روزانہ کی حدیث
« اِنَّ قَلِیلَ العَمَلِ مَعَ العِلمِ کَثِیرٌ وَ کَثِیرَ العَمَلِ مَعَ الجَهلِ قَلِیلٌ »
نهج الفصاحه ، حدیث 873
کار اندک که با بصیرت و دانش انجام گیرد بسیار است و کار بسیار که با نادانی صورت پذیرد اندک است .
  • تاریخ: 2013 جنوری 28

رسول کے قرابتداروں کی مودت ہی اجر رسالت ہے


           

 

اخرج سعید بن منصور فی سننہ ، عن سعید بن جبیر، فی قولہ تعالی :
( قُلْ لَا اَسْءَلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْراً اِلَّاالْمُوَدَّۃَ فِیْ الْقُرْبٰی ) قال:قربی رسول اﷲ [ص]. 
سعید بن منصور (۲)نے اپنی سنن میں سعید بن جبیر (۳)سے آیۂ مودت: 
( قل لااسئلکم علیہ اجراًالاالمودۃ فی القربی)
(اے رسول !تم ان سے کہہ دو کہ میں اس (تبلیغ رسالت )کا اپنے قرابتداروں کی محبت کے سوا تم سے کوئی صلہ نہیں مانگتا)(۴)کی تفسیرمیں نقل کیا ہے کہ’’ القربی‘‘ سے مراد؛رسول اسلام [ص] کے قرابتدار ہیں ۔(۵)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسناد ومدارک کی تحقیق:
(۱)محترم قارئین! جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ علمائے اہل سنت کی اصطلاح میں قول ، فعل اورتقریر رسول کو حدیث کہا جاتا ہے ، اسی طرح رسول کے خَلقی اور خُلقی اوصاف نیز صحابہ اور تابعین کے کلام کو بھی اہل سنت کے یہاں حدیث کہا گیا ہے . 
ڈاکٹرنورالدین عتر؛ منہج النقد،ص ۲۷۔ دکتر صبحی الصالح؛علوم الحدیث ومصطلحہ،ص ۴۲۶۔ 
لیکن شیعہ علماء کی اصطلاح میں حدیث وہ کلام ہے جو معصوم کے فعل ، قول اور تقریرکی حکایت کرے .
سید حسن الصدر الکاظمی ؛نہایۃ الد رایۃ،ص۸۰۔شیخ عبد اﷲ مامقانی ؛مقباس الہدایہ فی علم الدرایۃ جلد۱،ص۵۹۔
(۲)ابو عثمان سعید بن منصور بن شعبۂ خراسانی یا طالقانی؛ آپ جوزجان میں متولد ہوئے، اور بلخ میں پرورش پائی،اور آپ نے دیگر ممالک کی طرف متعددسفر کیا ، آخر کار مکہ میں سکونت اختیار کی ،اور یہیں ۲۲۷ ؁ ھ میں وفات پائی ،امام مسلم نے ان سے روایت نقل کی ہے ، ان سے مروی احادیث کتب صحاح ستہ میں بھی دیکھی جا سکتی ہیں ، بقیہ حالات زندگی حسب ذیل کتابوں میں دیکھئے: 
تذکرۃالحفاظ ،جلد۱، ص ۴۱۷،۴۱۶۔ تاریخ البخاری ،جلد ۲ ، ص ۴۷۲۔ الجرح والتعدیل جلد ۱ ، ص۶۸۔ مختصر تاریخ دمشق ،جلد ۶، ص ۱۷۵۔تہذیب التہذیب جلد ۳ ، ص ۸۹ ، ۹۰.
(۳)ابو محمد سعید بن جبیر بن ہشام اسدی والبی؛آپ ۴۶ ؁ ھ میں پیدا ہوئے ،اور ۹۵ھ ؁ میں ۴۹ ؍سال کے سن میں حجاج بن یوسف ثقفی کے ہاتھوں قتل ہوئے،آپ کی شہادت کے بعد ابن جبیر نے عبد اﷲ بن عباس اور عبد اﷲ بن عمر کی شاگردی اختیار کی ، یہ جملہ تابعین میں بہت ہی بلند پایہ کے عالم دین شمار کئے جاتے ہیں ، اور انھیں تفسیر قرآن لکھنے والے گروہ میں قدیم ترین مفسر قرآن مانا جاتا ہے، بقیہ حالات زندگی حسب ذیل کتابوں میں دیکھئے: 
تذکرۃالحفاظ ،جلد۱، ص ۷۷،۷۶۔ طبقات ابن سعد جلد ۶،ص۲۶۷،۲۵۶۔ الجرح والتعدیل جلد ۱ ، ص۹۔تہذیب التہذیب جلد ۴ ، ص۱۴،۱۱.
(۴) سورۂ شوری آیت ۲۳ .
(۵)مذکورہ حدیث کو درج ذیل علمائے اہل سنت نے بھی نقل کیا ہے:
سیوطی ؛ تفسیردر منثور ج ۶ ، ص۷.حسکانی ؛ شواہد التنزیل جلد۲، ص ۱۴۵. حاکم؛مستدرک الصحیحین جلد۳ ، ص ۱۷۲. ابن حجر ؛ صواعق محرقۃ ص ۱۳۶۔ طبری ؛ ذخائر العقبی ص۹۔

ماخذ: کتاب "احیاء ا لمَیْتْ بفضائل اہل البیتْ [ع]" ,علامہ شیخ جلال الدین سیوطی 
ترجمہ ، محمد منیرخان ہندی لکھیم پوری .مجمع جہانی اہل البیت علیہم السلام

 

Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved