیں اللہ نے تمہارے لیے منتخب کیا ہے اور علم و جسم میں وسعت عطا فرمائی ہے۔۔۔۔
پیغام:
ایک جوان کو چاہیے کہ ورزش کے ذریعہ اپنے آپ کو جسمانی لحاظ سے تندرست و توانا رکھے اور تحصیل علم کے ذریعہ آئندہ پیش آنے والی ذمہ داریوں کے لیے تیار رہے۔

(
۱۸) عقلمند نوجوان
اِنِّی وَجَّھتُ وَجھِیَ لِلَّذِی فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالارض

 ترجمہ:
میرا رخ تمام تر اُس خدا کی طرف ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے۔۔۔۔
پیغام:
جناب ابراہیم علیہ السلام نے سورج ، چاند اورستارہ کو دیکھا اور جب وہ غروب ہوگئے تو فرمایا کہ جو غروب ہوجائے وہ میرا خدا نہیں ہوسکتا ہے۔
اس واقعہ سے یہ درس ملتا ہے کہ جو چیز بھی فنا ہونے والی ہو اُس سے دل نہیں لگانا چاہیے۔

(
۱۹) شادی اور محنت کش جوان
قَال اِنِّی اُرِیدُ ان اُنکِحَکَ اِحدَی ابنَتَیَّ۔۔۔
(سورئہ قصص/
۷۲)
ترجمہ:
انہوں نے کہا کہ میں ان دونوں میں سے ایک بیٹی کا عقد آپ سے کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔
پیغام:
جب جناب شعیب علیہ السلام نے یہ دیکھا کہ موسیعلیہ السلام ایک نیک اور محنت کش جوان ہے تو اُن سے اپنی بیٹی کے عقد کےلئے کہا۔ جناب موسیعلیہ السلام نے ان کی اس فرمائش کو قبول کرتے ہوئے اپنی روزی اور شادی کا مسئلہ حل کرلیا۔

(
۲۰) ہدایت یافتہ اور گمراہ
۔۔۔ فَتُقُبِّلَ مِن احَدِھِمَا وَلَم یُتَقَبَّل مِنَ الاٰخَرِ۔۔۔
(سورئہ مائدہ/
۷۲)
ترجمہ:
(جب حضرت آدم علیہ السلام کے دونوں فرزندوں نے قربانی دی) ایک (حضرت ہابیل علیہ السلام )کی قربانی قبول ہوگئی اور دوسرے (قابیل) کی نہ ہوئی۔۔۔۔
پیغام:
جوانی، ارادوں اور فیصلوں کا دور ہوتا ہے جو شخص اپنی جوانی میں انحراف کا شکار ہوجائے وہ تباہ ہوجاتا ہے جیسا کہ قابیل نے حسد کیا اور اپنے بھائی ہابیل کو قتل کرکے تاریخِ بشر کا سب سے پہلا قتل کیا ہے۔

(
۲۱) فریب کار جوان
وَجائُ و عَلٰی قَمِیصِہِ بِدَمٍ کَذِبٍ قَالَ بَل سَوَّلَت

ترجمہ:
اور (حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی)یوسف ؑکے کرتے پر جھوٹا خون لگا کر لے آئے، یعقوب ؑنے کہا کہ یہ بات صرف تمہارے دل نے گڑھی ہے۔۔۔۔
پیغام:
جھوٹ اور فریب کاری کا جلد ہی پتہ چل جاتا ہے۔جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ وہ دوسروں کو دھوکہ دے رہا ہے در حقیقت وہ اپنے آپ کو دھوکہ دیتا ہے۔

Altanzil.net

 

Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved