روزانہ کی حدیث
« اِنَّ قَلِیلَ العَمَلِ مَعَ العِلمِ کَثِیرٌ وَ کَثِیرَ العَمَلِ مَعَ الجَهلِ قَلِیلٌ »
نهج الفصاحه ، حدیث 873
کار اندک که با بصیرت و دانش انجام گیرد بسیار است و کار بسیار که با نادانی صورت پذیرد اندک است .
  • تاریخ: 2013 جنوری 28

اہل بیتؑ امت مسلمہ کے لئے امان ہیں


           

 

اخرج ابن ابی شیبۃ ،و مُسدَّد فی مسندیہما ،والحکیم الترمذی ،فی نوادر الاصول ،و ابو یعلی و الطبرانی ،عن سلمۃ بن اکوع ؛ قال: قال رسول اﷲ[ص]:((النجوم امان لاہل السماء و اہل بیتی امان لامتی ))
ترجمہ:۔ابن ابی شیبہ(۱) اور مسدد (۲)نے اپنی اپنی ’’ مسندوں‘‘ میں اور حکیم ترمذی (۳)نے اپنی کتاب’’ نوادر الاصول ‘‘میں نیز ابو یعلی و طبرانی نے سلمہ بن اکوع (۴)سے نقل کیا ہے کہ رسول اسلام نے فرمایا : جیسے اہل آسمان کیلئے ستارے باعث امان ہیں اسی طرح میری امت کیلئے میرے اہل بیتؑ امن و نجات کے مرکز ہیں ۔ (۵) 


دو چیزوں سے تمسک رکھنے والا کبھی گمراہ نہ ہوگا 
اخرج البزار ، عن ابی ہریرۃ ؛ قال: قال رسول اﷲ [ص] :((انی خلفت فیکم اثنین لن تضلوا بعد ہما کتاب اﷲ و نسبتی و لن یفترقا حتی یردا علیَّ الحوض))
بزار (۶)نے ابو ہریرہ (۷)سے نقل کیا ہے کہ رسول خدا[ص] نے فرمایا : میں تمھارے درمیان دو چیزیں چھوڑ رہا ہوں ان کے ہو تے ہوئے تم ہرگز گمراہ نہیں ہوگے ،اور وہ کتاب خدا اور میرا نسب ہے(یعنی میری نسل اور عترت) جو کبھی بھی ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے ،یہاں تک کہ وہ باہم حوض کوثر پر میرے پاس وارد ہوں گے ۔(۸) 

E 
F ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسناد و مدار ک کی تحقیق :
(۱)ابو بکر عبد ﷲبن محمد بن ابی شیبہ ابراہیم بن عثمان کوفی ؛ موصوف ۱۵۹ ؁ ھ میں پیدا ہوئے، اور ۲۵۳ ؁ ھ میں وفات پائی ، آپ مقام رصافہ میں استاذ تھے ، اور آپ کااپنے زمانہ کے مشہور محدثین میں شمار ہوتا تھا ، آپ کے حالات زندگی درج ذیل کتابوں میں ملاحظہ کریں : 
طبقات ابن سعد ج ۶،ص ۲۷۷ ۔ فہرست ندیم ص۲۲۹۔ تاریخ بغداد ج ۱۰ ص ۱۷ ، ۶۶۔ تذکرۃ الحفاظ ج ۲،ص ۴۳۳، ۴۳۲۔ شذارات الذہب ج۲،ص ۸۵۔ 
(۲) ابو الحسن مسدد بن مُسَرْ ہد اسدی بصری ؛ یہ وہ فرد ہیں جن سے ابوذرعہ ، بخاری ، ابوداؤد ، قاضی اسمعیل ، اور ابو حنیفہ وغیرہ نے حدیثیں نقل کی ہیں ، آپ پہلے وہ فرد ہیں جنھوں نے بصرہ میں مسند کی تالیف پر کام شروع کیا ، چنانچہ آپ کو اپنے زمانہ کا امام المصنفین اور حجت کہا جاتا ہے ، آپ کی امام احمد بن حنبل سے خط و کتابت جاری رہتی تھی ، آپ کی موت ۲۲۸ ؁ ھ میں واقع ہوئی ، بقیہ حالات زندگی درج ذیل کتابوں میں ملاحظہ کریں: 
طبقات حنابلہ ج۱، ص ۴۵۳ ، ۳۴۱ ۔ الاعلام ج ۸، ص ۱۰۸۔ ابن سعد ج ۶،ص ۲۷۷ ۔
(۳) ابو عبد اﷲ محمد بن علی بن حسن بن شیر ملقب بہ حکیم ترمذی ؛ آپ کا خراسان کے بزرگ اساتذہ میں شمار ہوتا تھا ، آپ اپنے باپ اور قتیبہ بن سعید و دیگر لوگوں سے حدیث نقل کرتے تھے، آپ کی اہم ترین تالیف نوادر الاصول فی معرفۃاخبار الرسول ، ختم الولایہ ، علل الشریعہ والفروق ہیں ،آپ کی موت ۲۸۵ ؁ ھ میں ہوئی ، بقیہ حالات زندگی درج ذیل کتابو میں ملاحظہ کریں: 
طبقات الشا فعیہ حنابلہ ج۲، ص۲۰۔ الاعلام ج ۷، ص۱۵۶۔ معجم المؤلفین ج۱۰، ص ۳۱۵۔
(۴)سلمہ بن عمرو بن اکوع ؛ آپ عرب کے مشہور شجاع لوگوں میں سے تھے ، آپ کی پیدائش ہجرت کے چھ سال قبل ہوئی ، اور بیعت الشجرہ میں رسول کے ہاتھوں پر جان نثاری کی غرض سے بیعت کی ، اور رسول کے ساتھ سات جنگوں میں شریک ہوئے ، اور ۷۴ ؁ ہجری میں وفات پائی ، آپ کے بقیہ حالات زندگی درج ذیل کتابوں میں ملاحظہ کریں: 
الاصابۃ ج ۳، ص ۱۱۸۔ طبقات ابن سعد ج ۴،ص ۳۸ ۔ 
(۵)مذکورہ حدیث حسب ذیل کتابوں میں بھی نقل کی گئی ہے : 
مستدرک الصحیحین ج ۳، ص ۴۵۷۔ 
جو حدیث اس کتاب میں نقل ہوئی ہے اس کے الفاظ میں تھوڑا سا فرق پایا جاتا ہے .
کنزالعمال ج ۶، ص۶۱۲۔ ج۷، ص ۲۱۷۔ مجمع الزوائد ج ۹،ص ۱۷۴۔ ( نقل از طبرانی ) 
محب الدین طبری ؛ ذخائر العقبی ص ۱۷۔ 
محب الدین طبری نے اس حدیث کوحضرت علی ۔ سے نقل کیا ہے کہ رسول خدا نے فرمایا: 
’’النجوم امان لاہل السماء فاذا ذہبت النجوم ذہب اہل السماء و اہل بیتی امان لاہل الارض فاذا ذہب اہل بیتی ذہب اہل الارض‘‘۔
ستارے آسمان والوں کیلئے امان ہوتے ہیں لہٰذا جب بھی ستارے آ سمان سے ختم ہوجائیں تو آسمان والے بھی ختم اور نابود ہوجائینگے، اسی طرح میرے اہل بیت اہل زمین کیلئے امان ہیں لہٰذا اگر اہل بیت روئے زمین سے چلے جائیں تو اہل زمین کا بھی خاتمہ ہوجائیگا .
اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد طبری کہتے ہیں: یہ حدیث میں نے احمد بن حنبل کی کتاب المناقب سے نقل کی ہے . 
(۶) ابو بکر احمد بن عمرو بن عبد الخالق بزار بصری مؤلفِ ’’ المسند‘‘ ؛ آپ نے بصرہ سے بغداد کی طرف ہجرت کی ، اور وہاں پر محدث جیسے عہدے پر فائز ہوگئے ، دوبار اصفہان سفر کیا ، اور سہلہ میں ۲۹۱ ؁ ھ میں وفات پائی ، آپ کے بقیہ حالات زندگی درج ذیل کتابوں میں ملاحظہ کریں: 
تذکرۃ الحفاظ ج۲ ، ص ۶۵۴، ۶۵۳۔ ذکر اخبار اصفہان ج ۱، ص ۱۰۴ ۔ لسان المیزان ج۱، ص ۲۳۷۔ تاریخ بغداد ج۴، ص ۳۳۴۔ 
(۷)ابو ہریرہ عبد الرحمن بن صخر ( یا عمیر بن عامر ) دوسی ؛ دور جاہلیت میں موصوف کا نا م عبد الشمس تھا ، اور آپ فتح خیبر کے موقع پر مدینہ آئے، اور ۷ ؁ ھ میں اسلام قبول کیا ، انھوں نے اگر چہ رسول کی ساتھ بہت کم زما نہ گزارا ہے مگر آپ نے دیگر تمام صحابہ سے زیادہ حدیثیں نقل کی ہیں !ابن حجر کہتے ہیں: اہل حدیث کے عقیدہ کے لحاظ سے ابوہریرہ سب سے زیادہ حدیث نقل کرنے والے فرد ہیں ، بہر حال آپ کی وفات ۵۸ ؁ ھ میں ہوئی ، بقیہ حالات زندگی درج ذیل کتابوں میں ملاحظہ کریں: 
الاصابۃ ج ۲، ص ۲۰۷ ، ۱۹۹۔ تذکرۃ الحفاظ ج۱، ص ۳۷، ۳۲ ۔ 
حضرت ابو ہریرہ کے مزید حالات معلوم کرنے کیلئے کتاب ابو ہریرہ مؤلفہ عبد الحسین شرف الدین دیکھئے .مترجم .
(۸) مذکورہ حدیث درج ذیل کتابوں میں بھی موجود ہے : 
زوائد مسند بزار ص ۲۷۷۔ مجمع الزوائد ج۹،ص ۱۶۳۔ 

ماخذ: کتاب "احیاء ا لمَیْتْ بفضائل اہل البیتْ [ع]" ,علامہ شیخ جلال الدین سیوطی 

ترجمہ ، محمد منیرخان ہندی لکھیم پوری .مجمع جہانی اہل البیت علیہم السلام 

 

Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved