روزانہ کی حدیث
« اِنَّ قَلِیلَ العَمَلِ مَعَ العِلمِ کَثِیرٌ وَ کَثِیرَ العَمَلِ مَعَ الجَهلِ قَلِیلٌ »
نهج الفصاحه ، حدیث 873
کار اندک که با بصیرت و دانش انجام گیرد بسیار است و کار بسیار که با نادانی صورت پذیرد اندک است .
  • تاریخ: 2012 اپریل 17

سید المرسلین ۖ کی علمی میراث کے چند نمونے


           
سید المرسلین ۖ کی علمی میراث کے چند نمونے
١۔ عقل و علم
١۔رسولۖ نے عقل کو بہت زیادہ اہمت دی ہے ، آپۖ نے اس کو پہچنوایا اور زندگی میں اس کے اثر و کردار کو بھی بیان کیا ہے یعنی ذمہ داری وفرائض، کام اور اس کی جزاء کی وضاحت کی ہے اسی طرح ان اسباب کو بھی بیان کیا ہے جن سے عقل میں رشد و تکامل پیدا ہوتا ہے ۔ فرماتے ہیں:
''ان العقل عقال من الجھل،و النفس مثل اخبث الدواب، فان لم یعقل حارت، فالعقل عقال من الجھل، و ان اللّہ خلق العقل، فقال لہ: اقبل فاقبل، و قال لہ : ادبر فادبر، فقال لہ اللہ تبارک و تعالیٰ: و عزتی و جلالی ما خلقت خلقاً اعظم منک ولا اطوع منک، بک ابدی و اعید، لک الثواب و علیک العقاب''
فتشعب من العقل الحلم و من الحلم العلم، و من العلم الرشد، و من الرشد العفاف، و من العفاف الصیانة، و من الصیانة الحیائ، ومن الحیاء الرزانة و من الرزانة المداومة علیٰ الخیر، و کراھیة الشر، و من کراھیة الشر طاعة الناصح۔
فھذہ عشرة اصناف من انواع الخیر، و لکل واحد من ھذہ العشرة الاصناف عشرة انواع...''۔(١)
..............
١۔ تحف العقول باب مواعظ النبی و حکمہ۔
عقل جہالت و نادانی کے لئے زنجیر ہے اور نفس پلید ترین جانور کے مانند ہے اگر اسے باندھا نہیں جائے گا تووہ بے قابو ہو جائے گا، لہذا عقل نادانی کے لئے زنجیر ہے ۔ بیشک خدا نے عقل کو پیدا کیا اور اس سے فرمایا: آگے بڑھ تووہ آگے بڑھی، کہا: پیچھے ہٹ وہ پیچھے ہٹ گئی تو خدا وند عالم نے فرمایا: میں اپنی عزت وجلال کی قسم کھاتا ہوں کہ میںنے تجھ سے عظیم اور تجھ سے زیادہ اطاعت گذار کوئی مخلوق پیدا نہیں کی ہے ۔ تجھ سے ابتداکی ہے اور تیرے ہی ذریعہ لوٹائوںگا۔ تیرے لئے ثواب دیا ہے او رتیری مخالفت کی وجہ سے عذاب کیا جائے گا۔
پھر عقل سے بردباری و جود میں آئی اور برد باری سے علم پیدا ہوا اور علم سے رشدو ہدایت و حق جوئی نے جنم لیا اور رشد سے پاک دامنی پیدا ہوئی اور عفت و پاکدامنی سے صیانت -بچائو اور تحفظ کا جذبہ ابھرا، صیانت سے حیا پیدا ہوئی اور حیاء سے سنجیدگی اور وقار نے وجود پایا، سنجیدگی سے نیک کام پر مداومت کرنے اور شر سے نفرت کرنے کا حوصلہ پیدا ہوا اور شر سے کراہت کرنے سے ناصح کی ا طاعت کا شوق پیدا ہوا۔
چنانچہ خیر و نیکی کی یہ دس قسمیں ہیں اور ان میں سے ہر ایک کی دس قسمیں اور دس صنفیں ہیں...
٢۔رسولۖ نے زندگی میں علم کی ضرورت کو بیان کرتے ہوئے اس کی اہمیت بتائی ہے اور تمام کمالات کے مقابلہ میں اس کی قدر و قیمت پر زور دیا ہے :
''طلب العلم فریضہ علیٰ کل مسلم، فاطلبوا العلم من مظانہ، و اقتبسوہ من اھلہ ، فان تعلیمہ للّہ حسنة، و طلبہ عبادة، و المذاکرة بہ تسبیح، و العمل بہ جہاد، و تعلیمہ من لا یعلمہ صدقة، و بذلہ لاھلہ قربة الیٰ اللّٰہ تعالیٰ؛ لانہ معالم الحلال و الحرام، و منار سبل الجنة، و المؤنس فی الوحشة، و الصاحب فی الغربة و الوحدة، و المحدث فی الخلوة، و الدلیل علی السراء و الضرائ، و السلاح علیٰ الاعداء ، و الزین عند الاخلائ۔ یرفع اللّہ بہ اقواماً، فیجعلھم فی الخیر قادة، تقتبس آثار ھم، و یھتدی بفعالھم، و ینتھی الیٰ رایھم، و ترغب الملائکة فی خلتھم۔ باجنحتھا تمسحھم، و فی صلاتھا تبارک علیہم۔ یستغفر لھم کل رطب و یابس، حتی حیتان البحر و ھوامہ، و سباع البر و انعامہ۔ ان العلم حیاة القلوب من الجھل، و ضیاء الابصار من الظلمة، و قوة الابدان من الضعف۔ یبلغ بالعبد منازل الاخیار، و مجالس الابرار، والدرجات العلی فی الدنیا والآخرة۔ الذکر فیہ یعدل بالصیام، و مدارستہ بالقیام۔ بہ یطاع الرب ، و بہ توصل الارحام، و بہ یعرف الحلال و الحرام۔ العلم امام العمل و العمل تابعہ۔ یلھمہ السعداء ، و یحرمہ الاشقیائ، فطوبی لمن لم یحرمہ اللّٰہ منہ حظہ 
و صفة العاقل ان یحلم عمّن جھل علیہ، و یتجاوز عمّن ظلمہ، و یتواضع لمن ھو دونہ، و یسابق من فوقہ ف طلب البر۔ و اذا اراد ان یتکلم تدبّر، فان کان خیراً تکلم فغنم، و ان کان شرّاً سکت فسلم، و اذا عرضت لہ فتنة استعصم باللہ، و امسک یدہ و لسانہ، و اذا رأی فضیلة انتھز بھا۔ لا یفارقہ الحیائ، و لا یبدو منہ الحرص، فتلک عشر خصال یعرف بھا العاقل۔
و صفة الجاہل ان یظلم من خالطہ و یتعدی علیٰ من ھو دونہ، و یتطاول علیٰ من ھو فوقہ۔ کلامہ بغیر تدبر، ان تکلم اثم، و ان سکت سھا، و ان عرضت لہ فتنة سارع الیھا فاردتہ، و ان راء فضیلة اعرض عنھا و ابطأ عنھا۔ لا یخاف ذنوبہ القدیمة، ولا یرتدع فیما بق من عمرہ من الذنوب۔ یتوانی عن البرّ و یبطیٔ عنہ، غیر مکترث لما فاتہ من ذلک او ضیّعہ ، فتلک عشر خصال من صفة الجاہل الذ حُرِم العقل۔''(١)
علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے پس علم کو اس کی جگہ سے حاصل کرو اور صاحب علم ہی سے علم حاصل کرو، کیونکہ خدا کے لئے تعلیم دینا نیکی ہے اور اس کا طلب کرنا عبادت ہے ۔ علمی بحث و مباحثہ تسبیح ہے اور اس پر عمل کرنا جہاد ہے اور نہ جاننے والے کو علم سکھانا صدقہ ہے اور اہل کے لئے اس سے خرچ کرنا تقرب خدا ک
..............
١۔ بحار الانوار ج١ص١٧١ طبع موسسة الوفائ، تحف العقول: ٢٨ طبع موسسہ النشر الاسلامی۔

باعث ہے ، کیونکہ اس سے حلال و حرام کی پہچان ہوتی ہے ۔ یہ جنت کے راستہ کا منارہ ہے ، وحشت میں مونس ومددگار ہے ، غربت و سفر میں رفیق و ساتھی ہے اور تنہائی میں دل بہلانے والا ہے ،خوشحالی و مصیبت میں رہنماہے ، دشمن کے خلاف ہتھیار ہے ،دوستوں کی نظر میں زینت ہے ، اس کے ذریعہ خدا نے قوموںکو بلند کیا ہے انہیں نیکی کا راہنما قرار دیا ہے ان کے آثار کو جمع کیا جاتا ہے اور افعال سے ہدایت حاصل کی جاتی ہے ان کی رایوں سے آگے نہیں بڑھا جاتا، ملائکہ ان سے دوستی کا اشتیاق رکھتے ہیں اور اپنے پروں سے انہیں مس کرتے ہیں اور اپنی نماز میں ان کے لئے برکت کی دعا کرتے ہیں، ہر خشک و تر ان کے لئے استغفار کرتا ہے یہاں تک کہ دریا کی مچھلیاں اور اس کے جانور اورخشکی کے درندے اور چوپائے بھی ان کے لئے مغفرت کی دعا کرتے ہیں۔ علم دلوں کی زندگی، آنکھوں کا نور اور بدن کی قوت ہے علم بندے کو اخیار کی منزلوں، ابرار کی مجالس اور دنیا وآخرت کے بلند درجات پر پہنچا دیتا ہے ۔ اس میں ذکر، روزہ کے برابر ہے اور ایک دوسرے کو پڑھکر سنانا قیام کے مانند ہے ، اس کے ذریعہ خدا کی اطاعت کی جاتی ہے صلۂ رحمی کی جاتی ہے ، اس کے وسیلہ سے حلال و حرام کی معرفت ہوتی ہے ، علم عمل کا امام ہے اور وہ اس کا تابع ہے ، اس سے نیک بخت لوگوں کو نوازا جاتا ہے ، بدبختوں کو اس سے محروم کیا جاتا ہے ، پس خوش نصیب ہے وہ شخص کہ جس کو خدا نے اس سے محروم نہیں کیا۔
عاقل کی صفت یہ ہے کہ وہ جہالت سے پیش آنے والے کے ساتھ بردباری سے پیش آتا ہے اور جو اس پر ظلم کرتا ہے وہ اس سے در گزر کرتا ہے ، اپنے سے چھوٹے کے ساتھ انکساری سے پیش آتا ہے اور نیکی کرنے میں اپنے سے بڑے پر سبقت لے جاتا ہے ۔ جب لب کشائی کرنا چاہتا ہے تو سوچ لیتا ہے اگر اس میں بھلائی ہوتی ہے تو بولتا ہے اور فائدہ اٹھاتا ہے اور اگر بولنے میں کوئی برائی محسوس کرتا ہے تو خاموش رہتاہے اورغلطیوں سے محفوظ رہتا ہے جب اس کے سامنے کوئی امتحانی منزل آتی ہے تو وہ خدا سے لو لگاتا ہے اپنی زبان اور اپنے ہاتھوں پر قابو رکھتا ہے، کوئی فضیلت دیکھتا ہے تو اسے سمیٹ لیتا ہے ، حیا سے دست کش نہیںہوتا، حرص اس میں دیکھنے میں نہیں آتی پس یہ دس خصلتیں ہیں جن کے ذریعہ عاقل پہچانا جاتا ہے ۔
جاہل کی صفت یہ ہے کہ جو اس سے گھل مل جاتا ہے یہ اس پر ظلم کرتا ہے ، اپنے سے چھوٹے پر زیادتی کرتا ہے ، اپنے بڑے کی نافرمانی کرتا ہے ، اس کے ساتھ گستاخی سے پیش آتا ہے، اسکی بات بے تکی ہوتی ہے، بولتا ہے تو گناہ کرتا ہے اور چپ رہتا ہے تو غافل ہو جاتا ہے ۔ اگر فتنہ کے روبرو ہوتا ہے تو اس کی طرف دوڑ پڑتاہے اور اسی وجہ سے ہلاک ہو جاتا ہے ، اگر کہیں کوئی فضیلت نظر آتی ہے تو اس سے روگردانی کرتا ہے۔ اس کی طرف بڑھنے میں سستی کرتا ہے ، وہ اپنے پہلے گناہوں سے نہیں ڈرتا ہے اور باقی ماندہ عمر میں گناہ ترک نہیں کرتا نیک کام کی انجام دہی میں سستی کرتا ہے اور جو نیکی اس سے چھوٹ گئی یا ضائع ہو گئی ہے اس کی پروا نہیں کرتا ۔ یہ صفت اس جاہل کی ہے جو عقل سے محروم ہے ۔

 منارۂ ہدایت،جلد ١ (سیرت رسول خداۖ)           سیدمنذر حکیم ا ور عدی غریباوی (گروہ تالیف مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام )

Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved