روزانہ کی حدیث
« اِنَّ قَلِیلَ العَمَلِ مَعَ العِلمِ کَثِیرٌ وَ کَثِیرَ العَمَلِ مَعَ الجَهلِ قَلِیلٌ »
نهج الفصاحه ، حدیث 873
کار اندک که با بصیرت و دانش انجام گیرد بسیار است و کار بسیار که با نادانی صورت پذیرد اندک است .
  • تاریخ: 2013 جنوری 28

قرآن اللہ کی محکم رسی ہے


           

قالَ الإمامُ عليٌّ عليه السلام : خَطَبَ رسولُ اللّه ِ صلى الله عليه و آله فقالَ :
   
امام على عليه السلامنے فرمایا: پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے ایک خطبہ میں ارشاد فرمایا:
    
لا خَيرَ في العَيشِ إلاّ لِمُستَمِعٍ واعٍ أو عالِمٍ ناطِقٍ . أيُّها الناسُ ! إنّكُم في زَمانِ هُدنَةٍ  و إنّ السَّيرَ بِكُم سَريعٌ  
  
زندگی میں کوئی خیر نہیں ہے مگر یہ کہ وہ سمجھدار سامع کے لیے ہو یا سخنور عالم کے لیے ہو۔ اے لوگو تم ساکن اور آرام زمانے میں ہو اور تمہیں سرعت کی طرف لے جا رہے ہیں۔
و قد رَأيتُمُ اللَّيلَ و النَّهارَ يُبلِيانِ كُلَّ جَديدٍ  و يُقَرِّبانِ كُلَّ بَعيدٍ  و يَأتِيانِ بكُلِّ مَوعودٍ  فَأعِدُّوا الجِهادَ لِبُعدِ المِضمارِ. 
  
آپ اس بات کے گواہ ہیں کہ دن رات ہر نئے کو پرانا کر دیتے ہیں اور دور کو نزدیک کر دیتے ہیں اور ہر عہد و پیمان کا وقت لے آتے ہیں لہذا میدان جہاد کے لیے اپنے آپ کو آمادہ کرو۔   
فقالَ المِقدادُ : يا نَبِيَّ اللّه ِ! ما الهُدنَةُ ؟ قالَ : بَلاءٌ و انقِطاعٌ  فإذا التَبَسَتِ الاُمورُ علَيكُم كَقِطَعِ اللَّيلِ المُظلِمِ فعلَيكُم بالقرآنِ  
   
مقداد نے عرض  کیا: اے پیغمبر اخدا آرام اور سکون کا کیا مطلب ہے؟ فرمایا: دنیا، مقام امتحان اور جائے انقطاع ہے پس جب امور تمہارے اوپر مشتبہ ہو جائیں تو قرآن کی طرف رجوع کرو۔ 
فإنّهُ شافِعٌ مُشَفَّعٌ  و ماحِلٌ مُصدَّقٌ  و مَن جَعَلَهُ أمامَهُ قادَهُ إلَى الجَنَّةِ  و مَن جَعَلَهُ خَلفَهُ قادَهُ إلَى النارِ و هو الدليلُ إلى خَيرِ سَبيلٍ  
   
اس لیے کہ قرآن شفاعت کرنے والا بھی ہے اور اس کی شفاعت قبول بھی کی جائے گی۔ اور ایسا شکایت کرنے والا بھی ہے کہ جس کی شکایت قبول کی جائے گی۔ جس نے اسے اپنے سامنے قرار دیا [یعنی اس سے ہدایت حاصل کی] اسے بہشت کی طرف رہنمائی کرے گا۔ اور جس نے اسے پشت پیچھے رکھ دیا اسے جہنم میں پہنچا دے گا۔ قرآن راہ ہدایت کی طرف بہترین رہنما ہے۔
  
و هو الفَصلُ ليسَ بالهَزلِ  لَهُ ظَهرٌ و بَطنٌ  فظاهِرُهُ حِكَمٌ  و باطِنُهُ عِلمٌ  عَميقٌ بَحرُهُ  لا تُحصى عَجائبُهُ و لا يَشبَعُ مِنهُ عُلَماؤهُ  
  
قرآن حق اور باطل کو جدا کرنے والا ہے وہ مزاح نہیں ہے اس کا ایک ظاہر ہے اور ایک باطن، اس کا ظآہر حکم ہے اور باطن علم کا سمندر، اس سمندر کی حیرت انگیزیاں قابل شمار نہیں ہیں اور علماء جس سے سیر نہیں ہوتے۔

  
و هو حَبلُ اللّه ِ المَتينُ  و هُو الصِّراطُ المُستَقيمُ ... فيهِ مَصابيحُ الهُدى  و مَنارُ الحِكمَةِ  و دالٌّ علَى الحُجَّةِ .

قرآن اللہ کی  محکم رسی ہے قرآن صراط مستقیم ہے ۔۔۔ قرآن میں ہدایت کے چراغ ہیں اور حکمت کے منارے اور قرآن ہی حجت اور برہان کی رہنمائی کرتا ہے۔
  
ميزان الحکمة ج9 ص311 ح16573
---------------------

 

 

Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved