• تاریخ: 2011 دسمبر 14

نوجوان، سیرت اہل بیتؑ کی روشنی میں


           

نوجوان، سیرت اہل بیتؑ کی روشنی میں

جب ہم پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے اہلبیت کی سیرت کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں ان کی سیرت سے بہت اہم نکات اور  درس حاصل ہوتے ہیں ۔جب پیغمبر اسلام نے اپنی نبوت کا اعلان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دور جاپلیت کی بہت سی سنّتوں کا خاتمہ کیا،منجملہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خواتین کو بہت اہمیت کا حامل بنایا اور نوجوانوں پہ خاص توجہ وعنایت فرمائی ،اسی وجہ سے آپ پہ ایمان لانے والوں میں سب سے پہلے نوجوانوں او ر غلاموں کا شمار ہوتا ہے۔ کفر وشرک کے روساء نے اس مسئلہ کو حربہ کے طور پر استعمال کیااورپیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں کہنے لگے کہ اس نے ہمارے نوجوانوں کو گمراہ کردیا ہے اورہمارے آباء و اجداد کی سیرت سے ہٹا کر وہ انہیں دوسرے راستوں کی طرف دعوت دےرہا ہے جن کا ہمارے آباء واجداد کی سیرت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

تفسیر قمی میں اس آیت ،،وعجبوا اَن جاءَھم منذِرٌ منھم،،[1] کے ذیل میں آیاہے کہ:

،،ںزلت بمکۃَ لَمّا اظھر رسولُ اللہ الدعوۃَ بمکّۃ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔[2]یہ آیت مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ جب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی دعوت کو مکہ میں آشکار کیا تو قریش کا بہت بڑا مجمع اکٹھا ہوکر ابو طالب کے پاس آیا،اور آپ سے عرض کیا کہ آپ کے بھتیجےنے پماری نیندیں اڑا دی ہیں،ہمارے خداؤ ں کا مسخرہ کررہا ہے اور ہمارے نوجوانوں کو گمراہ کردیا ہے اور ہمارے اتحاد میں رخنہ ڈال دیا ہے۔ اگر یہ عمل فقر وناداری کی بنا پر انجام پارہاہے تو ہم اتنا زیادہ مال اسے عطا کریں گے کہ وہ قریش میں سب سے زیادہ مالدار بن جائے گا  اور اسے ہم اپنا بادشاہ بنا لیں گے(لیکن اگر وہ اس رائے کو تسلیم کرے )ابوطالب نے جب اس رائے کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا تو آپؐ نے جواب میں فرمایا:اگر سورج کو میرے داہیں اور چاند کو میرے بائیں ہاتھ میں رکھ دیں تب بھی میں ان کی رائے کو تسلیم کرنے سے انکار کروں گا۔لیکن اگر وہ مجھ سے ایک کلمہ قبول کرلیں تو وہ انہیں عرب وعجم کے درمیان صاحب کرامت بنا دے گااور وہ اس کے نتیجہ میں جنّت کے مستحق بھی ہو سکتے ہیں،ابو طالب نے یہ بات ان تک پہونچائی تو وہ کہنے  لگےکہ ہم ایک کلمہ کے بجائے دسیوں کلمات  سننے کے لئے تیار ہیں۔ رسول خدا صلی اللہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ ایک کلمہ یہ ہے کہ تم لوگ گواہی دو کہ خدائے واحد کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس کا رسول ہوں۔انہوں نے کہا کہ ہم ۳۶۰خداؤں کو چھوڑ کر صرف ایک خدا کی عبادت کرنے لگیں؟!لہذا انہوں نے پیغمبر اسلام کی بات نہ سنی اور آپ کو ساحر وجادو گر کہنے لگے۔

حضرت رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جاہلیت کی سنّت اور اس زمانے میں رائج روش کے خلاف جنگوں اور دیگر امور کی کمانڈ، بہت سے نوجوانوں کے سپرد کردی جس کی وجہ سے بعض بوڑھے مسلمان اعتراض کرنے لگے ،منجملہ،اسامہ بن زید اور عتیب بن اسید کی فرماندہی پر بھی اعتراض ہوا۔جنہیں تاریخ اسلام کے مشہور واقعات میں سے شمار کیا گیا ہے۔

 

اسامہ کی حکمرانی

ابن سعد نے ،،طبقات الکبریٰ ،،یعقوبی نے اپن تاریخ اور دیگر حضرات نے بھی اس داستان کو تفصیل کے ساتھ نقل کیا ہے ۔ابن سعد لکھتے ہہں،مہاجرین واںصار میں لشکر اسامہ میں تمام عزت دار اور نامور افراد موجود تھے،منجملہ،ابوبکر،عمر،ابو عبیدہ جراح،سعد بن ابی وقاص،سعید بن زید،قتادہ بن نعمان اور سلمہ بن اسلم بن حریش وغیرہ۔کچھ افراد نے پیغمبر اسلام ؐ پہ اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ آپؐ نے مہاجرین وانصار پہ اس نوجوان کو برتری عطاکی ہے ۔رسول خدا صلی اللہ وآلہ وسلم ناراضگی کی حالت میں منبر پہ گئے اور اعتراض کرنے والے تمام افراد کو مخاطب قراردیتےہو ئے فرمایا:

،،ولئن طعنتم فی امارتی اسامۃ لقد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،[3]

اگر تم لوگوں نے اسامہ کی حکمرانی پہ اعتراض کیا ہے تو اس سے قبل ان کے باپ کی حکمرانی کے سلسلے میں بھی تم لوگ ایسا کر چکے ہو،خدا کی قسم وہ اس مقام کے مستحق ہیں جس طرح ان کے باپ اس کے مستحق تھے۔

جب اسامہ کو حکمرانی ملی ہے تو اس وقت ان کی عمر صرف سترہ سال تھی،[4]اسی وجہ سے خلیفہ اول کو یہ گوارا نہ ہوا اور پیغمبر اسلامؐ کی رحلت کے بعد انہیں اس مقام سے معزول کردیا،پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم نے بوڑھوں کے ہوتے ہوئے نوجوان اسامہ کو خاص اہمیت دی اور ان تمام لوگوں کے اعتراض کا منہ توڑ جواب دیا۔

عتاب بن اسید کی حکمرانی

پیغمبر اسلام نے ایک اور شخصیت جسے نوجوانی کے دوران حکمرانی کے اہم منصب کے لئے انتخاب کیا ،وہ عتاب بن اسید ہیں،جنہیں مکہ کا حکمران بنایا گیا،لیکن بقیہ افرادنے  اس موضوع سے بہت نا راضگی کا اظہار کیا اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہ اعتراض کیا لیکن پیغمبر اسلام نے انہیں حکمرانی کے لئے شائستہ قرار دیتے ہوئے اعتراض کرنے والوں کو منہ توڑ جواب دیتے ہوئے فرمایا:

،،تم میں سے کوئی ان کی کمسنی کو دلیل قرار دیتے ہوئے ان کی مخالفت نہ کرے کیونکہ صاحب فضیلت وہ نہیں ہے جو عمر کے لحاظ سے بڑا ہو بلکہ جو صاحب فضیلت ہے وہ بڑا ہے لہذا اس کے مخالفین کو دردناک عذاب کا منتظر رہنا چاہئے ،عتاب ہمارے دوستوں کا دوستدار اور ہمارے دشمنوں کا دشمن ہے ،اسی وجہ سے میں نےاسے تمہاراامیر قراردیا ہے ،وہ انسان خوش نصیب ہے جو اس کی پیروی کرے،،۔[5]

امام علیؑ اور نوجوان غلام

امام علیؑ اور دیگر ائمہ اطہار کی سیرت میں بھی نوجوانوں کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہےان موارد میں سے ایک مورد امام باقرؑ سے منقول ایک مشہور روایت ہے، داستان اس طرح سے ہے کہ ایک دن علیؑ بازار میں پیراہن خریدنے گئے توآپ نے دو پیراہن خریدے ایک کو دو درہم اور ایک کو تین درہم میں خریدا،وہ پیراہن جو تین درہم کا تھا اسے قنبر کو دیا،خاندان وحی میں تربیت پانے والے قنبر نے عرض کی ،یہ پیراہن آپ کے مناسب ہے کیونکہ آپ کا سروکار منبر ومسجد سے ہے ۔علیؑ نے قبول نہیں کیا اور فرمایا:

تم جوان ہو اور تمہارے دل میں جوانی کے مطالبات پائے جاتے ہیں، مجھے خدا کی بارگاہ میں تم پہ برتری سے شرم آتی ہے۔[6]

علی علیہ السلام کس طرح ایک نوجوان کی چاہتوں کو اہمیت دہتے ہیں،اور وہ بھی ایک غلام کے عنوان سے رہنے والے نوجوان کو ،جب کہ اس زمانے میں کسی جگہ پہ غلاموں کو اہمیت نہیں دی جاتی تھی،اور انہیں حیوانوں سے بھی بدتر سمجھا جاتا تھا، ہاں پیغمبر نے بھی نوجوان بلال کو جو ایک سیاہ غلام تھے اپنے انصار میں سےقرار دیا اور انہیں اپنامؤذن بنا دیا۔اسی وجہ سے حقائق تک پہونچے میں نوجوان، پیغمبر صلی اللہ کی ہمراہی میں سب سے آگے تھے۔

منبع:جوان وجوانی در سیرۂ اھل بیتؑ

 

 

 

 



[1] ص،آیہ،۴

[2] تفسیر قمی،ج۲،ص۲۲۸

[3] طبقات الکبریٰ ،ج۲،ص۱۹۰

[4] یعقوبی،تارریخ الیعقوبی،ج۲،ص۱۱۳

[5] بحا رالانوار،ج۲۱،ص۱۲۳

[6] مستدرک الوسائل،ج۳،ص۲۵۷

Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved

Fatal error: Exception thrown without a stack frame in Unknown on line 0