• تاریخ: 2011 دسمبر 14

جوانی کے خطرات


           

جوانی کے خطرات

انسان کی زندگی کا پر خطر دور جوانی ہے ،اس دور میں انسان کو ہر طرح کے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں،انسان کی جوانی میں دو اہم خطرے حسب ذیل ہیں:

۱۔انحرافات کے امکانات

کیونکہ انسان جوانی میں ہر عمل انجام دینے کی طاقت رکھتا ہے اور وہ تمام میدانوں میں سرگرم رہنے پہ قادر ہے لہذا اس کی گمراہی کے احتمالات بھی بہت زیادہ پائے جاتے ہیں،اس بنا پر جوانی، زندگی کا سب سے پر خطر دور ہے اور اگر انسان اس دور میں محتاط نہ رہے تو وہ جوانی کے پرطلاطم دریا میں ڈوب بھی سکتا ہے،جوانی میں انسان کے اندر مکمل تشخیص کی صلاحیت نہیں پائی جاتی،اسی وجہ سے اہل بیت علیھم السلام نے جوانی کو دیوانگی کی شاخ قراردیا ہے:

" الشّبابُ شُعبۃٌ من الجُنونِ"[1]   جوانی دیوانگی کی ایک شاخ ہے۔

 امام علی علیہ السلام جوانی کی مستی کی نسبت ہوشیار رہنے کی تاکید کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

" ینبغی للعاقلِ اَن یحترس من سُکر المالِ۔۔۔۔۔۔۔۔[2]    ہر عاقل کے لئے مناسب ہے کہ وہ مال،قدرت ،علم، تعریف اور جوانی کی مستی سے اپنی حفاظت کرے کیونکہ مذکورہ تمام چیزوں میں ایسی آلودہ خوشبو پائی جاتی ہے جو انسان کی عقل کو زائل اور اس کے وقار کاخاتمہ کردیتی ہے۔

جوانی کی مستی بہت پر خطر ہے کیونکہ جوان تجربہ کی دولت سے خالی ہوتا ہے اور اس کی افکار میں بھی پختگی نہیں پائی جاتی،جس کے نتیجہ میں وہ بہت خطرناک اعمال انجام دینے کے لئے تیار ہوجاتاہے۔جیسا کہ حضرت علی علیہ السلام کے ایک کلام میں اس نکتہ کی جانب اشارہ کیا گیاہے اور آپؑ نے ایک جوان کو ناتجربہ کار ہونے کے نتیجہ میں قابل عفو وبخشش قرار دیا ہے۔

امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں"جھل الشاب معذور وعلمہ محقور"[3]  جوان کی جہالت کا عذر مقبول ہے اور اس کی دانائی ناچیز ہے۔

اس بنا پر جوانی کے خطرات بہت زیادہ ہیں،اور عاقل انسان ان خطرات سے خود کو محفوظ رکھتا ہے اور اس کی ہمیشہ یہ کوشش رہتی ہے کہ اس پرخطر مرحلہ سے سلامتی کے ساتھ گذر جائے ۔

ایک دن پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں کے ایک جماعت سے فرمایا:

" کیف بکم اذا فسدت نساءکم وفسق شبابکم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔[4]  ایک ایسا زمانہ آئے گا جب تمہاری عورتیں بدکار اور تمہارے جوان گنہگار ہوجائیں گے اور تم لوگ امر بہ معروف اور نہی از منکر کو ترک کردو گے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ کیا ایسا زمانہ بھی آئے گا؟آپؐ نے فرمایا" اس سے بھی بدتر زمانہ آئے گا، جب تم لوگ منکر کا حکم دو گے اور معروف کی نہی کرو گے،آپؐ سے کہا گیا کہ کیا ایسا زمانہ بھی آئے گا؟ آپؐ نے فرمایا"اس سے بھی برا وہ زمانہ ہوگا جب تم لوگ معروف کو منکر اور منکر کو معروف کا نام دوگے۔

اس مسئلہ کا حد سے زیادہ خطرہ ہے کیونکہ پیغمبر اسلام نے جن شرائط کو بیان کیا ہے ان میں باایمان اور  سالم زندگی کا مالک ہونا بہت مشکل ہے۔  

 پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا" اذا جاءکم من ترضون خلقُہ ودینہ فزَوّجوہ۔۔۔[5]

جب کوئی ایسا شخص آپ کی بیٹی کے خواستگاری کے لئے آئے جس کا اخلاق ودین آپ کے نزدیک اچھا ہو تو اس سے اپنی بیٹی کی شادی کردو،اگر تم نے ایسا نہ کیا تو زمین میں ایک ایسا عظیم فساد برپا ہونے کا امکان ہے۔

پیغمبر اسلام نے اس کلام میں دو اہم چیزوں کی  جانب اشارہ کیا ہے:

۱۔آپؐ کے نزدیک اخلاق اوردین اہم ہیں لہذا آپؐ نے ثروت ،مال وغیرہ کے بارے میں گفتگو نہیں کی، لیکن موجودہ دور میں مادیات ہی کو سب سے پہلا معیار قرار دیاجاتا ہے ،درحقیقت اگر  کوئی شخص دین اور اخلاق کا مالک ہو تو اس سے بڑھ کر کون سی ثروت ہوسکتی ہے ؟

۲۔شادی اور دین کی حفاظت میں بہت گہرہ رابطہ پایا جاتا ہے اور شادی جیسے مقدس امر میں تاخیر،فتنہ وفساد کا باعث بنتا ہے ۔

لہذا اگر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمودات پہ عمل کیا جائے تو اس کے نتیجہ میں بہت سے انحرافات اور جوانی کے خطرات سے نجات مل سکتی ہے۔

۲۔جوانی میں بے کاری

جوانی تلاش وجستجو کی بہار ہے، اہل بیت علیھم السلام کی نظر میں تلاش وسرگرمی کی بہت اہمیت ہے لیکن اگر اس میں قربت الٰہی کا پہلو بھی پایا جاتا ہو اس کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے،مثال کے طور پر اہل وعیال کی ضروریات کو پوارکرنا اور خدا کی راہ میں جہاد کرنا،

امام صادقؑ نے فرمایا:

"الکادُ علیٰ عیالہ کالمجاھد فی سبیل اللہ"[6]  اپنے اہل وعیال کی ضروریات کو پورا کرنے کی تلاش کرنے والا ،خدا کی راہ میں جہاد کرنے والے مجاہد کی مانندہے۔

ایک دن پیغمبر اسلام اپنے اصحاب کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ آپؐ کی نظر ایک پرتلاش وسرگرم جوان پہ پڑی جو کام میں مشغول تھا،اصحاب نے کہا: اس پہ افسوس! اے کاش اس جوان کی نوجوانی خدا کی راہ میں ہوتی؟ پیغمبر اسلامؐ نے فرمایا: ایسا نہ کہو،اگر وہ اپنی ضروریات کو پورا کرنے کی خاطر کام میں مشغول ہے تاکہ وہ لوگوں کا محتاج نہ ہو،تو وہ خدا کی راہ میں کام کررہاہے اور اگر وہ اپنے والدین کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے کام کررہا ہے تو بھی اس کا کام خدا کی راہ میں ہے،لیکن اگر اس کا یہ عمل مال ودولت جمع کرنے کی خاطر ہے تو وہ راہ شیطان میں مشغول ہے۔

 بےکاری دوسروں پہ بوجھ بننے اور معاشرے میں فسادات کا باعث بنتی ہے، وہ انسان جو ہمیشہ کام میں مشغول ہے وہ توفیق الہی سے مستفید ہوتے ہوئے تمام برائیوں سے محفوظ رہتا ہے۔ بہرحال جوانی ایک ایسا دور ہے جس میں انسان خیر ونیکی کی راہ پر گامزن ہوسکتا ہے اور تمام قسم کی برائیوں کا مقابلہ بھی کرسکتا ہے ۔

منبع: جوان وجوانی در سیرۂ اہل بیتؑ   



[1] من لا یحضرہ الفقیہ،ج۴،ص۳۷۷

[2] مستدرک الوسائل،ج۱۱،ص۳۷۱

[3] تحف العقول،ص۱۲۴

[4] کافی ،ج۵،ص۵۹

[5] تہذیب الاحکام ،ج۷،ص۳۹۶

[6] گزشتہ حوالہ

Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved