• تاریخ: 2012 جنوری 07

جوانوں سے ائمہ معصومین علیہم السلام کی وصیت


           


اہلبيت (ع) کی و صيتیں



اے جوانو ! اس گذرگاہ سے وہاں كے لئے فراہم كرلو، اپنے پردہ حيا كو اس كے سامنے چاك نہ كرو جو تمھارے اسرار سے بھى باخبر ہے، اس دنيا سے اپنے دلوں كو نكال لو قبل اس كے كہ تمھارے جسموں كو نكالا جائے ( امالى صدوق روايت طاؤس يماني)_

عمرو بن سعيد بن بلال ميں امام باقر (ع) كى خدمت ميں حاضر ہوا اور ميرے ساتھ ايك جماعت اور تھى ، آپ نے فرمايا كہ تم لوگ معتدل امت بنو كہ آگے بڑھ جانے والے تمھارى طرف پلٹ كر آئيں اور پيچھے رہ جانے والے تمھارى طرف پلٹ كر آئيں اور پيچھے رہ جانے والے تم سے ملحق ہوجائيں _

شيعيان آل محمد(ص) عمل كرو عمل كہ ہمارے اور خدا كے درميان كوئي رشتہ دارى نہيں ہے اور نہ ہمارا خداپر كوئي حق ہے، اس كا تقرب صرف اطاعت سے حاصل ہوتاہے ، جو اس كى اطاعت كرے گا اسے ہمارى محبت فائدہ پہنچائے گى اور جو اس كى معصيت كرے گا اسے ہمارى محبت سے بھى كوئي فائدہ نہ ہوگا_

اس كے بعد حضرت نے ہمارى طرف رخ كركے فرمايا خبردار دھوكہ ميں نہ رہنا اور عمل ميںسستى نہ كرناميں نے عرض كيا كہ حضور يہ نمرقہ وسطى (معتدل امت) كيا ہے؟ فرمايا كيا تم نہيں ديكھتے ہو كہ حد اعتدال كو ايك مخصوص فضيلت حاصل ہوتى ہے_( مشكوة الانوار ص 60 ، شرح الاخبار 3 ص 502 / 1440)_

جابر امام باقر (ع) سے روايت كرتے ہيں كہ حضرت نے مجھے سے فرمايا، جابر كيا ہمارے شيعہ بننے والے لوگ اس بات كو كافى سمجھتے ہيں كہ ہمارى محبت كا دعوى كرديں، خدا گواہ ہے كہ ہمارا شيعہ صرف وہ ہے جو اللہ سے ڈرے اور اس كى اطاعت كرے_

جابر ہمارے شيعہ تواضع ، خضوع و خشوع، امانتدارى ، كثرت ذكر خدا، روزہ ، نماز ، احسان والدين ، ہمسايہ كے فقراء و مساكين كے حالات كى نگرانى ، قرضداروں كے خيال ، ايتام كى سرپرستى ، سچائي ، تلاوت قرآن ، حرف غلط سے پرہيز اور سارے قبيلہ كے امين ہونے كى بنياد پر پہچانے جاتے ہيں_

جابر نے عرض كى مولا پھر تو آج كل كوئي شيعہ نہيں ہے، فرمايا جابر تمھارا خيال ادھر ادھر نہ جانے پائے، سوچو كيا يہ بات كافى ہوسكتى كہ كوئي شخص محبت على (ع) كا دعوى كردے اور عمل نہ كرے، اس سے بہتر تو يہ ہے كہ محبت رسول (ص) كا دعوى كردے جن كا مرتبہ على (ع) سے بالاتر ہے، تو كيا سنت و سيرت پيغمبر (ص) سے انحراف كرنے والوں كو يہ دعوى محبت فائدہ پہنچا سكتاہے؟ ہرگز نہيں _

اللہ سے ڈرو اور خدا كے لئے عمل كرو، خدا كى كسى سے قرابتدارى نہيں ہے ، اس كى نظر ميں محبوب ترين اور محترم ترين انسان وہ ہے جو سب سے زيادہ پرہيزگار اور اطاعت گذار ہو_

جابر خدا كى قسم تقرب الہى عمل كے بغير ممكن نہيں ہے، ہمارے پاس جہنم سے بچنے كا كوئي پروانہ نہيں ہے اور نہ ہمارا خدا پر كوئي حق ہے، جو اللہ كا اطاعت گذار ہوگا ہمارا دوست ہوگا، اور جو اس كى معصيت كرے گا وہ ہمارا دشمن ہوگا ، ہمارى ولايت و محبت عمل اور تقوى كے بغير حاصل نہيں ہوسكتى ہے_( كافى 2 ص 74 /3 ، امالى صدوق 499 /3 ، صفات الشيعہ 90 / 422 ، تنبيہ الخواطر 2 ص 185 امالى طوسى 296 / 582)_

امام باقر (ع) ديكھو تقوى كے ذريعہ ہمارى مدد كرو اس لئے كہ جو تقوى لے كر خدا كى بارگاہ ميں حاضر ہوتاہے اسے كشائشے احوال مل جاتى ہے، پروردگار كا ارشاد ہے، جو خدا و رسول كى اطاعت كرے گا وہ ان لوگوں كے ساتھ رہے گا جن پر خدا نے نعمتيں نازل كى ہيں، انبياء و مرسلين،شہدائ، صديقين اور يہ سب بہترين رفيق ہيں_( نساء 69 ) اور ہمارے گھرانے ميں نبي، صديق ، شہداء اور صالحين سب پائے جاتے ہيں_( كافى 2 ص 78 /12 روايت ابوالصباح الكناني)_

امام باقر (ع) نے فضيل سے فرمايا كہ ہمارے چاہنے والوں سے ہمارے اسلام كہہ دينا اور كہنا كہ تقوى كے بغير تمھارے كام آنے والے نہيں ہيں لہذا اپنى زبانوں كى حفاظت كرو، اپنے ہاتھوں كو روك كر ركھو اور صبر اور صلوة سے وابستہ رہو كہ خدا صبر كرنے والوں كے ساتھ ہے_( تفسير عياشى 1 ص68 / 123 ، دعائم الاسلام 1 ص 133 ، مستطرفات السرائر 74 / 517 مشكوة الانوار ص 44)_

امام صادق (ع) يابن جندب ہمارے شيعوں كو ہمارا سلام پہنچا دينا اور كہنا كہ خبردار ادھر ادھر كے چكر ميں نہ رہنا ، خدا كى قسم ہمارى محبت تقوى اور كوشش عمل كے بغير حاصل نہيں ہوسكتى ہے، برادران ايمانى سے ہمدردى علامت محبت ہے، وہ ہمارا شيعہ ہرگز نہيں ہے جو لوگوں پر ظلم كرے_( تحف العقول ص 303)_

امام صادق (ع) تمھارا فرض ہے كہ تقوى الہى ، احتياط ، مشقت عمل ، صدق حديث ، اداء امانت، حسن اخلاق، حسن جوار كا راستہ اختيار كرو، لوگوں كو اپنى طرف زبان كے بغير دعوت دو ، ہمارے لئے زينت بنو اور باعث عيب نہ بنو، ركوع و سجوع ميں طول دو كہ جب كوئي شخص ركوع و سجود ميں طول ديتاہے تو شيطان فرياد كرتاہے كہ صد حيف اس نے اطاعت كى اور ميں نے معصيت كى ، اس نے سجدہ كيا اور ميں نے انكار كرديا تھا_( كافى 2 ص 77 /9 از ابواسامہ)_

امام صادق (ع) ہمارے شيعو ہمارے لئے زينت بنو، عيب نہ بنو، لوگوں سے اچھى باتيں كرو، زبانوں كو محفوظ ركھو اور اسے فضول و بيہود ہ باتوں سے روك كر ركھو _( امالى صدوق 336 / 17 ، امالى طوسى 440 / 987، بشارة المصطفى 10 ص 70 از سليمان بن مہران )_

امام صادق (ع) لوگوں كو زبان كے بغير دعوت خير دو، وہ تمھارے كردار ميں تقوى ، سعى عمل ، نماز اور خيرات كو ديكھيں كہ يہ بات خود دعوت خير ديتى ہے_( كافى 2 ص 78 / 14 ، از ابن ابى يعفور)_

امام صادق (ع) نے مفضل سے فرمايا كہ ميرے شيعوں سے كہہ دينا كہ ہمارى طرف لوگوں كو دعوت ديں اس طرح كہ محرمات سے پرہيز كريں، معصيت نہ كريں اور رضائے الہى كا اتباع كريں كہ اگر وہ ايسے ہوجائيں گے تو لوگ دوڑ كر ہمارى طرف آئيں گے _( دعائم الاسلام 1 ص 58 ، شرح الاخبار 3 ص 506 / 1453)_

امام صادق (ع) خبردار تم لوگ كوئي ايسا عمل نہ كرنا جس كى بنا پر لوگ ہميں برا كہيں، اس لئے كہ نالائق بيٹے كے اعمال پر باپ ہى كو برا كہا جاتاہے، جن كے درميان رہتے ہوا ن كے لئے ہمارے واسطے زينت بنو، باعث عيب نہ بنو( كافى ص 219 / 11 ، روايت ہشام كندي)_

رضویہ ڈاٹ نٹ

Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved