• تاریخ: 2011 جولائی 03

پیام امام امیرالمؤمنین(ع) جلد 1


           

پیام امام امیرالمؤمنین(ع) جلد 1

یہ کتاب نهج البلاغہ کی اہم،جدید اور جامع شرح ہے جس کو معظم له نے اہل قلم کی ایک جماعت کی مدد سے فارسی زبان میں تحریر فرمایا ، اس کا عربی زبان میں ترجمه ہو کر شایع ہوچکا ہے.


خطبہ اول(۱)

بخش اول

خطبہ ایک نظر میں

اس خطبہ کا نہج البلاغہ کے اہم خطبوں میں شمار ہوتا ہے اسی وجہ سے اس خطبہ کو اس کتاب کے مطلع کے عنوان سے رکھا گیا ہے اور یہ مرحوم رضی کے حسن انتخاب کی بہترین دلیل ہے۔
اس خطبہ میں اسلامی جہان بینی کا ایک مکمل مرور ہے کہ جس میں خداوند عالم کے صفات کمال و جمال اس کے متعلق عجیب دقیق باتیں شروع کی ہیں، پھر جہان کی پیدائش کے مسئلہ کوعمومی طور سے اور اس کے بعد زمین و آسمان کی پیدائش، فرشتوں کی پیدائش، آدم علیہ السلام کی پیدائش، فرشتوں کے سجدہ کرنے کا واقعہ، ابلیس کی مخالفت اور حضرت آدم کے زمین پر نازل ہونے کو بیان کیا ہے۔
خطبہ کو جاری رکھتے ہوئے آپ نے انبیاء کی بعثت، اس کا فلسفہ، پیغمبر اکرم(ص)کی بعثت ، قرآن مجید کی عظمت اور سنت پیغمبر(ص)کی اہمیت کو بیان کیا ہے اور خدا کے عظیم فریضہ اور اس کے فلسفہ اور اسرار کو بیان کیا ہے، اس طرح سے کہ اس خطبہ کے متن پر اگر غور و فکر کی جائے تو اس سے ہمیں اسلام کے اہم ترین مسائل سے متعلق ایک مکمل راہنمائی حاصل ہو جاتی ہے اور مسائل کی بہت سی مشکلات اور پیچیدگیاں حل ہوجاتی ہیں۔
ایک طرح سے یہ خطبہ ، قرآن مجید میںفاتحة الکتاب کی جگہ ہے جس میں نہج البلاغہ میں بیان ہونے والے تمام مسائل کو فہرست کے عنوان سے بیان کرتا ہے ، کیونکہ تمام خطبوں، خطوط، اور کلمات قصارمیں بیان ہونے والی تمام چیزوں کا اس خطبہ میں خلاصہ کے طور پر ذکر گیا ہے۔
ہم نے اس خطبہ کو پندرہ حصوں میں تقسیم کیا ہے اور ہر حصہ کی مستقل طور پر تحقیق و تقسیم کی ہے، پھر مجموعی طور پر اس سے نتیجہ اخذ کیا ہے۔

۱۔یہ خطبہ(اگر چہ دوسری کتابوں میں کامل طور سے بیان نہیں ہوا بلکہ اس کے کچھ حصہ بیان ہوئے ہیں) دوسری بہت سی کتابوں میں مرحوم سید رضی سے پہلے بھی اور ان کے بعد بھی نقل ہوا ہے۔ مرحوم سید رضی سے پہلے جن لوگوں نے اس خطبہ کے کچھ حصوں کو بیان کیا ہے ان بزرگوں کے نام مندرجہ ذیل ہیں:
۱۔ مرحوم صدوق نے کتاب توحید میں ، ۲۔ مرحوم ابن شعبہ حرانی نے کتاب تحف العقول میں اس کو بیان کیا ہے۔
اور جن لوگوں نے سید رضی کے بعد اس خطبہ کے کچھ حصوں کو نقل کیا ہے ان کے بھی نام مندرجہ ذیل ہیں:
۱۔ واسطی نے کتاب عیون الحکمة والمواعظ میں ۲۔ مرحوم طبرسی نے احتجاج میں ۳۔ ابن طلحہ نے کتاب مطالب السئول میں۴۔ القاضی القضاعی نے دستور معالم الحکم میں۔ ۵۔ فخر رازی نے تفسیر کبیر میں۔ ۶۔ زمخشری نے ربیع الابرار میں۔ ۷۔ قطب راوندی نے منھاج البراعة میں۔ ۸۔ مرحوم علامہ مجلسی نے بحار الانوار کی جلد ۴، ۱۱، ۱۸، ۵۷، ۷۷، ۹۲، اور ۹۳ میں بیان کیا ہے۔
البتہ اس بات کو فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ مندرجہ بالا کتابوں میں جو تعبیرات بیان ہوئی ہیں وہ نہج البلاغہ سے مختلف ہیں۔

پہلا حصہ

۔ ومن خطبہ لہ علیہ السلام

یذکر فیہ ابتداء خلق السماء والارض و خلق آدم و فیھا ذکر الج و تحتوی علی حمداللہ و خلق العالم و خلق الملائکة واختیار النبیاء و مبعث النبی والقرآن والاحکام الشرعیہ:
الحمدللہ الذی لا یبلغ مدحتة القائلون ولا یحصی نعمائہ العادون ولایوٴدی حقہ المجتہدون۔ الذی لا یدرکہ بعد الھمم و لا ینالہ غوص الفطن، الذی لیس لصفتہ حد محدود، ولانعت موجود، ولا وقت معدود، ولا اجل ممدود، فطر الخلائق بقدرتہ، و نشر الریاح برحمتة ووتد بالصخور میدان ارضہ.
ترجمہ
امام علیہ السلام کا وہ خطبہ جس میں ابتدائے آفرینش زمین و آسمان، پیدائش آدم،حج کاذکر، خداوند عالم کی حمد و ثنا، عالم اور ملائکہ کی پیدائش، انبیاء کا انتخاب، پیغمبر اکرم(ص)،قرآن اور احکام شرعیہ کے نازل ہونے کا ذکر کیا ہے۔
تمام حمد اس اللہ کے لئے ہے ، جس کی مدح تک بولنے والوں کی رسائی نہیں، جس کی نعمتوں کو گننے والے گن نہیں سکتے، نہ کوشش کرنے والے اس کا حق ادا کرسکتے ہیں۔ وہ خداجس کی کنہ ذات کو پلند پرواز ہمتیں اور فکریں نہیں پا سکتیںہیں ، نہ عقل و فہم کی گہرائیاں(علم و دانش کے سمندر)اس کے کمال کی تہ تک
پہنچ سکتی ہیں۔ اس کے کمال ذات کی کوئی حدمعین نہیں۔ نہ اس کے لئے توصیفی الفاظ نہیں نہ اس (کی ابتدا)کے لئے کوئی وقت ہے، جسے شمار میں لایا جاسکے، نہ اس کی کوئی مدت ہے جو کہیں پر ختم ہوجائے۔اس نے مخلوقات کو اپنی قدرت سے پیدا کیا، اپنی رحمتوں سے ہواؤں کو چلایا، تھرتھراتی ہوئی زمین پر پہاڑوں کی میخیں گاڑیں۔

شرح و تفسیر

عقل و فہم کی گہرائیاں اس کی ذات کی تہ تک نہیں پہنچ سکتیں!

اس خطبہ کے اس حصہ پر ایک مختصر نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ امیر المومنین علی(ع) نے اوصاف الہی کی بارہ صفتوں کو منظم و منسجم طور سے بہترین سانچہ میں ڈھالہ ہے:
پہلے مرحلہ میں بتاتے ہیں کہ بندے، خداوند عالم کی مدح وثنا اور اس کا شکر کرنے کے عملی میدان میں کتنے ناتوان ہے(اس مرحلہ میں تین صفتوں کی طرف اشارہ ہوا ہے)۔
دوسرے مرحلہ میں اس حقیقت کوبیان کرتے ہیں کہ فکر و عقل کے لحاظ سے بھی کس طرح انسان اس کی عظمت اور اس کی ذات کی تہہ تک پہنچنے میںعاجز ہیں(اس مرحلہ میں دو صفتوں کی طرف اشارہ ہوا ہے)۔
تیسرے مرحلہ میں اس بات کی کی دلیل کو بیان کرتے ہیں کہ اس کی ذات پاک ہر طرح سے نامحدود اور اس کی نعمتیں بے شمار ہیں اور اس کی ذات کو درک کرنے یااس کا حق ادا کرنے میں اسی وجہ سے ہم مجبور ہیں(اس مرحلہ میں چار صفتوں کی طرف اشارہ فرمایا ہے)۔
آخر کار چوتھے مرحلہ میں اس جہان کی پیدائش اور مخلوقات کے متعلق اشارہ کرتے ہیں گویااس حقیقت کو بیان کرنا چاہتے ہیں کہ اس کی ذ
۱ت کو صرف اسی طریقہ سے پہچانا جاسکتا ہے اور یہی ہماری حداکثر طاقت و قدرت ہے(اس حصہ میں اس کے صفات افعال میں سے تین صفت کی طرف اشارہ ہوا ہے)۔
یہ سب چیزیں گواہی دیتی ہیں کہ اس بزرگ معلم نے اپنے اس خطبہ میں بہت بلند و بالا تعبیرات کا انتخاب کیا ہے جو سب کی سب بہت منظم اور مخصوص نظام کے ساتھ بیا ن کی گئی ہیں۔
اس اجمالی نگاہ کے ساتھ مندرجہ بالا بارہ اوصاف کی طرف پلٹتے ہیں:
امام (ع)اپنی بات کو حمد و ثنائے الہی سے شروع کرتے ہیں اور اس کے مقابلہ میں عاجزی کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں: تمام حمد اس اللہ کے لئے ہے ، جس کی مدح تک بولنے والوں کی رسائی نہیں(الحمدللہ الذی لا یبلغ مدحتة القائلون)۔(
۱)۔
جب کہ قرآن اور نہج البلاغہ کے بعض مفسیرین جیسے زمخشری نے کشاف، ابن الحدید نے اپنی شرح میں حمد اور مدح کو برابر شمار کیا ہے اور ان دونوں کے درمیان کسی فرق کے قائل نہیں ہیں، لیکن پہلی تفسیر زیادہ صحیح لگتی ہے۔
کیونکہ اس کے صفات ”کمال“ اور صفات ”جمال“ حد سے زیادہ ہیں۔ انسان اور فرشتہ جو کچھ بھی اس کی حمد وثنا کرتے ہیں وہ اپنی شناخت و معرفت کی حد تک کرتے ہیں ، اس کے کمالات کی مقدارتک نہیں۔
جب پیغمبر اکرم(ص)جو کہ خدا کے سب سے بڑے پیغمبر ہیں، ایک مشہور حدیث کے مطابق خداوند عالم کی معرفت سے عاجزی کا اظہار کرتے ہیں اور فرماتے ہیں: ”ما عرفناک حق معرفتک“(2)تو دوسرے لوگ کس طرح اس کی معرفت کا دعوی کرسکتے ہیں؟ اور جب انسان اس کی معرفت سے عاجز ہو تو پھر کس طرح اس کی حمد و ثناء کا حق ادا کرسکتا ہے؟ اس بناء پر ہماری ”حمد“ کی سب سے زیادہ حد یہی ہے کہ مولا نے فرمایا ہے یعنی اس کی حمد وثنا کے مقابلہ میں عاجزی اور ناتوانی کا اظہار کرنا اور اس بات کااعتراف کرنا کہ کسی بھی بولنے ولے میں اس کی مدح تک رسائی نہیںہے۔
ایک حدیث میں امام صادق(ع)نے فرمایا ہے: خداوند عالم نے حضرت موسی(ع)پر وحی بھیجی: ائے موسی! میرے شکر کا حق ادا کرو۔ عرض کیا: پروردگارا! کس طرح تیرے شکر کا حق ادا کروںجبکہ جب بھی میں تیرا شکر کرتا ہوں تو یہ خود ایک نعمت ہے جو تو نے مجھے عطاء کی ہے(اور شکر کی توفیق دی اس طرح ایک اور نعمت مجھے عطاء کردی لہذا اس کا بھی شکر ادا کرنا لازم ہے)؟!
فرمایا : ” یا موسی الان شکرتنی حین علمت ان ذلک منی“ اے موسی ! اب تم نے میرا شکر ادا کیا جب تم نے یہ جان لیا کہ یہ بھی میں نے ہی تمہیں عطا کیا ہے(اور تم شکر ادا کرنے سے ناتوان ہو)(3)۔
البتہ ایک لحاظ سے جب انسان کہتا ہے : ”الحمدللہ“ (تمام حمد و ثناء خداوند عالم سے مخصوص ہے)تو حمد و الہی کی کوئی چیز باقی نہیں رہ جاتی ۔ اسی وجہ سے ایک حدیث میں ملتا ہے کہ امام صادق(ع)مسجد سے باہر آئے تو آپ کی سواری غایب تھی، آپ نے فرمایا: اگر خداوند عالم اس کو مجھے پلٹا دے تو اس کے شکر کا حق ادا کروںگا، ابھی کچھ ہی دیر گذری تھی کہ آپ کی سواری واپس آگئی ،اس وقت آپ نے عرض کیا: الحمدللہ! ، کسی نے کہا: (آپ پر قربان ہوجاؤں)آپ نے تو فرمایا تھاکہ خدا کے شکر کا حق ادا کروںگا؟ امام نے فرمایا: کیا تم نے نہیں سنا کہ میں نے ”الحمدللہ“ کہا ہے (کیا اس سے بڑھ کر کوئی چیز ہے جس کو اس اس کی حمد و ثناء کے لئے مخصوص سمجھوں)(4)۔
دوسری صفت میں آپ فرماتے ہیں: جس کی نعمتوں کو گننے والے گن نہیں سکتے( ولا یحصی نعمائہ العادون )
کیونکہ اس کی مادی و معنوی، ظاہری و باطنی اور فردی و اجتماعی نعمتیں اس سے کہیں زیادہ ہیں کہ ان کا شمار کیا جائے۔
انسان کا بدن بے حد و حساب سلول اور جراثیم سے تشکیل پایا ہے(متوسط طور سے
۱۰ ملیون ملیارد)جس میں سے ہر ایک اپنی بناوٹ کے لحاظ سے ایک موجود زندہ ہے اور ان میں سے ہر ایک ایسی نعمت ہے جس کو دسیوں ہزار سال تک شمار کرنا ممکن نہیں ہے۔ جب انسان خدا کی ان نعمتوں کے چھوٹے سے حصہ کو شمار نہیں کرسکتا تو پھر کس طرح ان سب نعمتوں کو چاہے وہ مادی ہوں یا معنوی،شمار کرسکتا ہے؟اصلا ہم اس کی تمام نعمتوں سے آگاہ نہیں ہیں تاکہ ان کو شمار کرسکیں،اس کی بہت سی نعمتوںنے ہمارے وجود کا احاطہ کرکھا ہے جو کبھی بھی ہم سے سلب نہیں ہوسکتیں، جس کی وجہ سے ہم ان کے وجود کو درک نہیں کر پاتے(کیونکہ کسی نعمت کا وجود اس کے گم ہونے کے بعد معلوم ہوتا ہے)اس کے علاوہ جس قدر بھی انسان کا علم و دانش وسیع ہوتا جائے گا اسی قدر وہ خدا وند عالم کی جدید نعمتوں کو حاصل کرتا جائے گا۔ ان تمام باتوں کے باوجود قبول کرلینا چاہئے(جیسا کہ مولائے متقیان نے فرمایا ہے)کہ حساب کرنے والے اس کی نعمتوں کو شمار نہیں کرسکتے!
یہ جملہ پہلے جملہ کیلئے علت کے طور پر ہوسکتا ہے ، کیونکہ جب اس کی نعمتوں کا شمار نہیں ہوسکتا تو کس طرح اس کی حمد و ثناء اور مدح کو بجا لایا جاسکتا ہے؟
اگر چہ بہت سے بے خبراور ستمگر افراد نے اس کی بہت سی نعمتوں کا منحصر کردیا ہے یااسراف وغیرہ کے ذریعہ ان کوختم کردیا ہے اور بعض لوگوں نے خدا کی مخلوق کو زحمت میں ڈالدیا ہے، لیکن یہ کبھی بھی اس کی نعمتوں کی محدودیت پر دلیل نہیں بن سکتیں۔
تیسری صفت میں آپ فرماتے ہیں: تلاش و کوشش کرنے والے اس کا حق ادا نہیں کرسکتے(چاہے وہ اپنے آپ کو جس قدرپریشان کرلیں) ۔(ولایوٴدی حقہ المجتہدون)۔
حقیقت میں یہ جملہ پہلے جملہ کا نتیجہ ہے ، کیونکہ جب اس کی نعمتوں کو شمارنہیں کرسکتے تو کس طرح اس کے حق کو ادا کرسکتے ہیں؟ اور دوسرے الفاظ میں یہ کہاجائے کہ اس کا حق اس کی ذات کی عظمت کے برابر ہے اور ہماری حمد و شکر ہماری بہت کم طاقت کے مطابق ہے جس کی وجہ سے ہم اس کا حق ادا نہیں کرسکتے۔ نہ صرف مقام عمل میں اس کی مدح و ثنا کا حق ادا نہیں کرسکتے بلکہ عقل وفکر تک اس کی ذات کو درک نہیں کرسکتیں۔
اسی دلیل کی وجہ سے مزید آپ دو صفتوں کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: وہ خداجس کی کنہ ذات کو پلند پرواز ہمتیں اور فکریں نہیں پا سکتیںہیں ، نہ عقل و فہم کی گہرائیاں(علم و دانش کے سمندر)اس کے کمال کی تہ تک پہنچ سکتی ہیں۔ ( الذی لا یدرکہ بعد الھمم و لا ینالہ غوص الفطن)(5)
”بعد الھمم وغوص الفطن“ کی تعبیر سے گویا اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اگر بلند فکریں صعودی قوس میںاور طاقت ور فکریں نزولی قوس میں حرکت کریں تو ان میں سے کوئی بھی کچھ نہیں کرسکتی اور اس کی ذات کی تہہ تک پہنچنے سے عاجز ہیں۔
پھر اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے امام (علیہ السلام)نے اس کی دلیل کو بیان کیا ہے کہ کیوں انسان اس کی ذات کی تہہ تک پہنچنے سے عاجز ہیں؟ آپ فرماتے ہیں: اس کے کمال ذات کی کوئی حدمعین نہیں۔ نہ اس کے لئے توصیفی الفاظ نہیں نہ اس (کی ابتدا)کے لئے کوئی وقت ہے، جسے شمار میں لایا جاسکے، نہ اس کی کوئی مدت ہے جو کہیں پر ختم ہوجائے۔( الذی لیس لصفتہ حد محدود، ولانعت(6) موجود، ولا وقت معدود، ولا اجل(7) ممدود)۔
یعنی کس طرح ہم اس کی ذات کی تہہ تک پہنچ سکتے ہیں جب کہ ہماری فکر بلکہ ہماری تمام ہستی محدود ہے اور سوائے محدود اشیاء کے کسی اور چیز کو درک نہیں کرتی اور خدا وند عالم کی ذات کی نہ کوئی حد ہے اور نہ کوئی درک کرنے والی صفت، نہ اس کا کوئی آغاز ہے اور نہ کوئی انتہاء۔
نہ صرف اس کی ذات بلکہ اس کے صفات بھی نامحدود ہیں، اس کا علم نا محدودہے اور اس کی قدرت کی کوئی انتہاء نہیں،کیونکہ یہ سب نامحدود اس کی عین ذات ہے۔
دوسرے الفاظ میں یہ کہا جائے کہ وہ مطلق ہے اور کوئی قید و شرط نہیں ہے اور اگر کوئی قید و شرط اور حد اس کی ذات میں داخل ہوجائے تو وہ مرکب ہوجائے گا، اور یہ بات معلوم ہے کہ ہر مرکب ممکن الوجود ہے نہ واجب الوجود۔ اس بناء پر واجب الوجود ایسی ذات ہے جوتمام جہات میں نا محدودہے اور اسی وجہ سے وہ اکیلااور بے نظیر ہے اس لئے کہ دو نامحدود وجود ہر جہت سے غیر ممکن ہیںکیونکہ دوگانگی ، دونوں کے محدودہونے کا سبب بنتی ہے ، یہ ایک ، دوسرے کے وجود سے فاقد ہے اور وہ دوسری بھی اس کے وجود سے (غور کریں)۔
گذشتہ جملوں میں خدا کے صفات جمال و جلال (صفات ثبوتیہ اور سلبیہ)کی طرف اشارہ کرنے کے بعد پروردگار کے صفات فعل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:اس نے مخلوقات کو اپنی قدرت سے پیدا کیا، اپنی رحمتوں سے ہواؤں کو چلایا، تھرتھراتی ہوئی زمین پر پہاڑوں کی میخیں گاڑیں۔(فطر(8) الخلائق بقدرتہ، و نشر الریاح برحمتة ووتد(9)بالصخور(10) میدان(11) ارضہ)۔
مندرجہ بالا جملے ایک یا چند قرآنی آیتوں کو بیان کر رہے ہیں: فطر الخلائق بقدرتہ“یہ جملہ اس آیت ”فاطر السموات والارض“ کو بیان کررہا ہے یہ آیت قرآن کے چند سوروں میں ذکرہوئی ہے(12) اور ”نشر الریاح برحمتہ“ کا جملہ، اس آیت ”وھو الذی یرسل الریاح بشری بین یدی رحمتہ(وہ خدا وہ ہے جو ہواؤں کورحمت کی بشارت بنا کر بھیجتا ہے )(13)۔
تیسرا جملہ اس آیة شریفہ ” والقی فی الارض رواسی ان تمید بکم“ (اور اس نے زمین میں پہاڑوں کے لنگر ڈال دئیے تاکہ تمہیں لے کر اپنی جگہ سے ہٹ نہ جائے)کی طرف اشارہ کررہا ہے۔(14)۔
”فطر“کے معنی میں جو کچھ کہا گیا ہے اس کی طرف توجہ کرتے ہوئے خلقت کو تاریک عدم کے پردہ کو پھاڑنے سے تشبیہ دی ہے ، ایسا پردہ جو منظم و منسجم اور ہر طرح کے شگاف سے خالی ہے ، لیکن خدا وند عالم کی بے انتہاء قدرت اس کو پھاڑتی ہے اور مخلوقات کو اس سے باہر بھیجتی ہے اور یہ ایسی چیز ہے جواس کی قدرت کے سوا انجام نہیں پاسکتی۔
آج کے دانشمند وں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ہمارے لئے عدم سے کسی چیز کو وجودمیں لانا محال ہے یا موجود سے اس کو عدم کی طرف بھیجیں۔ ہماری قدرت میں فقط موجودات کی شکل کو تغیر دینا ہے اور بس!
رحمت کی تعبیر ہواؤوں کے چلنے کیلئے بہت ہی جذاب اور سازگار تعبیر ہے کہ جو نسیم کی لطافت، ہوا کا چلنا اور اس کے مختلف آثار جیسے بادلوں کا پیاسی زمینوں کی طرف حرکت کرنا، گھانس اور درختوں کی سیچائی اور زندہ کرنا، ہوا کو جابجاکرنا، کشتیوں کو چلانا، ہوا کی گرمائی اور سردی کو معتدل درجہ پر قائم رکھنااور دوسری بہت سی برکتیں۔
لیکن پہاڑ اور چٹانیں زمین کی لرزش کو کس طرح روکتی ہیں، علماء متقدمین کا نظریہ یہ تھا کہ زمین ، ساکن ہے جو آج قابل قبول نہیں ہے۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ روشن اور واضح تفاسیر موجود ہیں جو علمی حقائق سے بھی سازگار ہیں اور قرآن و روایات سے بھی ہم آہنگ ہیں کیونکہ :
۱۔ زمین کی سطح پر پہاڑوں کا وجود سبب بنتا ہے کہ جزر و مد خشکی میں کم سے کم پہنچے جو کہ ماہ و خورشید کے جاذبہ کا نتیجہ ہے ۔ اگر زمین کی سطح پر ملایم و نرم مٹی ہوتی تو دریاؤں کی طرح اس میں بھی جزرومد آتا اور یہ سکون کے قابل نہ ہوتی۔
۲۔ پہاڑوں کی جڑیںمٹی کے نیچے ایک دوسرے سے ملی ہوئی ہیں اوراس نے زرہ کی طرح زمین کے اطراف کو پکڑ رکھا ہے اور اگر یہ نہ ہوتی تو داخلی فشار اور دباؤ جو اندر کی گیسوں اوردھات کو پگھلانے والے مادے ہمیشہ مختلف علاقوں کو ہلاتی رہتی اور آرام و سکون نہ ملتا۔ اب بھی کبھی کبھی جب دباؤ حد سے زیادہ ہوتا ہے تو ویران کرنے والے زلزلہ وجود میں آتے ہیں اور اگر پہاڑ نہ ہوتے تو یہ زلزلہ ہمیشہ آتے رہتے۔
۳۔ پہاڑوں نے ایک پہیے کے دانتوں کی طرح زمین کے اطراف کی ہوا میں اپنے پنجوں کو گاڑ رکھا ہے اور اس کو اپنے ساتھ حرکت دیتے ہیں۔ اگر زمین کی سطح صاف ہو تی تو زمین کی اندرونی ، تیز حرکت اپنے اطراف میںہوا کے چھال سے ملنے کا سبب قرار پاتی۔ ایک طرف ہمیشہ شدید طوفان تمام اطراف کو گھیرے ہوئے ہوتے اور دوسری طرف بہت زیادہ گرمی اس اتصال کی وجہ سے حاصل ہوتی جس کی وجہ سے انسان کو زندگی گزارنا مشکل ہوجاتی۔
اس طرح چٹانیں(پہاڑ)اور”مَیَدان“(نامنظم اور شدید حرکتیں)زمین کوکنٹرول کرتے ہیں اس کے علاوہ پہاڑ انسانوں کے لئے پانی کا بہترین ذخیر ہ ہیں تمام چشمہ اور نہریں زمین کے نیچے اور زمین کے اوپر پہاڑوں کے ذخایر سے وجود میں آتے ہیں۔
مندرجہ بالا ہواؤں اور انسان اور تمام موجودات کی زندگی سے متعلق پہاڑوں کے متعلق کردار کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے اس سے روشن اور واضح ہوجاتا ہے کہ امیر المومنین علی(علیہ السلام)نے خلقت اور آفرینش کے مسئلہ کے بعد اس کی طرف کیوںاشارہ کیا ہے اور خصوصاان دو موضوع کے اوپر کیوں تکیہ کیا ہے۔


۱۔ حمد،مدح اور شکر کے معنی کی وضاحت میں قرآن کریم اور نہج البلاغہ کے مفسرین میں بہت زیادہ اختلاف ہے لیکن ان کے درمیان مشہور یہ ہے کہ اختیاری حالت میں ہر اچھے کام کی تعریف کرنے کو ”حمد“ کہتے ہیں، جب کہ مدح کا مفہوم اس سے بہت زیادہ وسیع ہے ، اختیاری اور غیر اختیاری کاموں کی تعریف کو شامل ہوتی ہے،لیکن شکر اس جگہ استعمال ہوتا ہے جہاں کسی کودوسرے سے کوئی نعمت ملے اور وہ اس نعمت کی وجہ سے شکر کرے (اس متعلق زیادہ وضاحت کیلئے مجمع البحرین، لسان العرب، مفردات، شرح ابن میثم اور علامہ خوئی کی شرح میں مراجعہ کرسکتے ہیں)۔
2۔ مرحوم علامہ مجلسی نے اپنے ایک مفصل بیان کے ضمن میں بحار الانوار کی کچھ روایتوں کی توضیح دیتے ہوئے محقق طوسی کے کلام کے ذیل میں اس حدیث کو بغیر کسی سند کے پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و الہ)سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا ہے: ”ما عبدناک حق عبادتک و ما عرفناک حق معرفتک“(بحار الانوار، ج
۶۸، ص ۲۳)۔
3۔ اصول کافی، جلد دوم ، ص
۹۸، حدیث ۲۷۔
4۔ وہی حوالہ، ص
۹۷، حدیث ۱۸۔
5۔مقاییس اللغة کے بقول ”ھمم“، ہمت کی جمع ہے اور اس کے معنی کسی دھات کے پگھلنے، جاری ہونے اور حرکت کرنے کے ہیں اور غم و اندوھ کو اس وجہ سے ”ھم“ کہتے ہیں کہ انسان کے جسم و جان کے پگھلنے کا سبب بنتا ہے ۔پھر ہر وہ کام جس کی کوئی اہمیت ہو یا انسان کی فکر اور ہوش و حواس کو مشغول کرلے اور حرکت کا سبب بن جائے اس کو ”ہم اور ہمت“ کہتے ہیں(مفردات میں بھی اسی کے جیسے معنی بیان کئے گئے ہیں)۔
”غوص“ کے معنی پانی کے اندر جانے کے ہیں، پھر ہر اہم کام میں داخل ہونے کیلئے استعمال ہونے لگا۔
لسان العرب کے بقول ”فطن“، ”فطنة“(فتنہ کے وزن پر)کی جمع ہے اوراس کے معنی ہوش و حواس اور ذکاوت کے ہیں۔
6.۔خلیل بن احمد کے بقول ”نعت“کے معنی کسی چیز کی نیک صفت کے ساتھ تعریف کرنا ہے(اس بناء پر خوب و بد کی صفت میں فرق پایا جاتا ہے)۔
7۔ ”اجل“ کے معنی کسی چیز کے مکمل ہونے اور اس کے وعدہ کے ختم ہونے کو کہتے ہیں، چاہے وہ انسان کی عمر کے بارے میں ہو یا دوسری چیزوں کے متعلق، یا عہدو پیمان یا قرض کے بارے میں ہو۔
8۔ مفردات میں راغب کے بقول”فطر“ کا مادہ ”فطر“(سطر کے وزن پر)ہے اور اس کے معنی کسی چیز کو ”طول“ میں پھاڑنے کے ہیںلہذا روزہ کھولنے کو افطار کہتے ہیں گویا روزہ کو اس کے ذریعہ پھاڑتے ہیں۔ یہ لفظ آفرینش، ایجاد اور کسی چیز کو گڑھنے کے معنی میں بھی آتا ہے گویا عدم کا پردہ پھٹ جاتا ہے اور عالم وجود میں قدم رکھتا ہے۔
9۔ ”وتد“ کا مادہ ”وتد“(وقت کے وزن پر)ہے او راس کے معنی کسی چیز کو ثابت کرنے کے ہیں،لہذا وہ کیل جو چیزوں کو ثابت کرتی ہے اور ان کو ثبات بخشتی ہے ”وتد“ کہتے ہیں۔
10۔ لسان العرب کے بقول ”صخور“ ، صخرہ کی جمع ہے اور اس کے معنی بڑے اور سخت پتھر کے ہیں۔
11۔ ”میدان“ کا مادہ ”مید“ (صید کے وزن پر)ہے اور اس کے معنی اضطراب و تحرک کے ہیں اور ”میدان“کے(ضربان کے وزن پر)بھی یہی معنی ہیں اور ”میدان“(حیران کے وزن پر’اس کے معنی وسیع فضا کے ہیں اور اس کی جمع میادین ہے۔
12۔ سورہ یوسف، ایت
۱۰۱۔ سورہ ابراہیم، آیت ۱۰۰۔ سورہ فاطر، آیت ۳۵ وغیرہ۔
13۔ سورہ اعراف، آیت
۵۷۔
14۔ سورہ نحل آیت، آیت
۱۵۔

دوسرا حصہ

اول الدین معرفتہ و کمال معرفتہ التصدیق بہ وکمال التصدیق بہ توحیدہ و کمال توحیدہ الاخلاص لہ و کمال الاخلاص لہ نفی الصفات عنہ لشھادة کل صفة انھا غیر الموصوف و شھادة کل موصوف انہ غیر الصفة فمن وصف اللہ سبحانہ فقد قرنہ ومن قرنہ فقد ثناہ و من ثناہ فقد جزاہ و من جزاہ فقد جھلہ و من جھلہ فقد اشار الیہ و من اشارہ الیہ فقد حدہ و من حدہ فقد عدہ۔

ترجمہ
دین کی ابتداء ، اس کی معرفت اور شناخت ہے،کمال معرفت اس کی ذات پاک کی تصدیق ہے،کمال تصدیق وہی اس کی توحید ہے، کمال توحید اس کے لئے اخلاص اور تنزیہ ہے اور کمال تنزیہ و اخلاص یہ ہے کہ اس سے ممکنات کے صفات کی نفی کی جائے کیونکہ ہر صفت(ان صفتوں میں سے)گواہی دیتی ہے کہ وہ اپنے موصوف کی غیر ہے اور ہرموصوف(ممکنات میں سے) گواہی دیتا ہے کہ وہ صفت کے علاوہ کوئی اور چیز ہے، لہذا جس نے ذات الہی کے علاوہ (مخلوق کے صفات کی طرف ) اس کے صفات مانے اس نے ذات کا ایک دوسرا ساتھی مان لیااور جس نے اس کی ذات کا کوئی اور ساتھی مانا وہ دوئی(دوگانگی) کا قائل ہوگیا اور جو دوئی(دوگانگی)کا قائل ہوا اس نے وہ اس کے لئے اجزا کا قائل ہوگیا اور جو اس کے لئے اجزاء کا قائل ہوا وہ اس سے بے خبر رہا(اس نے خدا کو نہیں پہچانا)اور جو اس کو نہیںپہچانتا وہ اس کو قابل اشارہ سمجھتا ہے اور جو اس کو قابل اشارہ سمجھتا ہے اس نے اس کی حد بندی کردی اور جو اسے محدود سمجھا اس نے اس کو شمار کرنے کے قابل سمجھ لیا(اور شرک کی وادی میں غلطاں ہوگیا)!

شرح وتفسیر

خداوند عالم کے صفات اور توحید ذات

حقیقت میں یہ حصہ خدا شناسی کا ایک کامل نصاب ہے۔ امیرالمومنین (ع)نے اس حصہ میں بہت مختصر اور پرمعنی عبارتوں میںخداوند عالم کی اس طرح پہچان کرائی ہے کہ اس سے زیادہ کا تصور ممکن نہیں ہے اور اگر توحید اور خدا شناسی کے تمام دروس کو ایک جگہ جمع کردیاجائے تو کوئی چیز اس سے زیادہ نہیں ہوگی۔
اس حصہ میں خداوند عالم کی معرفت اورشناخت کے لئے پانچ مرحلہ ذکر فرمائے ہیں جن کو اس طرح سے خلاصہ کیاجاسکتا ہے:
۱۔ اجمالی اور ناقص شناخت۔ ۲۔ مفصل شناخت ۳۔ توحید ذات اورصفات ۴۔ اخلاص ۵۔ تشبیہ کی نفی۔
اس مرحلہ کے آغاز میں فرماتے ہیں : دین کی ابتداء ، اس کی معرفت اور شناخت ہے( اول الدین معرفتہ )
بغیر کسی و شک شبہ کے یہاں پر دین سے مراد تمام عقاید، وظایف الہی اور اعمال و اخلاق دین ہے اور واضح ہے کہ اس مجموعہ کا آغاز اور اس کا اصلی ستون ”اللہ کی معرفت“ ہے، اس بناء پر خدا کی شناخت بھی پہلا قدم ہے اور تمام اصول و فروع دین کیلئے اصلی ستون ہے جس کے بغیر یہ بہترین درخت کبھی بھی ثمر آور نہیں ہوسکتا۔
بعض لوگوں کو جو نظریہ ہے کہ خدا کی معرفت سے پہلے بھی کسی چیز کا وجود پایا جاتا ہے اور وہ دین کے متعلق تحقیق اور مطالعہ وغیرہ ہے ، یہ لوگ بہت بڑی غلطی پر ہیں۔ کیونکہ تحقیق کا واجب ہونا سب سے پہلے واجبات میں سے ہے لیکن خدا کی شناخت دین کا پہلا ستون ہے یا دوسرے لفظوں میں یہ کہا جائے کہ تحقیق ، مقدمہ ہے اور شناخت خدا ذی المقدمہ کا پہلا مرحلہ ہے(
۱)۔
یہ نکتہ بھی معلوم ہے کہ اجمالی معرفت، آدمی کی فطرت میں سمائی ہوئی ہے۔ یہاں تک کہ تبلیغ کی بھی ضرورت نہیں ہے ، جس چیز کے لئے پیغمبران الہی، مبعوث ہوئے ہیں وہ یہ ہے کہ یہ اجمالی معرفت اور شناخت، تفصیلی اور کامل شناخت میں تبدیل ہوجائے اور اس کی شاخیں اور پتے رشد و نمو کریںاور اس کے اطراف میںجو مزاحم گھانس پھونس ، شرک آلود افکار کی صورت میں جمع ہوگئے ہیں ان کو دورکیا جائے۔
دوسرے مرحلہ میں فرماتے ہیں: کمال معرفت اس کی ذات پاک کی تصدیق ہے(و کمال معرفتہ التصدیق بہ)۔
تصدیق اور معرفت میں کیا فرق ہے اس کے متعلق مختلف تفسیریں موجود ہیں۔ معرفت و شناخت تفصیلی ہے یا معرفت خدا وند عالم سے متعلق علم و آگاہی کی طرف اشارہ ہے، لیکن تصدیق، ایمان کی طرف اشارہ ہے کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ علم ، ایمان سے جدا ہے ، ممکن ہے کہ انسان کو کسی چیز کا یقین ہو لیکن اس پر قلبی ایمان نہ ہو(یعنی اس کے مقابل میں سرتسلیم خم کرنا اوردل میں اس کو جگہ دینایا با الفاظ دیگر اس پر اعتقاد رکھنا)۔
بعض مرتبہ بزرگ علماء ان دونوں کو ایک دوسرے جدا کرنے کیلئے سادہ مثالیں پیش کرتے ہیں: بہت سے افراد ایسے ہیں جو رات کو تاریک اور خالی کمرہ میں مردہ کے پاس ٹہرنے سے ڈرتے ہیں جبکہ انہیں یقین ہے کہ وہ مرچکا ہے لیکن ان کے دل کی گہرائیوں میں یہ علم نفوذ کرچکا ہے اور ان کو وہ ایمان اور یقین حاصل نہیں ہوا ہے جس کی وجہ سے یہ وحشت پیدا ہورہی ہے۔
دوسرے لفظوں میں علم کسی چیز سے متعلق یقینی آگاہی کا نام ہے لیکن ممکن ہے کہ اس میں سطحی پہلو پایا جاتا ہو اور انسان و روح کے وجود کی گہرائیوں میں اس نے نفوذ نہ کیا ہو لیکن جب اس کی روح کی گہرائیوں میں نفوذ کرجائے تو یقین کے مرحلہ میں پہنچ جاتا ہے اور انسان اس کے اوپر اپنے دل کی بنیاد کو رکھ دیتا ہے اور اس کو قبول کرلیتا ہے تو اس کو ایمان کا نام دیدیتا ہے۔
تیسرے مرحلہ میں فرماتے ہیں: کمال تصدیق وہی اس کی توحید ہے،( وکمال التصدیق بہ توحیدہ)۔
جس وقت انسان خدا کو تفصیلی معرفت یا دوسرے لفظوں میں یہ کہا جائے کہ استدلال و برہان کے ذریعہ پہچان لے تو ابھی وہ توحید کامل کے مرحلہ تک نہیں پہنچا ہے ۔ توحید کامل یہ ہے کہ اس کی ذات کو ہر طرح کی شبیہ و نظیراور مانندو مثل سے پاک و منزہ سمجھے۔
کیونکہ اگر کوئی اس کے لئے شبیہ و نظیر کو قبول کرلے تو حقیقت میں اس نے جس چیز کو پہچانا ہے وہ خدانہیں تھااس لئے کہ خداوند عالم کا وجود ہر جہت سے نامحدود اور ہر چیز سے بے نیاز ہے ۔ اور جو چیز کسی سے مشابہ یا نظیر ومثل رکھتی ہو وہ محدود ہے، کیونکہ ان دو شبیہ میں سے ہر ایک کا وجوددوسرے سے جدا ہے اور ایک دوسرے کے کمالات ان میں نہیں پائے جاتے ، لہذا جب جس وقت اس کی ذات کی تصدیق، مرحلہ کمال تک پہنچ جائے اور انسان اس کو یکہ و تنہاسمجھ لے ، عدد کے اعتبار سے یکہ و تنہانہیں بلکہ یکہ و تنہا بمعنائے اس کا کوئی شریک نہ ہو اس کا کوئی شبیہ و نظیر نہ ہو۔
اس کے بعد چوتے مرحلہ میں قدم رکھتے ہوئے اخلاص سے متعلق فرماتے ہیں: کمال توحید اس کے لئے اخلاص اور تنزیہ ہے ( و کمال توحیدہ الا.خلاص لہ)۔
اخلاص کا مادہ خلوص ہے جس کے معنی خالص کرنے ، صاف کرنے اور دوسری چیزوں سے پاک و صاف کرنے کے ہیں۔
یہاں پراخلاص سے مراد ، عملی، قلبی یا اعتقادی اخلاص ہے اس متعلق نہج البلاغہ کے شارحین میں اختلاف ہے۔ اخلاص عملی سے منظور یہ ہے کہ ہر شخص میں پروردگار عالم کی بے انتہاء توحیدپائی جاتی ہو، صرف اسی کو پرستش و عبادت کے لائق سمجھتا ہواور ہرچیز میں اس کے کام کی علت ، خدا ہو۔ یہ وہی چیز ہے کہ عبادت میں اخلاص کی بحث میں فقہاء اس کے اوپر تکیہ کرتے ہیں۔ آیة اللہ خوئی(رضوان اللہ تعالی علیہ)اس تفسیر کو ایک قول کے عنوان سے کہنے والے کا نام بیان کئے بغیر ذکر کرتے ہیں(2)۔
لیکن یہ احتمال بہت بعید ہے کیونکہ اس جملہ سے پہلے اور بعد والے جملے سب کے سب عقایدی مسائل کو بیان کررہے ہیں اور واضح ہے کہ یہ جملہ بھی اخلاص عقایدی کو بیان کررہا ہے۔
اخلاص قلبی ، یا ”شارح بحرانی ابن میثم“ کے بقول ، زہد حقیقی یہ ہے کہ اس کا پورا دل خداوند عالم کی طرف متوجہ ہو اور اس کے علاوہ کسی کے بارے میں نہ سوچے اور ماسوی اللہ اس کو اپنے میں مشغول نہ کرے(3)۔ اگر چہ یہ بہت بلند و بالا مقام ہے لیکن پھر بھی یہ ان تمام جملوں سے سازگار نہیں ہے اور بعید ہے کہ اس جملہ سے مراد یہ ہو، صرف جو مفہوم اس سے مناسب ہے وہ یہ ہے کہ اپنے اعتقاد کو پروردگار کی بانسبت خالص کرے، یعنی اس کو ہر طرح سے یکہ، بے نظیراور ترکیب سے پاک و منزہ شمار کرنا۔
پانچویں جملہ میں امام(ع)نے اس معنی کی طرف اشارہ فرمایا ہے اور بہت خوبصورت پیرایہ میں اس کی وضاحت کی ہے، آپ فرماتے ہیں: اور کمال تنزیہ و اخلاص یہ ہے کہ اس سے ممکنات کے صفات کی نفی کی جائے ( و کمال الاخلاص لہ نفی الصفات عنہ )۔
دوسرے الفاظ میںیہ کہا جائے کہ پہلے مرحلہ میں اخلاص کو بہ طور اجمال بیان کیا تھا اور یہاں پر جب اخلاص اپنے کمال کو پہنچ جاتا ہے تو تفصیلی طور پر اس کو بیان کرتے ہیں اور واضح طور پر روشن ہوجاتا ہے توحید میں اخلاص کیلئے ان تمام صفات کی نفی جائے جو مخلوق میںپائی جاتی ہیں، چاہے یہ صفات مرکب ہوں یا مرکب نہ ہوں۔ چاہے یہ کہ ہم جانتے ہیں کہ تمام ممکنات حتی عقول و نفوس مجردہ بھی حقیقت میں مرکب(کم سے کم وجود اور ماہیت سے مرکب)ہیں یہاں تک کہ مجردات، یعنی موجودات مافوق مادہ بھی اس ترکیب سے جدانہیں ہیں، لیکن موجودات مادی، سب میں اجزائے خارجی پائے جاتے ہیں لیکن خدا وند عالم کی ذات میں نہ جزائے خارجی پائے جاتے ہیں اور نہ اجزائے عقلی، نہ خارج میں تجزیہ کے قابل ہیں اور نہ فہم و ادراک میں۔ اور جو بھی اس حقیقت کی طرف توجہ نہ کرے وہ خالص توحید کو حاصل نہیں کرسکا لہذا یہاں سے واضح ہوجاتا ہے جو آپ نے فرمایا: اس کی توحید کا کمال یہ ہے کہ اس سے صفات کی نفی کی جائے ، صفات کمالیہ کی نفی مراد نہیں ہے کیونکہ تمام صفات کمالیہ چاہے وہ علم ہو یا قدرت ، حیات اور اس کے علاوہ کوئی اور صفات کیونکہ یہ سب خدا کے صفات ہیں، بلکہ اس سے مراد وہ صفات ہیں جن کی ہمیں عادت ہوگئی ہے اور ہم نے ان کو پہچان لیا ہے یعنی مخلوقات کی صفات جن میں نقص ملا ہوا ہے۔ مخلوقات میں علم و قدرت پایا جاتا ہے لیکن ناقص و محدود علم اور قدرت پایا جاتا ہے اور اس میں جہل و کمزوری پائی جاتی ہے جبکہ خدا وند عالم کی ذات ایسے علم و قدرت سے پاک و منزہ ہے۔
ان باتوں پرامام علیہ السلام کا وہ جملہ گواہ ہے جو آپ نے اس خطبہ کے ذیل میں فرشتوں سے متعلق فرمایا ہے: ” لایتوھمون ربھم بالتصویر ولا یجرون علیہ صفات المصنوعین“۔وہ کبھی بھی اپنے پروردگار کو وہم کی وقت سے نہیں دیکھتے اورخدا وند عالم میں مخلوقات کے صفات کے قائل نہیں ہیں۔
اس کے علاوہ مخلوقات کے صفات ہمیشہ اس کی ذات سے جدا ہیں، یادوسرے لفظوں میں یہ کہا جائے کہ ان کے صفات ، زاید برذات ہیں۔ انسان ایک چیز ہے اور اس کا علم و قدرت ایک دوسری چیز ہے اس بناء پر اس کاوجود ان دو چیزوں سے مرکب ہے، جب کہ خدا کے صفات ، عین ذات ہیں اوران میںکسی طرح کی کوئی ترکیب نہیں پائی جاتی۔
حقیقت میں توحید اور خدا شناسی کے راستہ میں سب سے بڑاخطرہ یہ ہے کہ انسان ”قیاس“ میں نہ پڑ جائے یعنی خدا کے صفات کا مخلوقات کے صفات سے مقائسہ کرے کہ جو مختلف طرح کے نقائص سے ملا ہوا ہے اور یا صفات زاید بر ذات کے وجود کا اعتقاد رکھنا ہے جیساکہ اشاعرہ(مسلمانوں کا ایک گروہ) اس عقیدہ میں گرفتار ہیں(4)۔
اسی دلیل کی بناء پر امام علیہ السلام بعد والے جملہ میں فرماتے ہیں:کیونکہ ہر صفت(ان صفتوں میں سے)گواہی دیتی ہے کہ وہ اپنے موصوف کی غیر ہے اور ہرموصوف(ممکنات میں سے) گواہی دیتا ہے کہ وہ صفت کے علاوہ کوئی اور چیز ہے(لشھادة کل صفة انھا غیر الموصوف و شھادة کل موصوف انہ غیر الصفة )۔
آپ کا یہ بیان حقیقت میں ایک واضح منطقی دلیل ہے جس میں فرمایا ہے : صفات زاید بر ذات گواہی دیتے ہیں کہ وہ موصوف سے جداہیں اور ہر موصوف گواہی دیتا ہے کہ وہ صفت کے ساتھ دو ہیں، لیکن یہ بات کہ اس کے صفات کو عین ذات سمجھیں اور معتقد ہوجائیں کہ خداوند ذاتی ہے جس کا تمام علم، قدرت، حیات، ازلی اور ابدی ہے، اگرچہ ایسے معانی کو ہمارے لئے درک کرنا جبکہ ہمیں مخلوقات کے صفات کی عادت ہوگئی ہے اور انسان کو ایک چیز اور اس کے علم و قدرت کو اس کی ذات پر زاید سمجھتے ہیں ،بہت دشوار ہے ، (کیونکہ انسان جس وقت پیدا ہوا تو نہ علم رکھتاتھا اور نہ قدرت ، اس کے بعد وہ صاحب علم و قدرت ہوگیا)۔
اس کے بعد اپنی بات کو کامل کرتے ہوئے ایک مختصر اور پرمعنی جملہ کا اضافہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: لہذا جس نے ذات الہی کے علاوہ (مخلوق کے صفات کی طرح ) اس کے صفات مانے اس نے ذات کا ایک دوسرا ساتھی مان لیااور جس نے اس کی ذات کا کوئی اور ساتھی مانا وہ دوئی(دوگانگی) کا قائل ہوگیا اور جو دوئی(دوگانگی)کا قائل ہوا وہ اس کے لئے اجزا کا قائل ہوگیا اور جو اس کے لئے اجزاء کا قائل ہوا وہ اس سے بے خبر رہا(اس نے خدا کو نہیں پہچانا)(فمن وصف اللہ سبحانہ فقد قرنہ ومن قرنہ فقد ثناہ و من ثناہ فقد جزاہ و من جزاہ فقد جھلہ)۔
حقیقت میں امام علیہ السلام کا کلام اس معنی کو بتاتا ہے کہ مخلوقات کے صفات کو خداوندعالم کے لئے ثابت کرنے کا لازمہ اس کے وجود میں ترکیب کا سبب ہے، یعنی جس طرح انسان ذات اور صفات سے مرکب ہے وہ بھی اسی طرح مرکب ہوجائے اور یہ معنی واجب الوجود ہونے کے لئے سازگار نہیں ہیں، کیونکہ ہر مرکب اپنے اجزاء کا محتا ج ہے اور محتاج ہونا واجب الوجود کے لئے صحیح نہیں ہے۔
اس عبارت کے لئے دوسری دو تفسیریں اور بیان ہوئی ہیں:
اول : جب بھی اس کے صفات کو اس کی ذات کا غیر سمجھیں تو لا محالہ اس کی ذات مرکب ہوجائے گی ،کیونکہ ذات اور صفات کو جب دو فرض کریں گے تو ان میں ایک چیز مشترک پائی جائے گی اور ایک اس کو امیتازدینے والی(جس کو ”ما بہ الامتیاز“اور ”مابہ الاشتراک“ سے تعبیر کیاجاتا ہے)کیونکہ دونوں وجود اور ہستی میں شریک ہیں اور در عین حال ایک دوسرے سے جدابھی ہیں اور اس صورت میں اس کی ذات کو دو پہلو سے مختلف سمجھیں۔
دوم : ہم جانتے ہیں کہ خداوندعالم کی وحدت ذات ، وحدت عددی کے معنی میں نہیں ہے بلکہ خدا کی ذات میں وحدت کا مفہوم یہ ہے کہ اس کی شبیہ ونظیر نہیں ہے۔ اصولی طور پر ایک بے نہایت وجود ہر لحاظ سے کسی بھی چیز سے مشابہ نہیں ہوسکتا اور اگر خدا کے صفات کو اس کی ذات کی طرح ازلی، ابدی اور بے نہایت سمجھیں تو ہم نے اس کو محدود بھی کردیا ہے اور اس کے لئے شبیہ و نظیر کے بھی قائل ہوگئے ہیں(غور و فکر کریں)۔
حقیقت میں امام علیہ السلام نے اخلاص کی وضاحت میں جو باتیں بیان فرمائی ہیں وہ اسی معنی کو بتارہی ہیں، امام فرماتے ہیں: لہذا جس نے ذات الہی کے علاوہ (مخلوق کے صفات کی طرح ) اس کے صفات مانے اس نے ذات کا ایک دوسرا ساتھی مان لیااور جس نے اس کی ذات کا کوئی اور ساتھی مانا وہ دوئی(دوگانگی) کا قائل ہوگیا اور جو دوئی(دوگانگی)کا قائل ہوا وہ اس کے لئے اجزا کا قائل ہوگیا اور جو اس کے لئے اجزاء کا قائل ہوا وہ اس سے بے خبر رہا(اس نے خدا کو نہیں پہچانا)کیونکہ اس نے خدا کو اپنے جیسا (ترکیب و محدودیت کے لحاظ سے)تصور کرلیا اور اس کا نام خدا رکھ دیا۔
امام علیہ السلام اپنے بیان کو کامل کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اور جو اس کو نہیںپہچانتا وہ اس کو قابل اشارہ سمجھتا ہے اور جو اس کو قابل اشارہ سمجھتا ہے اس نے اس کی حد بندی کردی اور جو اسے محدود سمجھا اس نے اس کو شمار کرنے کے قابل سمجھ لیا(اور شرک کی وادی میں غلطاں ہوگیا)!(و من جھلہ فقد اشار الیہ و من اشارہ الیہ فقد حدہ و من حدہ فقد عدہ۔)
یہاں پر ”خدا کی طرف اشارہ “کرنے سے کیا منظور ہے اس میں دو احتمال پائے جاتے ہیں: اول : یہ ہے کہ اشارہ عقلی مراد ہے اور دوسرے یہ کہ اشارہ عقلی اور اشارہ حسی دونوں پائے جاتے ہیں۔
زیادہ وضاحت یہ ہے کہ جب انسان خدا کو اس کی نامحدود اور نامتناہی حقیقت کو نہ سمجھیں تو اس نے اپنے ذہن میںاس کا ایک خاص محدود تصور کرلیا اور دوسرے لفظوں میں یہ کہا جائے کہ اس عقلی اشارہ کے ذریعہ اس کی طرف اشارہ کرتا ہے اس حالت میں فطری طور پر اس کو محدود سمجھا کیونکہ نامحدود ونامتناہی خود محدود و متناہی انسان کیلئے قابل درک و تصور نہیں ہے ، انسان اس چیز کو درک کرتا ہے جس کا اس کو احاطہ ہوتا ہے اور اس کی محدود فکر میں پایا جاتا ہے اور اس طرح کی چیز یقینا محدود ہے۔
اس صورت میں خدا وند عالم معدودات اور شمار کی جانے والی اشیاء کی فہرست میں قرار پائے گا، کیونکہ محدود ہونے کا لازمہ یہ ہے کہ دوسری موجود کے ممکن ہونے کا تصور دوسری جگہ پر اس کے جیسا ہی ہے۔ صرف تمام جہات سے نامحدود ہے جس کا کوئی دوسرا نہیں ہے اور یہ عدد و شمارمیںنہیں آسکتا۔
اس طرح ”مولی الموحدین“ نے توحید کی حقیقت کو مختصر عبارت میں اس کے تمام معنی کے ساتھ منعکس کردیا ہے اور خدا وند عالم کو خیال و قیاس اور گمان ووہم سے بالاتر بیان کیا ہے۔
یہ وہی چیز ہے جس کو امام محمد باقر(علیہ السلام)نے بہت خوبصورت عبارت میں بیان کیا ہے، آپ فرماتے ہیں: ” کل ما میزتموہ باوھامکم فی ادق معانیہ مخلوق مصنوع مثلکم مردود الیکم“ہر چیز کو جب تم اپنے وہم و گمان اور فکر میں تصور کرو گے چاہے وہ جتنی بھی دقیق اور ظریف ہو پھر بھی تمہاری مخلوق ہوگی اور تمہاری طرف پلٹے گی(اور وہ خود تمہاری بنائے ہوئی ہوگی اور تمہارے وجود سے ہماہنگ ہوگی اور خدا اس سے بزرگ ہے کہ کسی مخلوق سے ہماہنگ ہو)(5)۔
یہ احتمال بھی پایا جاتا ہے کہ : ”اشارہ“، عقلی اشارہ کو بھی شامل ہو اور حسی کو بھی۔ کیونکہ خداوند عالم کی جسمانیت کا اعتقاد بھی جہل ہے اور اس کا نتیجہ اس کی ذات کو محدود کرنا ہے اور اس کی ذات کو شمار کرنے، شریک، مثل اور اس کے لئے کسی نظیر کا قائل ہونا ہے۔

 


۱۔ مشہور دانشمند مرحوم ”مغنیہ“نے اپنی شرح ”فی ظلال نہج البلاغہ“ میں نے اس کوخدا کے اوامر و نواہی کی اطاعت اورپیروی کے معنی میں بیان کیا ہے اور آیة اللہ خوئی (رضوان اللہ تعالی علیہ)نے بھی ان سے پہلے اسی معنی کوانتخاب کیا ہے۔ اگر اطاعت سے ان کی مراد وسیع ہے یعنی اعتقادی امور کو بھی شامل ہے تو یہ معنی صحیح ہیں اور اگر صرف عملی امور کو شامل ہے تو مذکورہ اشکال ان پر بھی وارد ہوتا ہے۔
2۔ منھاج البراعة، ج
۱، ص ۳۲۱۔ شارح خوئی کے نقل کرنے کے مطابق، صدر الدین شیرازی نے بھی شرح کافی میں اسی عقیدہ کو بیان کیا ہے۔
3۔ شرح نہج البلاغہ، ج
۱، ص ۱۲۲۔
4۔ ابو الحسن اشعری کے ماننے والوں کو اشاعرہ کہتے ہیںیہ لوگ معانی پر اعتقاد رکھتے ہیں اور معانی سے ان کی مراد یہ ہے کہ صفات کے مفہوم جیسے عالمیت، غالبیت وغیرہ خدا وند عالم کی قدیم اور ازلی ذات کی طرح ہیں اور در عین حال اس کی ذات سے جدا ہیں اس طرح یہ لوگ چند امر ازلی کے وجود پر اعتقاد رکھتے ہیں، یا اصطلاحا یہ کہا جائے کہ تعدد قدماء کے قائل ہیں، یہ ایسا عقیدہ ہے جو توحید خالص سے سازگار نہیں ہے لہذا اہل بیت(علیہم ا لسلام)کے ماننے والے(چونکہ انہوں نے اہل بیت ہی سے علم حاصل کیاہے)(اس طرح کی باتوں کو جو اس خطبہ، پوری نہج البلاغہ اور معصومین(علیہم السلام)کے کلام میں بیان ہوئی ہیں)معانی کو صفات زائد بر ذات سمجھتے ہیں اور اس کی نفی کرتے ہیں ۔
5۔ بحار الانوار، جلد
۶۶، ص ۲۹۳۔

سوال

یہاںپر ایک سوال پیش آتا ہے کہ اگر خدا وندعالم کسی بھی صورت میں اشارہ عقلی کے قابل نہیں ہے تو پھر خدا وندعالم کی معرفت کی کوشش نہ کی جائے اور اس کی شناخت کے دروازہ انسان پر بند ہوجائیں، اور خدا شناسی کا کوئی مفہوم باقی نہیں رہ جاتا۔ کیونکہ جب بھی اس کی ذات کی طرف بڑھیں گے تو اپنی فکر کی مخلوقات تک پہنچیں گے اورجتنا بھی اس سے نزدیک ہونا چاہیں گے اتنا ہی اس سے دورہوں گے ، لہذا بہتر یہ ہے کہ اس کی معرفت میں قدم نہ رکھیں اور خود کو اس کے شرک میں گرفتار نہ کریں۔

جواب

ایک باریک نکتہ (جو یہاں بھی مشکل کو آسان کرے گا اور دوسرے ابواب میں بھی)کی طرف توجہ کرنے سے اس سوال کاجواب واضح ہوجائے گااور وہ یہ ہے کہ معرفت و شناخت کی دو قسمیں ہیں: معرفت اجمالی اور معرفت تفصیلی۔ دوسرے لفظوں میں شناخت کنہ ذات اور شناخت مبدا افعال۔
جس وقت اس دنیا اور ان تعجب خیز موجودات میں ان کی ظرافت اورعظمت کے ساتھ غور و فکر کرتے ہیں یا اپنے وجود میں جب غور وفکر کرتے ہیں تو اجمالا سمجھ جاتے ہیں کہ کوئی خالق، پیدا کرنے والااور اس کا کوئی مبداء ہے، یہ وہی علم اجمالی ہے جو خدا سے متعلق انسان کی شناخت کی قدرت کا آخری مرحلہ ہے(جتنا بھی اس دنیا کے اسرار و رموز سے آکاہ ہوں گے اتناہی اس کی عظمت سے آشنا ہوں گے اور معرفت اجمالی کی راہ میں قوی تر ہوتے جائیں گے)لیکن جس وقت اپنے آپ سے سوال کریں کہ وہ کیا ہے؟ اور کیسا ہے؟ اور اس کی ذات کی حقیقت کی طرف قدم بڑھائیں گے تو حیرت و سرگردانی کے علاوہ کچھ ہمارے ہاتھ نہیں لگے گا اسی وجہ سے کہتے ہیں کہ اس کی طرف کامل طور سے راستہ کھلا ہوا ہے اور کامل طور سے راستہ بند بھی ہے۔
اس مسئلہ کو ایک واضح مثال سے روشن کیا جاسکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم بخوبی جانتے ہیں کہ جاذبہ کی ایک قوت پائی جاتی ہے ، کیونکہ جس چیز کو بھی اوپر سے چھوڑا جائے وہ نیچے گرے گی اور زمین کی طرف جذب ہوگی اور اگر یہ جاذبہ نہ ہوتا تو زمین کے اوپر کسی بھی موجودکو آرام و سکون نہ ملتا۔
جاذبہ سے آشنائی ایسی چیز نہیں ہے کہ فقط دانشمند حضرات اس سے واقف ہیں یہاں تک کہ بچے اور کم عمر کے بچے بھی اس کو بخوبی درک کرتے ہیں ، لیکن حقیقت جاذبہ کیا ہے؟ کیا نامرئی امواج یا ناشناختہ ذرات یا کوئی اور طاقت ہے؟ اور تعجب آور بات یہ ہے کہ جاذبہ کی طاقت کو مادہ کے برخلاف ،ظاہرا یک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے میں زمان و وقت کی ضرورت نہیں ہے ،بخلاف نور کہ جس کی ہرکت مادہ کی دنیا میں سے زیادہ تیز ہے ، لیکن پھر بھی اس کو فضا میں منتقل ہونے کیلئے کبھی ایک نقطہ سے دوسرے نقط تک پہنچنے میں لاکھوں سال لگ جاتے ہیں۔ لیکن جاذبہ کی طاقت ایک لمحہ میں ایک نقطہ سے دوسرے نقطہ کی طرف منتقل ہوجاتی ہے یا کم از کم اس کی سرعت اس سے کہیں زیادہ ہوتی ہے جس کے بارے میں ہم نے سنا ہے۔
یہ کیسی طاقت ہے جس میں یہ آثار پائے جاتے ہیں؟ اس کی ذات کی حقیقت کیسی ہے؟ کسی کے بھی پاس اس کا واضح جواب موجود نہیں ہے۔
جب جاذبہ کی طاقت کے سلسلہ میں ہمارا علم فقط اجمالی ہے جو کہ ایک مخلوق ہے اور اس کے علم تفصیلی سے ہم بہت دور ہیں تو کس طرح جہان مادہ کے خالق اور ماورائے مادہ جو بے نہایت موجود ہے اس کی ذات کی حقیقت سے باخبر ہوسکتے ہیں؟!اس کے باوجود اس کو ہرجگہ حاضر و ناظر اور ہر موجود کے ساتھ اس دنیا میں مشاہدہ کرتے ہیں۔
با صد ہزار جلوہ برون آمدی کہ من
با صد ہزار دیدہ تماشا کنم تو را
” و من حدہ فقد عدہ“ ایک دقیق نکتہ کی طرف اشارہ ہے جومذکورہ کلام سے واضح ہوجاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ جب بھی کوئی خدا کو محدود سمجھے، تو وہ اس کے لئے عدد کا قائل ہوگیایا دوسرے لفظوں میں یہ کہاجائے کہ شریک کے وجود کو اس کے لئے ممکن سمجھا۔ کیونکہ جو چیز ہر لحاظ سے نامحدود ہو تی ہے اس کا کوئی شریک اور شبیہ و نظیر نہیں ہوتاہے لیکن اگر محدود ہو(چاہے اس کی جتنی بھی عظمت اور بزرگی پائی جاتی ہو) تو اس کی شبیہ و نظیر اس کی ذات سے الگ تصور کی جاتی ہے ، دوسرے لفظوں میں دو یا چند محدود موجود(جتنی بھی بڑی ہوں)کاملا ان کا ممکن ہونا قابل قبول ہے لیکن ہر لحاظ سے نامحدود چیز کے لئے دوسرا ہونا ممکن نہیں ہے کیونکہ جس چیز کا بھی تصور کریں وہ اس کی ذات کی طرف پلٹتی ہے۔

تیسرا حصہ

ومن قال ”فیم“؟فقد ضمنہ، ومن قال”علام“؟ فقد اخلی منہ، کائن لا عن حدث، موجود لا عن عدم، مع کل شیء لا بمقارنة، و غیر کل شیء لا بمزایلة،فاعل لا بمعنی الحرکات والالة، بصیر اذ لا منظور الیہ من خلقہ، متوحد اذ لا سکن یستانس بہ و لا یستوحش لفقدہ۔
ترجمہ
جس نے یہ کہا وہ کس چیزمیں ہے ؟اس نے اسے کسی شئے کے ضمن میں فرض کرلیا اور جس نے یہ کہا وہ کس چیز پر ہے؟اس نے اور جگہیں اس سے خالی سمجھ لیں۔ وہ ہمیشہ ہے اور کسی چیز سے وجود میں نہیں آیاہے، وہ ایسا وجود ہے جو عدم سے وجود میں نہیں آیا، وہ ہر شئے کے ساتھ ہے لیکن جسمانی اتصال کی طرح نہیں، وہ ہر چیز سے علیحدہ ہے لیکن اس سے بیگانہ اور جدا نہیں ہے۔ وہ فاعل ہے (ہرکام کو انجام دینے والاہے)لیکن حرکات و آلات کا محتاج نہیں ہے۔ وہ اس وقت بھی دیکھنے والا تھا جب کہ مخلوقات میں کوئی چیز دکھائی دینے والی نہ تھی۔ وہ یگانہ ہے، اس لئے کہ اس کا کوئی ساتھی ہی نہیں ہے کہ جس سے وہ مانوس ہو اور اسے کھو کر پریشان ہوجائے۔

شرح و تفسیر

کوئی بھی چیز اس کے جیسی نہیں ہے

امام علیہ السلام نے خطبہ کے اس حصہ میں توحیدی مباحث کے بہت حساس اور دقیق نقطہ پر روشنی ڈالی ہے اور بہت مختصر اور پر معنی عبارت میں پانچ نکتوں کو بیان کیا ہے ، آپ فرماتے ہیں:
۱۔ خدا وند عالم کی ذات کو مکان (دوسرے لفظوں میں مکان سے بالاتر ہونے)کے لحاظ سے نامحدود ہونے کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
جس نے یہ کہا وہ کس چیزمیں ہے ؟اس نے اسے کسی شئے کے ضمن میں فرض کرلیا(ومن قال ”فیم“؟فقد ضمنہ)۔
کیونکہ لفظ ”فی“(فارسی میں لفظ ”در“ )ایسی جگہ استعمال ہوتا ہے کوئی موجود کسی دوسرے وجود کے ظرف میں ہو اور اس پر احاطہ کئے ہوئے ہو جیسے انسان کا گھر میں ہونا، یا پھول کا باغ میں ہونا ، اوراس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس کی ذات محدود ہے اورجیسا کہ اوپر اشارہ ہوا ہے کہ توحید کی تمام دلیلیں بتاتی ہیں کہ اس کی ذات ہر لحاظ سے نامحدود ہے۔
اسی طرح اگر کوئی سوال کرے کہ خدا کس چیز کے اوپر ہے؟ (عرش پر، کرسی یا آسمانوں کے اوپر)اس نے بھی خدا کو محدود شمار کیا ہے ، کیونکہ اس نے دوسری جگہوں کو اس سے خالی سمجھ لیا ہے” اور جس نے یہ کہا وہ کس چیز پر ہے؟اس نے اور جگہیں اس سے خالی سمجھ لیں“(ومن قال”علام“؟ فقد اخلی منہ)۔
اس بات کا لازمہ بھی اس کی ذات کو محدودکرنا ہے جو کہ واجب الوجود کے ساتھ سازگار نہیں ہے، اس بناء پر جن لوگوں نے اس کو عرش یا آسمانوں یا دوسری جگہ پر بٹھا دیا ہے وہ لوگ خالص موحدنہیں ہیں اور حقیقت میں وہ ایسے مخلوق کی پرستش کرتے ہیں جس کو انہوں نے اپنی فکر سے بنایا ہے اور اس کے اوپر ”اللہ“ کا نام رکھ دیا ہے ۔(چاہے وہ عوام کے حلقہ میں ہو یا خواص کے لباس میں ہو)۔
کبھی ناآگاہ لوگوں نے یہ تصور کیا ہے کہ آیہ شریفہ ” الرحمن علی العرش استوی“ (
۱) کو خدا وندعالم کے جسمانی ہونے پر دلیل سمجھتے ہیں اور اس آیت کے ذریعہ انہوں نے خدا وند عالم کو عرش پر بٹھا دیا ہے، جب کہ ”استوی“ کے معنی کسی چیز پر مسلط ہونے کے ہیں اور صرف کسی چیز پر سوار ہونے یا اس کے اوپر بیٹھنے کے نہیں ہیں اور اصولی طور پر ”استوی علی العرش“ تخت حکومت پر بیٹھنے کو کہتے ہیں اور اس کے مقابل میں ”تل عرشہ“تخت سے نیچے اترنے کو کہتے ہیں اور ان دونوں تعبیروں سے معروف کنایہ مراد ہے جو حکومت حاصل کرنے یا حکومت سے اترنے میں استعمال ہوتا ہے ،اس سے مراد تخت حکومت کو توڑنا یا اس کے اوپر بیٹھنا نہیں ہے
۲۔ دوسرے حصہ میں زمانہ کے لحاظ سے اس کے نامحدود ہونے کے متعلق اشارہ کیا ہے اور اس کی ازلی و ابدی ہونے کی وضاحت کی ہے ، آپ فرماتے ہیں: وہ ایسا وجود ہے جو ہمیشہ ہے اور کسی چیز سے وجود میں نہیں آیاہے(کائن لا عن حدث)۔
وہ ایسا وجود ہے جو عدم سے وجود میں نہیں آیا(موجود لا عن عدم)۔
اس طرح وہ تمام مخلوقات سے جدا ہے کیونکہ وہ سب عدم سے وجود میں آئی ہیں۔ صرف اس کی ذات ایسی ہے جو عدم سے وجود میں نہیں آئی۔ اور اصولی طور پر ”کائن“ اور ”موجود“ کے الفاظ کواستعمال کرنابغیر اس کے مفہوم کو مخلوقات کے صفات اور سابقہ عدم سے دور کئے بیغبر ممکن نہیں ہے(2)۔
یعنی پہلے جملہ میں فرماتے ہیں: خدا وند عالم ہرگز کسی زمانہ میں نہیں تھا کہ اس میں حادث ہوتا اور دوسرے جملہ میں کہتے ہیںزمان کے قطع نظر اس کی ذات میں حدوث بھی نہیں ہے۔ بلکہ وہ واجب الوجود ہے(شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، ج
۱، ص۷۹)۔ بعض علماء نے اس کے برخلاف کہا ہے یعنی پہلے جملہ کو حدوث ذاتی یا زمانی سے نفی کی ہے اور دوسرے جملہ کے ذریعہ حدوث زمانی سے نفی کی ہے(شرح نہج البلاغہ ابن میثم، جلد ۱ ، ص ۱۲۷)۔
لیکن حقیقت میں ان دونوں فرقوں کے اوپر کوئی واضح دلیل موجود نہیں ہے کیونکہ لفظ حدوث،معمولا حدوث زمانی کو کہتے ہیں لیکن اس میںحدوث ذاتی پر حمل ہونے کی صلاحیت بھی پائی جاتی ہے جس طرح لفظ عدم معمولا عدم زمانی کیلئے استعمال ہوتا ہے اورممکن ہے کہ عدم ذاتی پر بھی اس کااطلاق ہو۔
اس بناء پر ان دونوں جملوں کا تاکید کیلئے ہونا زیادہ مناسب لگتا ہے یعنی دونوں کے ذریعہ حدوث ذاتی اور زمانی کی نفی کی ہے اس معنی میں کہ کبھی بھی حدوث اور عدم کو ذات اور زمان میں خدا وند عالم کی ذات کیلئے نفی کیا ہے۔
۳۔ بعد والے جملہ میں مخلوق اور خالق، ممکنات اور واجب الوجود کے درمیان بہت لطیف رابطہ کی طرف اشارہ کیا ہے ، آپ فرماتے ہیں : وہ ہر شئے کے ساتھ ہے لیکن جسمانی اتصال کی طرح نہیں، وہ ہر چیز سے علیحدہ ہے لیکن اس سے بیگانہ اور جدا نہیں ہے۔ (مع کل شیء لا بمقارنة، و غیر کل شیء لا بمزایلة)۔
بہت سے لوگوں نے حتی کہ بہت سے فلاسفہ اور دانشورں نے خداوند عالم کے رابطہ کو موجودات کے ساتھ ،دو مستقل موجود کا ایک دوسرے کے ساتھ ارتباط جانا ہے جو کہ ایک دوسرے کا مخلوق ہے۔ مثلا ایک عظیم شعلہ کا وجود ہو اور اس سے ایک چھوٹی شمع روشن کریں جب کہ حقیقت کچھ اور ہے۔ مخلوق اور خالق کا فرق ایک ضعیف اور قوی وجود کا فرق نہیں ہے بلکہ ایک مستقل وجود کا فرق تمام جہات سے اور ایک وابستہ وجود کا فرق ہے۔ تمام عالم اس سے وابستہ ہے اور لمحہ بہ لمحہ اپنے وجود کے نور کو اس سے لیتا ہے ۔ خدا وند عالم اس عالم ہستی سے جدا نہیں ہے اور موجودات میں سے بھی نہیں ہے(جیسا کہ وحدت وجود کے قائلین اور صوفیوں نے سمجھا ہے) اور توحید واقعی اسی حقیقت کو درک کرنے پر منحصر ہے۔
اس حقیقت کو مندرجہ ذیل مثال کے ذریعہ واضح کیا جاسکتا ہے(اگر چہ یہ مثالیں بھی ناقص ہیں):
سورج کی روشنی اور کرن کا وجود پایا جاتا ہے اور یہ سورج سے الگ ہے، لیکن ہمیشہ اس سے وابستہ ہے، یعنی اس کے علاوہ ہے لیکن یہ مغایرت بیگانگی ، جدایی اور استقلال کے معنی میں نہیں ہے اور اس کے ساتھ ہے ، لیکن یگانگی اور وحدت کے معنی میں بھی نہیں ہے۔
بیشک موجودات عالم کا خداوند عالم سے ارتباط اس سے بھی زیادہ نزدیک ہے اور ان کی خدا سے وابستگی اس سے بھی زیادہ ہے اور حقیقت میں اس سے زیادہ دقیق مثال اس وابستگی اور یگانیت کیلئے اس عالم میں نہیں مل سکتی۔ اگر چہ مذکورہ مثال کی طرح دوسری مثالیں (یا انسان کے ذہنی تصورات کی طرح جو کہ روح سے وابستہ ہے اور اس سے جدا نہیں ہے اور درعین حال اسی سے وابستہ ہے اور اس کے بغیر اس کا کوئی مفہوم نہیں ہے)کسی حد تک مطلب کو واضح کردیتی ہیں(غور و فکر کریں)۔
۴۔ اس کے بعد دوسرے جملہ میں خدا وندعالم کی ایک دوسری صفت کے سلسلہ میں اشارہ کیا ہے آپ فرماتے ہیں:وہ فاعل ہے (ہرکام کو انجام دینے والاہے)لیکن حرکات و آلات کا محتاج نہیں ہے۔ (.فاعل لا بمعنی الحرکات والالة)۔
روزانہ کی باتوں میں معمولا فاعل اور کام کرنے والا اس پر اطلاق ہوتا ہے جو اپنے ہاتھ اور پیر یا سر اور گردن کی حرکات و سکنات سے کوئی کام انجام دیتا ہے اور چونکہ انسان اور جانداروں کی قدرت کام انجام دینے میں محدود ہے اور انسان کے اعضاء اپنی تمام ظرافت کے ساتھ ہر کام انجام دینے پر قادر نہیں ہیں، اور وسائل و آلات سے مدد لیتا ہے اور اپنی کمیوں اور قدرت کو اس سے پورا کرتا ہے۔ ہتھوڑے سے کیل کو ٹھوکتا ہے، آری سے لکڑی کو کاٹتا ہے اور جر ثقیل سے بھاری چیزوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ. منتقل کرتا ہے اور ان سب میںجسم و جسمانیت کے آثار پائے جاتے ہیں۔
اور چونکہ خداوند عالم کے پاس نہ جسم ہے اور نہ ہی اس کی قدرت کے لئے کوئی حدوحدودی ہے لہذا اس کی فاعلیت بھی کسی حرکت کو انجام دینے کے معنی میں نہیں ہے اور وہ اپنی نامحدود قدرت کی وجہ سے وسائل و آلات کامحتاج نہیں ہے۔
اصولی طور پر وسائل و آلات کے خلق ہونے سے پہلے خداوند فاعل تھا۔ جب بھی اس کو کوئی انجام دینے کیلئے کسی آلہ کی ضرورت ہوتی تو وہ اپنی پہلی اشیاء کی خلقت سے عاجز ہوتا۔
جی ہاں وہ ایک آنکھ جھپکنے سے پہلے یا اس سے بھی کم وقت میں اپنے حکم ”کن“ کے ذریعہ پوری کائنات کو موجود یا معدوم کرسکتا ہے اور رفتہ رفتہ ہر وقت اپنے ارادہ کے ذریعہ اس کو وجود دے سکتا ہے۔ پس توجہ رہے کہ جب بھی ہم کہتے ہیں کہ خدا وند عالم فاعل ہے تو اس کی فاعلیت کو اپنی ذات پر قیاس نہ کریں اور آلات ووسائل کی حرکات کے مرہون منت شمارنہ کریں۔
البتہ اس کے معنی یہ نہیںہیں کہ خداوند عالم کے پاس خلقت کی تدبیر کیلئے فرمانبرداراور فرشتے نہیں ہیں۔ وہ بہت سے حوادث کو اسباب کے ذریعہ ایجادکرتا ہے کیونکہ اس کا ارادہ اسی پراستوار ہے، ایسا نہیں ہے کہ اس کو ان کی ضرورت ہے۔
۵۔ اس کے بعد فرماتے ہیں: وہ اس وقت بھی دیکھنے والا تھا جب کہ مخلوقات میں کوئی چیز دکھائی دینے والی نہ تھی(بصیر اذ لا منظور الیہ من خلقہ)۔
یہ بات صحیح ہے کہ ”بصیر“ کے معنی دیکھنے کے ہیں، اس کا مادہ ”بصر“ ہے جس کے معنی آنکھ کے ہیں، لیکن خدا وند عالم کے متعلق کبھی بھی حقیقی معنی میں استعمال نہیں ہوتا۔ دوسرے لفظوں میںیہ کہا جائے کہ ایسا مجاز ہے جو حقیقت سے بالاتر ہے۔ خداوند عالم کے بصیر ہونے کے معنی یہ ہیں کہ وہ ان تمام چیزوں سے آگاہ ہے جو روٴیت کے قابل ہیں ، یہاں تک کہ وہ اس وقت بھی بصیر تھا جب کوئی چیز دکھائی دینے والی نہیں تھی۔
اس بناء پر اس کا بصیر ہونا اس کے بے نہایت علم کی طرف پلٹتا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ اس کا علم ازلی ہے۔
اس حصہ کے آخری جملہ میں اس کی وحدانیت کے متعلق اشارہ کرتے ہیں :وہ یگانہ ہے، اس لئے کہ اس کا کوئی ساتھی ہی نہیں ہے کہ جس سے وہ مانوس ہو اور اسے کھو کر پریشان ہوجائے(متوحد اذ لا سکن یستانس بہ و لا یستوحش لفقدہ)(3)۔
دوسرا احتمال قوی معلوم دیتا ہے ۔ ضمنا جملہ ”لا یستوحش“ میں ”لا“زائدہ ہے اور تاکید کے لئے آیا ہے اور بعض نے اس کو جملہ مستانفہ سمجھاہے۔
انسان اور دوسرے زندہ موجودات کی قدرت اپنے فائدہ حاصل کرنے اور ضرر و نقصانات کو دور کرنے میں محدود ہے لہذا وہ اپنے جیسے افراد یا دوسروںسے مدد لینے میں مجبور ہیں تاکہ جو خطرات اس کو درپیش ہیں ان کے مقابلہ امنیت کا احساس کرسکیں۔ یہاں پر معلوم ہوتا ہے کہ انسان تنہائی سے ڈرتا ہے اور اپنے پاس دوسرے افراد کے ہونے سے خصوصا اس وقت جب اس کو آفات، بلاؤں اور بیماریوں کا خطرہ ہو تو آرام و سکون حاصل کرتا ہے۔اور کبھی کبھی یہ کوتاہ فکر انسان خدا کو اپنے آپ سے قیاس کرتا ہے اور تعجب کرتا ہے کہ خداوند عالم ان مخلوقات کے پیدا ہونے سے پہلے کس طرح تنہا تھا، اور کس طرح بغیر دوست و مددگار کے رہتا تھا، اور کس طرح اس تنہائی کے عالم میں آرام و سکون کا احساس کرتا تھا؟!
اس بات سے بے خبر ہو کر کہ وہ ایساموجود ہے جس کو کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے جو اس کی مدد کرے او رنہ کسی کی دشمنی سے پریشان ہے کہ اس کے لئے کسی سے مدد کی درخواست کرے اور نہ کوئی اس کا شبیہ و نظیر ہے جس سے وہ انس و محبت کرے۔ اسی وجہ سے وہ ہمیشہ متوحد(بے یار و مددگار)تھا اور اسی طرح آج بھی ہے اور آئندہ بھی رہے گا، مذکورہ بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ لفظ ”متوحد“ کا مفہوم ”واحد“ اور ”احد“ سے الگ ہے۔


1. اس بناء پر ”استوی علی العرش“ کے معنی خدا وندعالم کی عرش کے اوپر حکومت اورحاکمیت کے مستقر ہونے کے ہیں۔ بہر حال اگر کوئی اس تعبیر سے خداوند عالم کی جسمانیت کا خیال کرے تو وہ بہت ہی بچگانہ حرکت انجام دیتا ہے۔
2 .نہج البلاغہ کے بہت سے شارحین نے مندرجہ بالا دو جملوں کو دو عبارتوں میں ایک ہی مطلب سمجھا ہے اور بعض نے(جیسے ابن ابی الحدید نے نہج البلاغہ کی شرح میں) پہلے جملہ (کائن لا عن حدث)کوعدم حدوث زمانی کی طرف اشارہ اور دوسرے جملہ (موجود لا عن عدم)کو عدم حدوث ذاتی کی طرف اشارہ سمجھا ہے۔
3۔ کیا یہاں پر ”
۱ذ“ ظرفیت ہے اور اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ازل میں کوئی چیز پیدا نہیں کی گئی تھی اور اس کی ذات کے علاوہ کسی چیز کا وجود نہیں تھا، جس کو وہ اپنا انیس و مونس قرار دیتا ، یا اس کے چلے جانے سے ناراض ہوتا؟ یا یہ کہ ”اذ“ یہاں پر علت کو بیان کررہا ہے یعنی چونکہ کسی کا وجود نہیں تھا اس لئے وہ یکہ و تنہا تھا اور آج بھی ہے کیونکہ اس کو کسی کی یا کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے؟

نکات

اس حصہ میں بہت سے پر معنی نکات پوشیدہ ہیں اور اس میں بہت سے عبرت آمیز درس ہیں جن کے ذریعہ سے” اللہ کی معرفت اور اس کے اسماء و صفات“ کی بہت سی عقیدتی مشکلات حل ہوسکتی ہیں:

۱۔ مخلوق اور خالق کا رابطہ اور ”وحدت وجود“ کا مسئلہ!

خدا وند عالم او رمخلوق کے درمیان کیا رابطہ ہے اس سلسلہ میں فلاسفہ اور دانشوروں کے درمیان اختلاف ہے۔ اس سلسلہ میں بعض گروہ نے افراط سے کام لیا ہے اور انہوں نے وحدت وجود اور موجود کی راہ میں قدم بڑھایا اور اس کو مخلوق کی طرح سمجھنے لگے۔
وہ کہتے ہیں عالم ہستی میں ذاتی وجود ایک سے زیادہ نہیں ہے اور اس کے علاوہ جوکچھ بھی ہے اس میں اس کی ذات کے جلوے موجود ہیں یا دوسرے لفظوں میں یہ کہاجائے : ایک سے زیادہ کوئی چیز نہیں ہے اورکثرت ، تعدد، خیالات اور فکریں ایسی سراب کی طرح ہیں کہ جو اپنے آپ کو پانی ظاہر کرتا ہے لیکن وہ کچھ بھی نہیں ہے۔
کبھی کبھی وحدت او راتحاد کے بجائے حلول کی تعبیر کرتے ہیں اور کہتے ہیں وہ ایسی ذات ہے جو تمام اشیاء میں حلول کرگئی ہے اور ہر زمانہ میں ایک لباس میں آتا ہے اور بے خبر وجال لوگ اس میں دوئی کا احساس کرتے ہیں جب کہ وہ ایک سے زیادہ کچھ نہیں ہے (
۱) ۔
۱۔ بہت سے صوفیوں کا یہی عقیدہ ہے اور ان کے بڑے علماء کے جملے اس بات پر گواہ ہیں جو انہوں نے کہے ہیں جیسے بعض نے کہا ہے ”انی انا اللہ“ (میں خدا ہوں) اور بعض نے بہت تعجب خیز جملات کہیں ہیں ”سبحانی ما اعظم شانی” (میں پاک و منزہوں! میرا مقام و منزلت کتنا بڑا ہے!) اور بعض نے اپنے اشعار میں وضاحت کے ساتھ کہا ہے: بت پرستی عین خدا پرستی ہے!
مسلمان گر بدانستی کہ بت چیست
یقین کردی کہ حق در بت پرستی است!
جیسا کہ مولوی کہ اشعار میں بیان ہوا ہے جو خدا کو ایک بت عیار کے عنوان سے یاد کرتا ہے کہ خدا وند عالم ایک روز آدم کے لباس میں آیا! اور بعد میں نوح کی شکل میں اس کے بعد موسی و عیسی کی شکل میں ظاہر ہوااور پھر محمد (ص) کی شکل میں اور ایک روز علی اور ان کی تلوار ذوالفقار کی شکل میں ظاہر ہوا اور آخر کار منصورکی شکل میں سولی پر چڑھ گیا! ( ”عارف و صوفی چہ می گویند“ سے تلخیص، صفحہ
۱۱۷) ۔
خلاصہ یہ کہ وہ عالم ہستی کو ایک دریا کی طرح سمجھتے ہیں اور موجودات کو اس دریا کے قطرے:
ہر کس کہ ندیدہ قطرہ بابحریکی
حیران شدہ ام کہ چون مسلمان باشد؟!
دوسرے لفظوں میں یہ کہا جائے کہ ہر طرح کی دوئی، اس عالم میں خیال و وہم کے علاوہ کچھ نہیں ہے:
وصال این جایگہ رفع خیال است
خیال از پیش بر خیزد وصال است!
بلکہ بعض علماء کے عقیدے کے مطابق انسان صوفی حقیقی اس وقت ہو سکتا ہے جب وحدت وجود اور موجود پر اعتقاد رکھتا ہو بغیر اس کے صوفی حقیقی نہیں بن سکتا کیونکہ تصوف کی اساس اور بنیاد یہی وحدت وجود ہے!
اگر چہ ان کے بعض کلمات ، توجیہ کرنے اور بعض صحیح معانی پر حمل کرنے کے قابل ہیں۔ جیسا کہ عالم میں قائم بالذات کا حقیقی وجود ایک سے زیادہ نہیں ہے اور باقی جو کچھ ہے وہ اسی سے وابستہ ہے (جیسا کہ تشبیہ میں اسمی اور حرفی معنی کی بحث میں کہا ہے)یا یہ ہے کہ خداوندعالم کی ذات (کہ جس کاوجود ہر جہت سے لامحدود ہے) کے علاوہ باقی موجودات اس قدر چھوٹی اور بے قیمت ہیں جن کا شمار نہیں ہوتا ایسا نہیں ہے کہ ان کا اصلا وجود ہی نہ ہو۔
لیکن ان کی یہ باتیں توجیہ و تاویل کے قابل نہیں ہیں بیشک یہ کہتے ہیں اس دنیا میں ایک وجود کے علاوہ کچھ نہیں ہے باقی جو کچھ ہے وہ ایک خیال اور وہم ہے یہاں تک کہ وضاحت کرتے ہیں کہ بت پرستی بھی اگر محدود نہ ہو تو عین خدا پرستی ہے، کیونکہ تمام عالم وہ ہے اور وہ تمام عالم ہے۔
یہ بات کسی کی بھی ہو(وجدان و عقل کے برخلاف ، بلکہ بدیہات میں سے ہے اور اس کے ذریعہ علت و معلول، خالق و مخلوق اور عابد معبود کا انکار کیا جارہا ہے) اسلامی عقاید کے لحاظ سے اس کا فساد و بطلان کسی کے اوپر پوشیدہ نہیں ہے۔کیونکہ اس صورت میں خدا اوربندہ، پیغمبر و امت، عابد و معبود اور شارع و مکلف کا کوئی مفہوم ہی نہیں رہ جائے گایہاں تک کہ بہشت و دوزخ، اہل بہشت اور اہل دوزخ سب ایک ہوجائیں گے اور سب اس کی عین ذات ہیں،اور یہ دوئی ، وہم و خیال کی ایجاد ہے کہ اگر اس وہم و خیال کے پردوں کو ہٹا دیں تواس کے وجود کے علاوہ کچھ باقی نہیں رہے گا! اور اس کا لازمہ یہ ہے کہ خداوند عالم کے مجسم ہونے یا اس کے حلول ہوجانے کا اعتقاد قائم ہوجائے گا۔
لہذا یہ نہ عقل و دلایل عقل سے سازگارہے اور نہ اسلامی عقاید اور قرآن سے۔ یہی وجہ ہے کہ فقیہ نامدار مرحوم محقق یزدی (قدس سرہ) عروة الوثقی کے متن میں کفار کی بحث کے سلسلہ میں لکھتے ہیں : لا اشکال فی نجاسة الغلاة والخوارج والنواصب و اما المجسمة والمجبرة والقائلین بوحدة الوجود من الصوفیة اذا التزموا باحکام الاسلام فالاقوی عدم نجاستھم الا مع العلم بالتزامہم بلوازم مذاھبھم من المفاسد (
۱) ۔ غلات، خوارج اور نواصب کے ناپاک ہونے میں کوئی شک نہیں ہے (۲) ۔ لیکن جو لوگ خدا کی جسمانیت اور جبر کے قائل ہیں اور اسی طرح صوفیوں کا وہ گروہ جو وحدت الوجود کا قائل ہے، اگر یہ اسلام کے احکام پر عمل کریں تو اقوی یہ ہے کہ یہ نجس نہیں ہیں ، مگر یہ ثابت ہوجائے کہ جو چیزیں ان کے مذہب میں فاسد ہیں یہ ان پر قائم ہیں۔
اس عبارت میں دو نکتہ قابل توجہ ہیں: ایک وحدت وجود کے معتقدین کو جبریوں اور جو لوگ خدا کی جسمانیت کے قائل ہیں،ان کے اوپر عطف کرنااور ان سب کو ایک صف میںشمار کرنا اور دوسرے اس بات کی وضاحت کہ ان کے اعتقاد میں مفاسد دینی پائے جاتے ہیں اگر یہ ان مفاسد کو انجام دیں تو مسلمان نہیں ہیں اور اگر ان مفاسد کو انجام نہ دیں تو مسلمانوں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔
یہ بات وضاحت کے ساتھ سمجھا رہی ہے کہ ان کے مذہب میں اس قدر مفاسد موجود ہیں کہ اگر یہ ان پر پابند رہیں تو مسلمانوں کی صف سے خارج ہوجائیں گے۔
یہ بات قابل توجہ ہے کہ جن علماء نے عروہ الوثقی پر حاشیہ لگایا ہے، انہوں نے اس بات کو قبول کیا ہے یا اس پر کچھ قیود کا اضافہ کیا ہے (جیسے توحید اور رسالت کے انکار کا سبب نہ ہو) (3) ۔
اس مسئلہ کے مفاسد اور برائیوں کو جاننے کے لئے ایک مثال پیش کرتے ہیں جس کی طرف مثنوی میں اشارہ ہوا ہے۔
مثنوی کے چوتھے دفتر میں ایک لمبی داستان کو نقل کرتے ہوئے یزید کے جملہ ”سبحانی ما اعظم شانی“ کو نقل کیا ہے جس پر اس کے مریدوں نے اعتراض کیا ہے کہ یہ کیا بکواس ہے جس کو بیان کرتے ہو اور کہتے ہو ”لا الہ الا انا فاعبدون” (میرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے لہذا میری پرستش کرو)؟!۔ اس نے کہا اگر میں نے دوبارہ اس کی تکرار کی تو چاقو سے میرے اوپر حملہ کرنا۔ دوبارہ پھر اس نے یہی کہااور ”میرے جبہ میں خدا کے علاوہ کوئی نہیں ہے اس کو زمین و آسمان میں کیوں تلاش کرتے ہو“کا نغمہ الانپا۔ اس کے مریدوں نے چاقو سے اس پر حملہ کیا،لیکن انہوں نے دیکھا کہ وہ چاقو سے اپنے جسم کو زخمی کررہے ہیں۔
یہ گھڑا ہوا افسانہ اور اس طرح کی فکر بتا رہی ہے کہ اس راہ کو تلاش کرنے والے کہاں تک جاتے ہیں۔
اس بات کو نہج البلاغہ میں ایک معاصر کے کلام پر ختم کرتے ہیں:
”یہ مکتب (وحدت وجود بہ معنائے وحدت موجود)عقلی تمام قوانین ، نفسانی فکر اور الہی ادیان کی باتوں سے دور ہے اور جہان ہستی کو وجود کے مرتبہ (خدا) سے اوپر لے جاتا ہے یا خدا کو بہت پست کرکے اس دنیا سے ملا دیتا ہے ، ایسا لگتا ہے کہ اس مکتب نے بعض افراد کے ذہن کواشکالات سے چھٹکارا پانے کیلئے مشغول کررکھا ہے (4) ۔


۱۔ عروة الوثقی، نجاست کافر کی بحث، مسئلہ ۲۔
۲۔”غلات“ وہ لوگ ہیں جو ائمہ(علیہم السلام)خصوصا حضرت علی(علیہ السلام) کے بارے میں غلو کرتے ہیں اور ان کو خدا جانتے ہیں یا ان کو خدا کے ساتھ متحد شمار کرتے ہیں۔ ”خوارج“ وہ لوگ ہیں جو جنگ صفین میں سے باقی رہ گئے تھے اور انہوں نے حضرت علی(ع) کے خلاف خروج کیا تھااور جنگ نہروان میں آپ کے ساتھ جنگ میں ہار گئے تھے ۔ اور نواصب ، اہل بیت (علیہم السلام) کے دشمن ہیں۔
3۔اس کی زیادہ وضاحت کیلئے مرحوم آیة اللہ شیخ محمد تقی آملی (فقیہ ، فلسفی) کی کتاب مصباح الھدی کی جلد اول کے صفحہ
۴۱۰ پر مراجعہ کریں اور اسی طرح مرحوم آیةاللہ خوئی کی تقریرات میں تیسری جلد کے صفحہ ۸۱ اور ۸۲ پر مراجعہ کریں۔
4۔ترجمہ و تفسیر نہج البلاغہ، استاد جعفری، جلد
۲، ص ۶۴۔

۲۔ ناآگاہ افراد کا خدا کے صفات کی حقیقت سے منحرف ہونا

اگر مولا علی(علیہ السلام) کے اس حصہ کے کلام میں غور و خوض کریں تو اصل توحید اور خدا کے صفات کی حقیقت سے منحرف ہونے کا راستہ بند ہو جاتا ہے اور اور انسان ان آیات ”و نحن اقرب الیہ من حبل الورید” (ہم انسان کی شہ رگ سے زیادہ نزدیک ہیں (1)) اسی طرح ” و ھو معکم اینما کنتم” (2) ”و ما یکون من نجوی ثلاثة الا ھو رابعھم” (کہیں بھی تین آدمیوں کے درمیان راز کی بات نہیں ہوتی ہے مگر یہ کہ وہ ان کا چوتھا ہوتا ہے (3))، ”اللہ نور السموات والارض” (اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے (4))، اور ” و اعلموا ان اللہ یحول بین المرء وقلبہ“ (اور یاد رکھو کہ خدا انسان اور اس کے دل کے درمیان حائل ہوجاتا ہے (5)) کے مفہوم سے بخوبی آگاہ ہوجاتا ہے۔
یہ نکتہ وحدت و جود سے متعلق بحثوں کو(اس کے صحیح معنی میں) کامل کرنے کے علاوہ خدا کے صفات میں ہر طرح کی کج فہمی کے راستہ کو بند کردیتا ہے۔
لیکن حیرت و تعجب کی وادی میں گمشدہ افراد ایسے مسائل کو تلاش کرنے لگے جس سے انسان کو شرم آتی ہے۔
انہی میں سے ایک گروہ ”مجسمہ“ کا ہے یہ لوگ خدا وند عالم کے لئے ان صفات کے قائل ہوگئے جو صفات ممکنات میں پائے جاتے ہیں اور اس کے لئے جسم و جسمانیت تک کے قائل ہوگئے، یہی نہیں بلکہ اس کے لئے شکل و صورت ، ہاتھ پیر ، گھنگھریالے بال اور زمان و مکان کے قائل ہوگئے، ایک گروہ کا عقیدہ ہے کہ خدا وند عالم اس دنیا میں مشاہدہ کیا جاسکتا ہے اور ایک گروہ کاعقیدہ ہے کہ خدا کو فقط آخرت میں دیکھا جاسکتاہے۔
”محقق دوانی“ جن کا شمار مشہور فلاسفہ میں ہوتا ہے (بحار الانوار کے نقل کے مطابق) کہتے ہیں:” اہل تشبہ کا ایک گروہ خدا کو حقیقت میں جسم سمجھتا ہے ، بعض اس کو گوشت اور خون سے مرکب جانتے ہیں اور بعض اس کو چمکتا ہوا نور ، چاندی کے سورج جیسا سفید رنگ جس کی لمبائی خود اس کے ہاتھ سے سات بالشت ہے ، بعض اس کو انسان کی صورت جیسا اور بعض اس کو بغیر ڈاڈھی والا جوان، گھنگھریالے بال اور بعض اس کو بوڑھے انسان کی شکل میں سیاہ اور سفید بالوں والا اور بعض اس کو (دوسرے تمام اجسام کی طرح نہیں) جسم سمجھتے ہیں اور بعض ان جیسے دوسرے باطل اور بے اساس عقاید کے قائل ہوگئے ہیں۔(6) ۔
اس بھی زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی روایات یا بعض اصحاب پیغمبر (ص) سے خداوند عالم کیلئے عجیب جسمانی اوصاف نقل کئے ہیں (جب کہ یقینا یہ روایات جعلی ہیں) ۔ ایک حدیث میں ابن عباس سے نقل کرتے ہیں کہ آپ سے پوچھا: کیا محمد (ص) نے اپنے پروردگار کا مشاہدہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، سوال کیا گیا: خدا کو کیسے دیکھا؟ کہا: ایک سرسبز و شاداب باغ میں ایک سونے کی کرسی پر جس کا فرش بہت خوبصورت تھا اور اس کو چار فرشتہ اٹھائے ہوئے تھے ،بیٹھے ہوئے دیکھا (7) ۔
اس کے علاوہ صحیح بخاری، سنن ابن ماجہ اور دوسری کتابوں میں متعدد روایات نقل ہوئی ہیں جن میں وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے کہ خداوند عالم کو قیامت کے دن آنکھوں کے ذریعہ دیکھ سکتے ہیں (8) ۔ یہاںتک کہ بعض روایات میں تصریح کی ہے کہ اہل بہشت خدا کو دیکھیں گے جس طرح سے چودہویں کا چاند دکھائی دیتا ہے (9) ۔
ان احادیث کی وجہ سے بہت سے اہل سنت دانشور قیامت کے روز خدا وند عالم کے روٴیت کے قائل ہوگئے اور شدت کے ساتھ وہ اس سے دفاع کرتے ہیں، جبکہ قرآن مجید صراحت کے ساتھ کہتا ہے: لا تدرکہ الابصار(کوئی بھی آنکھ خدا کو نہیںدیکھ سکتی) (10) ۔ اور حضرت موسی سے فرمایا: ”لن ترانی” (تم مجھے کبھی بھی نہیں دیکھ سکتے (11)) ۔ (اور ہمیں یہ معلوم ہے کہ ”لن“ ہمیشہ ، ابد کی نفی کیلئے استعمال ہوتا ہے) ۔
خطبہ اشباح میں یہ مسئلہ وضاحت کے ساتھ بیان ہوا ہے وہاں پر آپ فرماتے ہیں:
”والرادع اناسی الابصار عن ان تنالہ او تدرکہ او تبصرہ“ ۔ : وہ آنکھ کی پتلیوں کو (دور ہی سے)روک دینے والا ہے کہ وہ اسے پاسکیں یا اس کی حقیقت معلوم کرسکیں۔
دوسرے خطبہ میں فصیح و بلیغ زبان میں فرماتے ہیں: ”الحمدللہ الذی لا تدرکہ الشواھد و لا تحویہ المشاھد و لا تراہ النواظر و لا تحجبہ السواتر“ ۔ساری حمد و ستائش اس اللہ کے لئے ہے جسے حواس پا نہیں سکتے ، نہ جگہیں(مکان) اس کو گھیرسکتی ہیں، نہ آنکھیں اس کو دیکھ سکتی ہیں،نہ پردے اسے چھپا سکتے ہیں(12) ۔
ان عقائد کے علاوہ عقل کے صریح حکم کے مخالف ہے،کیونکہ اگر خدا مشاہدہ کے قابل ہو تو یقینااس کے لئے جسم کا ہونا بھی ضروری ہوگا اور وہ کسی جگہ یا کسی سمت میں ہوگا ، اور اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ محدود ہوجائے گا اور اس طرح وہ واجب الوجود ہونے سے تنزلی کی طرف آجائے گااور ممکنات کے زمرہ میں آجائے گا۔
یہاں پر آکر معلوم ہوتا ہے کہ امیر المومنین(علیہ السلام) کی لطیف تعبیرات کس طرح آفتاب اور مہتاب کی طرح چمک رہی ہیں اور حقائق کے چہرہ کو منور کررہی ہیں اور باطل و خرافاتی عقاید کو نابود کررہی ہیں ، امیر المومنین (علیہ السلام)ہمیں توحید اور خدا کے صفات کی شناخت کا خوبصورت اور آسان درس دے رہے ہیں۔
آپ ہمیشہ افراطی اور تفریطی افراد کے سامنے خود نمائی کرتے ہیں ۔ بعض افراد تو تشبیہ کے قائلین کے برخلاف خداکو جسم اور جسمانیت سے نیچے لے آئے ہیں۔اور ان کا عقیدہ ہے کہ خدا کی شناخت ممکن نہیں ہے ، نہ اس کی حقیقت اور نہ اس کے صفات کی شناخت۔ اور ہم خدا کے صفات سے منفی مفاہیم کے علاوہ کچھ نہیں سمجھتے ۔ جب کہتے ہیں کہ وہ عالم ہے تو اس سے یہ بات سمجھ میں اتی ہے کہ وہ جاہل نہیں ہے ، لیکن اس کا عالم ہونا ہماری سمجھ میں نہیں آتا اور اس طرح وہ انسان کے سب سے بڑے افتخار یعنی معرفة اللہ اور شناخت خدا کو فراموشی کے سپرد کردیتے ہیں اور ایسے راستہ کی طرف قدم بڑھاتے ہیں جس میں سرا سر ظلمت، تاریکی اور قرآن مجید کی تعلیم کے برخلاف ہے، قرآن مجید کہتا ہے کہ خدا کی شناخت کے راستہ ہمارے لئے کھلے ہوئے ہیں۔
اس بات کو نہج الباغہ کی دوسری بہترین تعبیر کے ساتھ ختم کرتے ہیں جس میں آپ نے فرمایا: لم یطلع العقول علی تحدید صفتہ ولم یحجبھا عن واجب معرفتہ فھو الذی تشھد لہ اعلام الوجود علی اقرار قلب ذی الجحود تعالی اللہ عما یقول المشبھون بہ والجاحدون لہ علوا کبیرا۔
اس نے عقلوں کو اپنی صفتوں کی حد و نہایت پر مطلع نہیں کیا اور ضروری مقدار میں معرفت حاصل کرنے کے لئے ان کے آگے پردے بھی حائل نہیں کئے وہ ذات ایسی ہے کہ جس کے وجود کے نشانات اس طرح اس کی شہادت دیتے ہیں کہ (زبان سے) انکار کرنے والے کا دل بھی اقرار کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اللہ ان لوگوں کی باتوں سے بہت بلند و برتر ہے جو مخلوقات سے اس کی تشبیہ دیتے ہیں، اور اس کے وجود کا انکار کرتے ہیں۔(13) ۔
افراط و تفریط (تشبیہ و تعطیل) کے درمیان ،معرفت اور شناخت خدا کا بہترین راستہ وہی ہے جس کو امام علی علیہ السلام نے مذکورہ تعبیرات میں بیان کیا ہے۔
خداوند عالم کے صفات سے متعلق اور اس کی صحیح معرفت و شناخت کو امام علی علیہ السلام نے نہج البلاغہ کے دوسرے خطبوں میں بہت سادہ جملوں میں بیان فرمایا ہے جو اس خطبہ کی بحثوں کو مکمل کرتے ہیں ، انشاء اللہ اس کی وضاحت وہیں پر بیان کریں گے۔


1۔ سورہٴ ق، آیت ۱۶۔
2۔ سورہ ٴ حدید، آیت
۴۔
3۔ سورہٴ مجادلہ، آیت
۷۔
4۔ سورہٴ نور، آیت
۳۶۔
5۔ سورہ انفال، آیت
۲۴۔
6۔ بحار الانوار، جلد
۳، ص ۲۸۹۔
7۔ توحید ابن خزیمہ، صفحہ
۲۱۷ (”بحوث فی الملل والنحل“کتاب کے نقل کے مطابق، جلد ۱، ص ۱۴۵۔
8۔ صحیح بخاری، ج
۶، ص ۵۶، تفسیر سورہ نساء اور سنن ابن ماجہ، ج۱،(مقدمہ۔ باب ۱۳۔ حدیث ۱۷۷) ۔
9۔ ان روایات کا مطالعہ کرنے کیلئے (جو کہ یقینا جعلی روایات ہیں) اور اسی طرح ان روایات کا جواب اور آیات ومعتبر روایت سے وہ دلیلیں جو کہتی ہیں کہ خدا کو آنکھوں کے ذریعہ نہیں دیکھا جاسکتا ، نہ دنیا میں اور نہ ہی آخرت میں، ان کا مطالعہ کرنے کیلئے پیام قرآن تفسیر موضوعی کی چوتھی جلد ، ص
۲۴۱ سے ۲۵۱ تک مراجعہ کریں۔
10۔ سورہ انعام، آیت
۱۰۳۔
11۔ سورہ اعراف، آیت
۱۴۳۔
12۔ نہج البلاغہ، خطبہ
۹۱۔
13۔ نہج البلاغہ ، خطبہ
۱۸۵۔
14۔ نہج البلاغہ، خطبہ
۴۹۔

۳۔ اس کی ذات پاک سے ذاتی اور زمانی حدوث کی نفی

اس حصہ میں جو تعبیرات بیان ہوئی ہیں ان سے استفادہ ہوتا ہے کہ خدا کی ذات میں نہ حدوث ذاتی پایا جاتا ہے اور نہ حدوث زمانی۔
حدوث زمانی سے مراد یہ ہے کہ کوئی چیز کسی زمانہ میں وجود پائے یا دوسرے لفظوں میں یہ کہا جائے کہ کسی زمانہ میں موجود نہ ہو اور پھر موجود ہوجائے ۔ یہ معنی اس دنیا کے پیدا ہونے کے بعد متصور ہوتے ہیں کیونکہ جہان کی خلقت سے زمان وجود میں آیا ہے اور حدوث و عدم زمانی کے مفہوم نے وجود پایا ہے۔
حدوث ذاتی سے مراد یہ ہے کہ جہان مادہ کی پیدائش سے قطع نظر وہ اپنی ذات میںحادث ہو یا دوسرے لفظوں میں یہ کہا جائے کہ اس کا وجود اس کی ذات سے نہیں بنا ہے۔ بلکہ کسی دوسرے وجود کے معلول سے وابستہ ہے اور یہ بات مسلم ہے کہ ان دونوں حدوث میں سے کوئی ایک بھی خداوند عالم کی ذات میں موجود نہیں ہے کیونکہ وہ واجب الوجود تھا اور ہے اور ہمیشہ رہے گا، بلکہ اس کا وجود عین ہستی ہے (غور و فکر کریں) ۔

۴۔ کیا لفظ ”موجود“ خداوند عالم کے اوپر اطلاق ہوتاہے؟

کیا لفظ ”موجود کو خداوند عالم کے اوپراطلاق کیا جاسکتا ہے ؟ مذکورہ تعبیرمیں فرماتے ہیں ”موجود لا عن عدم“ (وہ ایسا وجود ہے جو عدم سے وجود میں نہیں آیا)، اگر یہ معنی مراد لئے جائیںتو اس لفظ کے اس پر اطلاق کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ لیکن یہ بات مسلم ہے کہ یہ لفظ اسم مفعول ہے اور اس کا اصلی مفہوم اور معنی یہ ہے کہ کسی دوسرے نے اس کو وجود بخشا ہے اوریہ خدا کی ذات پر صدق نہیں کرتا اور موجود کا یہاں پر دوسرا مفہوم ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ وجود رکھنے والا ہے جیسا کہ نہج البلاغہ کی بعض شرحوں میں اس کی تصریح ہوئی ہے کہ موجود کبھی کبھی ماہیات ممکنہ پر جو کہ وجود کی صفت ہے اطلاق ہوتا ہے اور کبھی موجود کہا جاتا ہے اور اس سے مراد خود وجود ہوتا ہے (1) ۔یہ تعبیر(موجود) اصول کافی کی بعض روایات میں بھی آیا ہے (2) ۔


1- مفتاح السعادةفی شرح نہج البلاغہ، جلد ۱، ص ۱۳۹۔
2۔ اصول کافی، جلد
۱ذ، باب ادنی المعرفة، حدیث۱، اور جلد۱، باب النہی عن الصفة، حدیث ۱، اور جلد۱، باب جوامع التوحید، حدیث ۴۔

چوتھا حصہ

انشا الخلق انشاء و ابتداء بلا رویة اجالھا و لا تجربة استفادھا ولا حرکة احدثھا و لا ہمامة نفس اضطراب فیھا احال الاشیاء لاوقاتھا ولام بین مختلفاتھا و غرز غرائزھا والزمھا اشباحھا عالما بھا قبل ابتدائھا محیطا بحدودھا و انتھائھا عارفا بقرائنھا واحنائھ.
ترجمہ :اس نے خلق کو ایجاد کیا بغیر کسی فکر کی جولانی کے اور بغیر کسی تجربہ کے جس سے فائدہ اٹھانے کی اسے ضرورت پڑی ہواور بغیر کسی حرکت کے جسے اس نے پیدا کیا ہو اور بغیر کسی ولولہ اور جوش کے جس سے وہ بیتاب ہوا، خدا وند عالم نے ہر چیز کی تخلیق کو اس کے وقت کے حوالے کیا۔ بے جوڑ چیزوں میں توازن و ہم آہنگی پیدا کی، ہر چیز کو جدا گانہ طبیعت و مزاج کا حامل بنایااور ان طبیعتوں کے لئے مناسب صورتیں ضروری قرار دیں، وہ ان چیزوں کو ان کے وجود میں آنے سے پہلے جانتاتھا ان کی حدود و نہایت پراحاطہ کئے ہوئے تھا اور ان کے تمام لوازم و جوانب کو پہچانتا تھا۔

شرح و تفسیر

تخلیق کائنات کے متعلق بحث

ابھی تک اس خطبہ میں جو سب سے اہم بات بیان کی گئی وہ خدا کی معرفت اس کی شناخت اور اس کے مختلف صفات کی طرف اشارہ تھا جو انسان کی معرفت کا پہلا مرحلہ ہے اور اس فراز کے بعد تخلیق کائنات ، خلقت کے آغاز کی کیفیت اور زمین و آسمان کے عجائب و غرائب کے متعلق بیان کیا ہے ،اگر چہ یہ بھی خدا وند عالم کے گذشتہ صفات کے سلسلہ میں ایک تکمیلی بحث ہے۔
اس حصہ کے شروع میں فرماتے ہیں : اس نے خلق کو ایجاد کیا بغیر کسی فکر کی جولانی کے اور بغیر کسی تجربہ کے جس سے فائدہ اٹھانے کی اسے ضرورت پڑی ہواور بغیر کسی حرکت کے جسے اس نے پیدا کیا ہو اور بغیر کسی ولولہ اور جوش کے جس سے وہ بیتاب ہوا،(انشا(
۱) الخلق انشاء و ابتداء بلا رویة(۲) اجالھا(۳) و لا تجربة استفادھا ولا حرکة احدثھا و لا ہمامة (۴) نفس اضطراب فیھا) ۔
یہاں پر امام (علیہ السلام) خلقت الہی کو مخلوقات کے کاموں سے بطور کلی جدا شمار کرتے ہیں کیونکہ جب انسان کسی کام کو انجام دینا چاہتا ہے اور اس کام کو پہلے کبھی انجام نہ دیا ہو تو پہلے اس کے بارے میں فکر کرتا ہے اور پھر اپنی ایجاد کے ذریعہ اس کو شروع کرتا ہے اور اگر وہ کام پہلے کبھی انجام پاچکا ہوتا ہے تو دوسروں کے تجربہ یا اپنے تجربہ سے فائدہ اٹھاتا ہے اور کبھی کبھی اس کے ذہن و فکر میں ایک بہت بڑی حرکت ہوتی ہے اور وہ اس مسئلہ کے مقدمات پر غور و فکر کرتا ہے اور پھر اس کے نتیجہ تک پہنچتا ہے اور کبھی کبھی شک و تردید میں متزلزل رہتا ہے اور آخر کار اس کام کے ایک سرے کو انتخاب کر کے آگے بڑھ جاتا ہے۔
خدا وند عالم کی ذات میں تخلیق کائنات کے وقت ان چاروں حالتوں میں سے کوئی ایک حالت بھی نہیں پائی جاتی ، نہ اس کو غور و فکر کی ضرورت ہے اور نہ پہلے تجربہ کی ، نہ وہ اس کے مقدمات اور نتیجہ پر غور و فکر کرتا ہے اور نہ اپنے ارادہ میں شک و تردید اور متزلزل کی کیفیت میں رہتا ہے۔ اس کا ارادہ کرنا یعنی موجودات کو ایجاد کرنا ہے ” انما امرہ اذا اراد شیئا ان یقول لہ کن فیکون“ اس کا امر صرف یہ ہے کہ کسی شے کے بارے میں یہ کہنے کا ارادہ کرلے کہ ہوجا اور وہ شے ہوجاتی ہے (5) ۔
دوسرے لفظوں میں یہ کہا جائے کہ یہ چاروں حالتیں ان اشخاص سے مربوط ہوتی ہیں جن کا علم و قدرت محدود ہوتا ہے اور اس کا لازمہ یہ ہے کہ انسان کو سوچ بچاریا دوسروں کے تجربہ یا ان کے اندر اضطراب و تردید پایا جاتا ہے۔ لیکن جس کا علم بے نہایت اور قدرت نامحدود ہے اس کو تخلیق کے وقت یہ حالات پیش نہیں آتے ہیں۔
مندرجہ بالا باتوں سے بخوبی استفادہ ہوتا ہے کہ حرکت سے مراد وہی نفس کے اندر غور و فکرکرنے کی حرکت ہے ۔
لیکن بعض مفسرین نے یہ احتمال بھی دیا ہے کہ حرکت سے مراد جسمانی خارجی حرکت ہے جو کہ اجسام کا لازمہ ہے اور خدا وند عالم ، جسم و جسمانیات سے بہت بلند و بالا ہے۔
لیکن پہلے معنی زیادہ مناسب نظر آتے ہیں ، کیونکہ عبارت میں دوسری تینوں حالتوں کا سیاق وسباق کسی کام کوانجام دینے سے پہلے غور و فکر کرنے او رارادہ کرنے سے متعلق ہیں۔
خلاصہ یہ کہ خداوند عالم کے افعال بندوں کے افعال سے بالکل جدا ہیں ، کیونکہ وہ اشیاء کے مصالح و مفاسد اور تخلیق کے نظام پر قدرت تام و کامل رکھتا ہے اور یقین کے ساتھ ارادہ کرتا ہے اور بغیر کسی شک و تردید، تزلزل اور تجربہ کے موجودات کو وجود کا لباس پہنا تا ہے ۔ تخلیق کے شروع میں بھی ایسا ہی ہے اور تخلیق کے بعد بھی۔
اس کے بعد موجودات کی تخلیق اور اشیاء کی تدبیر کی طرف منظم و مرتب پروگرام کے تحت اشارہ کرتا ہے اور فرماتا ہے: خدا وند عالم نے ہر چیز کی تخلیق کو اس کے وقت کے حوالے کیا(کیونکہ اس کی تخلیق تدریجی اور منظم و مرتب پروگرام کے تحت ہوئی تھی تاکہ وہ اپنی با عظمت تدبیر اور قدرت بے نظیر کو آشکار کرے) ۔ (احال الاشیاء لاوقاتھا) ۔
موجودات کی تخلیق کے مسئلہ کے بعد اس کے خاص داخلی نظام اور ترکیب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں : بے جوڑ چیزوں میں توازن و ہم آہنگی پیدا کی(ولام (6) بین مختلفاتھا) ۔
عالم تخلیق کے عجائبات میں سے ہے کہ خداوند عالم نے مختلف اشیاء اور موجودات کو ایک دوسرے سے اس طرح متصل اور ان میں توازن و ہماہنگی پیدا کی ہے کہ گویا یہ سب ایک ہی ہیں۔ سرد و گرم،تاریک و روشنائی، موت و زندگی ، پانی اور آگ کو آپس میں جوڑ دیا ہے ۔ ہرے درخت میں آگ کو خلق کیا اور انسان و حیوان اور نباتات کو ایک مختلف مادہ سے مختلف طبیعتوں میں خلق کیاہے ، یہاں تک کہ روح اور جسم (جو کہ دو مختلف عالم سے بنے ہیں ایک مجرد ، نورانی اور بہت ہی لطیف ہے اور دوسرا مادی، تاریک اور خشن ہے) کے درمیان ایک عمیق پیوند قرار دیا ہے۔
اس کے بعد مزید فرماتے ہیں: خدا وند عالم نے ان میں طبیعت اور غرایز کو قرار دیا اورہر چیز کو جدا گانہ طبیعت و مزاج کا حامل بنایا(و غرز (7) غرائزھا) ۔
حقیقت میں یہ خداوند عالم کی حکمتوں میں سے ایک حکمت ہے جو ہر موجود میں اس کی ضرورت کے اعتبار سے اس کی طبیعی صورت میں ایجاد کردی گئی ہے تاکہ وہ کسی دوسرے محرک کی ضرورت کے بغیر اپنے راستہ کو اختیار کرلے اور اپنی ذات کے اندر سے مخصوص پروگرام کی طرف گامزن ہو کیونکہ اگر موجودات کے اندر داخلی غریزہ نہ ہوتا تو اشیاء کے آثار ہمیشہ باقی نہ رہتے اور موجودات کے اوپر بے نظمی اور بے سروسامانی حکومت کرتی۔
آج کے زمانے میں انسان یا دوسرے موجودات کی ذاتی ہئیت کو دو مختلف چیزوںسے تعبیر کیا جاتا ہے ، کبھی فطرت سے تعبیر کرتے ہیں اور کہتے ہیں خدا شناسی انسان کی فطرت ہے اور کبھی غریزہ (طبیعت) سے تعبیر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انسان میں جنسی طبیعت پائی جاتی ہے، یا کہتے ہیں کہ حیوانات کی حرکت میں عام طور سے غریزی(فطری)پہلو پایا جاتا ہے ۔ حقیقت میں یہ ایک ایسی اصطلاح ہے جس کی دانشوروں نے بنیاد رکھی ہے ۔ ایک ایسی فطرت و طبیعت کے متعلق استعمال کرتے ہیں جس میں غور و فکر کا پہلو پایا جاتا ہے (فطرت) اور دوسرے ان طبیعت اور فطرت کے متعلق استعمال کرتے ہیں جس میں غیر فکری یا عاطفی پہلو پایا جاتا ہے (غریزہ) ۔ لیکن لغوی معنی کے اعتبار سے دونوں کے معنی تخلیق اور ایجاد کے ہیں۔
اس حصہ کے آخری جملہ میں فرماتے ہیں : اور ان طبیعتوں کے لئے مناسب صورتیں ضروری قرار دیں(والزمھا اشباحھا) (8) ۔
نہج البلاغہ کے مفسرین نے اس جملہ کی دومختلف تفسیریں بیان کی ہیں۔ بعض مفسرین جیسے ”ابن ابی الحدید“ کا عقیدہ ہے کہ مذکورہ جملہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خداوند عالم نے ان غرایز کو موجودات میں ثابت اور برقرار کیا ہے (اس بناء پر ”الزمھا“ کی ضمیر ، غرایزکی طرف پلٹتی ہے)لہذا مذکورہ جملہ موجودات میں غرایز کے ثابت ہونے پر تاکید کررہا ہے۔
لیکن بعض مفسرین نے کہا ہے کہ وجودسے مراد ہر موجود کیلئے خاص امتیازات ہیں۔ یعنی خداوند عالم نے ہر چیز کو کچھ خصوصیات دیں اور کیونکہ خداوند عالم کے ذہن میں کلی طور پر موجود تھیں لہذا بعد میں ان کو خارج میں جزئیات اور اشخاص کی صورت میں قرار دیا(اس تفسیر کی بناء پر ”الزمھا“ کی ضمیر، اشیاء کی طرف پلٹتی ہے)بعض نے دونوں تفسیروں کو دو احتمال کے طور پر ذکر کیا ہے۔
لیکن چونکہ پہلی تفسیر میں ضمیروں کی ہماہنگی محفوظ نہیں ہے اور اس کے علاوہ جملہ تاکیدی سمجھا جاتا ہے نہ کہ نیا اور جدید مطلب ، لہذا دوسری تفسیر صحیح معلوم دیتی ہے۔
اس بات کی وضاحت کہ خداوند عالم نے ہر موجود میں دو خصوصیت رکھی ہیں وہ خصوصیات جو ان کی ذات میں پوشیدہ ہیں جس کو امام علیہ السلام نے غرایز سے تعبیر کیا ہے اور وہ خصوصیات جو ظاہر اور نمایاں ہیں جیسے زمان ، مکان اور تمام جزئیات۔ اور اس کو ”الزمھا اشباحھا“ سے تعبیر فرمایا ہے اور اس طرح اپنی حکمت کے مطابق ہر موجود کیلئے ظاہری اور باطنی خصوصیات مقرر فرمائیں تاکہ ہر موجود اپنے خاص وظیفہ کو انجام دے سکے اور دوسرے موجودات سے اپنی پہچان کرا سکے۔

 


۱۔ ”انشاء“ کا مادہ ”انشاء“ ہے ، اس کے متعدد معانی ذکر ہوئے ہیں لیکن ظاہر ہے کہ یہاں پر اس کے معنی ایجاد کے ہیں۔
۲۔ مقاییس اللغہ کے بقول ”رویة“ کے معنی سیراب ہونے کے ہیں لیکن دقت کے ساتھ غور و فکر کرنے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے ، گویا اپنی فکر کو اس مسئلہ کے متعلق سیراب کرتا ہے یا مسئلہ کو اپنی فکر سے سیراب کرتا ہے اور فکر کرنے کا حق ادا کرتا ہے۔
۳۔ ”اجال“ کا مادہ ”جولان“ ہے اور اس کے معنی حرکت کرنے اور گردش کر نے کے ہیں۔
۴۔ نہج البلاغہ کے شارحین اور مفسرین نے ”ھمامة“ کے مختلف معنی ذکر کئے ہیں:بعض نے اس کے معنی کسی چیز کے متعلق داخلی تمایل کے بیان کئے ہیں یعنی اس کے فقدان کی وجہ سے انسان ناراض ہوتا ہے (شرح ابن میثم بحرانی، ج۱، ص ۱۳۲) ۔
بعض نے اس کے معنی کسی کام میں شک و تردید کرنے کے بیان کئے ہیں(منہاج البراعة، ج
۱، ص ۵۱) ۔
بعض نے کسی مطلب کو اہمیت دینے کے بیان کئے ہیں(شرح مغنیہ، ج
۱، ص ۲۷) ۔
ابن ابی الحدید نے اپنی مشہور شرح میں ”ہمامہ“ کو ”مجوسیوں“ کے اعتقاد ات میں شمار کیا ہے ، وہ لوک معتقد تھے کہ نور اعظم کاارادہ، ظلمت و تاریکی سے جنگ کرتے وقت متزلزل تھا اور اس کی ذات سے ایک چیز خارج ہوئی جس کا نام ”ھمامة“ تھا۔
لیکن لغت میں ”ھمامة“ کے معنی ضعف، فتور اور سستی کے ہیں لہذا ہر کمزور و ناتوان مرد و عورت کو ”ھم“ اور ”ھمة“ کہتے ہیں ، تمام باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ عبارت ”ھمامہ“ کے معنی عزم و ارادہ میں شک و تردید ، سستی اور ناتوانی کے ہیں، اس طرح سے کہ انسان کسی کام کا ارادہ نہ کرسکے یا زحمت ومشقت کے ساتھ ارادہ کرنے پر قادر ہوتا ہے۔
5۔ سورہ یس، آیت
۸۲۔
6۔ ”لام“ و ”لائم“ کا مادہ ”لام“ ہے اور اس کے معنی جمع کرنے، اصلاح اور کسی چیز کو دوسری چیز کے ساتھ شامل کرنے اور جوڑنے کے ہیں اور اسی وجہ سے زرہ کو ”لامہ“ (رحمة کے وزن پر) کہتے ہیں کیونکہ اس کے حلقہ آپس میں ملے ہوتے ہیں اور ایک دوسرے سے جوڑے ہوتے ہیں۔
7۔ ”غرز“ کا مادہ ”غرز“ (قرض کے وزن پر )ہے اور اصل میں اس کے معنی سوئی چبھونے یا بٹھانے اورکسی چیز میں داخل کرنے کے ہیں، اس کے بعد وہ ان طبیعتوں پر اطلاق ہونے لگا جو انسان اور زندہ موجودات میں ودیعت کی ہیں ، گویا یہ طبعیت اور غرایز ، انسان کے وجود کی سرزمین میں پودے کا مانند لگا دیا ہے۔

8۔ ”اشباح“، ”شبح“ کی جمع ہے (بعض اہل لغت کی تصریح کے مطابق) اور اصل میں یہ شخص کے معنی میں ہے اور آشکار، نمایاں اور ظاہر چیز کے معنی میں بھی آتا ہے اور روز مرہ کے استعمالات میں ایسے موجود کو ”شبح“ کہتے ہیں جو صاف طور سے ظاہر نہ ہو اور اچانک ظاہر ہوجائے۔

نکتہ

تمام موجودات کی فطری اور تکوینی ہدایت

امام علیہ السلام کے مندرجہ بالا کلمات میں جن باتوں کی طرف اشارہ ہواہے ان میں ایک اہم نکتہ پایا جاتا ہے جس پر قرآن مجید نے بھی مکرر تاکید کی ہے اور وہ یہ ہے کہ تمام موجودات خلقت اور مادہ میں ایک خاص زمانہ پایا جاتا ہے اوران میں آپس میں تضاد و اختلاف ہونے کے باوجود یہ ایک دوسرے سے ہماہنگ اور متصل ہیں اور ایک دوسرے کو کامل کرتی ہیں اور ہمیشہ داخلی اور خارجی نظم و ترتیب کے ذریعہ ان کی ہدایت ہوتی ہے اور ایک منظم قافلہ کی صورت میں ایک ساتھ اپنے آخری ہدف کی طرف گامزن ہیں اور اپنے راستہ سے منحرف نہیں ہوتے ہیں اور بطور دقیق اپنے مقصد کی طرف جار ہے ہیں۔
فصل بہار اور گرمیوں میں درخت کے پتوں کا سرسبز و شاداب ہونا، اور سردیوں میں ان کا خشک ہوجانا ، باروں برجوں پر خورشید کا حرکت کرنا، شب و روز کی کیفیت ، زمین کا اپنے گردگھومنااور اسی طرح انسان کی داخلی اور ظاہری طاقت خدا وند عالم کی تکوینی ہدایت پر گواہ ہیں جیسا کہ قرآن مجید حضرت موسی(علیہ السلام) کی زبانی فرماتا ہے : ”ربنا الذی اعطی کل شئی خلقہ ثم ھدی“ ( ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر شے کو اس کی مناسب خلقت عطا کی ہے اور پھر ہدایت بھی دی ہے) (1) ۔
دوسری جگہ فرماتا ہے: ”فطرة اللہ التی فطر الناس علیھا“ (یہ توحید اور اسلام )وہ فطرت الہی ہے جس پر اس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے) (2) ۔
اور نیز فرماتا ہے : ”و ان من شئی الا عندنا حزائنہ و ما ننزلہ الا بقدر معلوم“ (اور کوئی شئے ایسی نہیں ہے جس کے ہمارے پاس خزانے نہ ہوں او رہم ہر شے کو ایک معین مقدار میں (نظم و حساب کے مطابق )ہی نازل کرتے ہیں) (3) ۔
یہ حقیقت میں خداوند عالم کے وجود کی ایک اہم نشانی ہے کہ جس قدر بھی انسان اس میں غور و فکر کرے ، ہدایت تکوینی ، نظم اور مختلف چیزوں کے درمیان اتصال کے مسئلہ کا بطور دقیق مطالعہ کرے تو اس مسئلہ سے بخوبی واقف ہوجائے گا۔
اس کے بعدمزید فرماتے ہیں : وہ ان چیزوں کو ان کے وجود میں آنے سے پہلے جانتاتھا ان کی حدود و نہایت پراحاطہ کئے ہوئے تھا اور ان کے تمام لوازم و جوانب کو پہچانتا تھا (عالما بھا قبل ابتدائھا محیطا بحدودھا و انتھائھا عارفا بقرائنھا (4) و احنائھا(5)) (6) ۔
حقیقت میں یہ تین جملے پہلے جملوں کیلئے دلیل یا بیان یا وضاحت کے طور پر بیان ہوئے ہیں کیونکہ جو یہ چاہے کہ ہر موجود کو اس کے مناسب وقت پر ایجاد کرے اور مختلف اشیاء کو ایک دوسرے سے متصل کرے ، داخلی غرایزاور اور بیرونی لوازم کو ان کی جگہ پر مقرر کرے ، لہذا ایک طر ف اس سے کامل اور جامع آگاہی کی ضرورت ہے اور دوسری طرف اس پر احاطہ اور تام و تمام قدرت کی ضرورت ہے۔
اسی وجہ سے آپ نے فرمایا: وہ ان چیزوں کو ان کے وجود میں آنے سے پہلے جانتاتھا ان کی حدود و نہایت پراحاطہ کئے ہوئے تھا اور ان کے تمام لوازم و جوانب کو پہچانتا تھا(عالما بھا قبل ابتدائھا محیطا بحدودھا و انتھائھا عارفا بقرائنھاواحنائھا) ۔
خداوند عالم نہ صرف ان کی ابتداء اور انتہاء سے باخبر تھا بلکہ ان کے لوازم و جوانب اور علل و آثار کو بھی جانتا تھا۔ لہذا جو بھی ان تمام امور سے آگاہ ہو اور ان کو انجام دینے پر قادر و توانائی رکھتا ہو وہ ہر چیز کو منظم طریقہ سے اس کی جگہ پر رکھ سکتا ہے اور ہر چیز کو جس کی ضرورت ہے اس کو عطا کرسکتا ہے اور اس کی حیات اور وجود کی طرف ہدایت کرکے اس کے اصل کمال کی طرف پہنچا سکتاہے۔


1۔ سورہ طہ، آیت ۵۰۔
2۔ سورہ روم، آیت
۳۰۔
3۔ سورہ حجر، آیت
۲۱۔

4۔ ”قرائن“ ، قرینہ کی جمع ہے ، اس کے معنی مصاحب اور دوست کے ہیں۔(صحاح ، قاموس اور لغت کی دوسری کتابیں) نہج البلاغہ کے بعض شارحین جیسے ”ابن ابی الحدید“ نے ”قرائن“ کو ”قرونہ“ (معونہ کے وزن پر) کی جمع اور اس کے معنی نفس سمجھے ہیں ، لیکن مذکورہ تمام جملوں میں جو تعبیر بیان ہوئی ہے اس کے اعتبار سے پہلے معنی زیادہ مناسب ہیں۔
5۔”احنا“ ، ”حِنو“ (فِعل کے وزن پر) کی جمع ہے اورمقاییس ولسان العرب کے بقول ” حَنو“ (حَرف کے وزن پر)ہر اس چیز کو کہتے ہیں کہ جس میں کجی پائی جاتی ہو ، جیسے ٹھڈی اور دانتوں کی ہڈی۔ اس کے بعد جوانب کے معنی میں بھی آیا ہے (کیونکہ اشیاء کے اطراف و جوانب اکثرا ٹیڑھے ہوتے ہیں) ۔
6۔ توجہ رہے کہ ان چند جملوں میں جو ضمیریں استعمال ہوئی ہیں یہ سب ”اشیاء“ کی طرف پلٹتی ہیں نہ کہ ”غرائز“ کی طرف، جیسا کہ بعض نہج البلاغہ کے مفسرین نے بیان کیا ہے کیونکہ دوسرے احتمال کا جملوں کے ساتھ کوئی خاص تناسب نہیں پایا جاتا۔

نکات

۱۔ کیا خدا وند عالم پر ”عارف“ کا لفظ اطلاق ہوتا ہے؟

نہج البلاغہ کے بعض مفسرین نے اس مسئلہ میں شک و تردید کیا ہے کہ کیا خدوند عالم کو ”عارف“ سے توصیف کیا جاسکتا ہے۔
اس شک و تردید کی وجہ دو چیزیں ہیں:
اول یہ ہے کہ مفردات میں راغب کے بقول معرفت اور عرفان کے معنی کسی چیز کے آثار میں غور و فکر اور تدبیر کے ساتھ درک کرنا ہے یادوسرے لفظوں میں یہ کہا جائے کہ معرفت اس علم کو کہتے ہیں جو محدود ہو اور غور وفکرکے ذریعہ سے حاصل ہو اور یہ بات مسلم ہے کہ خداوند عالم کا علم ایسا نہیں ہے۔
دوسرے یہ ہے کہ ایک حدیث میں پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا: ”ان لہ(تعالی) تسعة و تسعین اسما من احصاھا دخل الجنة“ خداوند عالم کے ننانویں (
۹۹) نام ہیں اور جو بھی ان ناموں کو پڑھے گا (اور ان پر ایمان و معرفت رکھے گا)وہ جنت میں جائے گااور علماء کا اجماع یہ ہے کہ ان نناویں (۹۹) ناموں میں عارف خدا کا نام نہیں ہے (1) ۔
لیکن ایک اجمالی تحقیق سے پتہ چلتاہے کہ اسلامی روایات میں بارہا خداوندعالم کے اوپر اس لفظ کا اطلاق ہوا ہے اور نہج البلاغہ (میں یہ لفظ وصف کے طور پر اور دوسری جگہ فعل کی صورت یمں آیا ہے) کے علاوہ کہ اصول کافی میں بھی یہ لفظ متعدد بار استعمال ہوا ہے (2) ۔
اس سے پتہ چلتا ہے کہ معرفت کے لفظ میں اگر چہ محدودیت کے معنی یا اس میں غور و فکر کی ضرورت کے معنی پائے جاتے ہیں لیکن بعد میں کثرت استعمال کی وجہ سے اس کا مفہوم وسیع ہوتا چلا گیا جس کی وجہ سے یہ علم و آگاہی کی ہر قسم پر استعمال ہونے لگا چہ جائیکہ اس میں فکر و اندیشہ نہ پایا جاتا ہو۔
لیکن نناویں(
۹۹) ناموں والی روایت کے متعلق یہ کہا جائے کہ اس روایت سے کبھی بھی خدا کے ناموں کو نناویں(۹۹) ناموں میں محدود نہیں کیا جاسکتا بلکہ یہ حقیقت میں خداوند عالم کے برجستہ صفات اور خدا کے اسمائے حسنی ہیں اور اسی وجہ سے بعض روایات میں خدا کے ایک ہزار نام بیان ہوئے ہیں اور اس پر اس سے بہتر اور کیا دلیل ہوسکتی ہے کہ امام علی(علیہ السلام)جو کہ خود خدا کے ناموں اور صفات سے سب سے آگاہ ہیں ، آپ نے نہج البلاغہ کے مطابق خداوند عالم کے ان ناموں یاان سے مشتق ناموں کو استعمال کیا ہے۔

 


1۔ ابن میثم نے اس بات کو ایک اشکال کے طور پر پیش کیاہے اور اس کے بعد جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ خداوند عالم کے نام اس سے زیادہ ہیں اور اس پر کچھ دلیلیں بھی دی ہیں(شرح نہج البلاغہ، ابن میثم، جلد۱، ص ۱۳۷) ۔
اس بات کی طرف توجہ رہے کہ مذکورہ حدیث صحیح بخاری، مسلم،مسند احمد ، سنن ترمذی اور دوسری معتبر کتابوں سے در المنثور میں نقل ہوئی ہے، الدر المنثور، جلد
۳، ص ۱۴۷(پیام قرآن، جلد ۴، صفحہ ۴۶) ۔
2۔ اصول کافی، جلد
۱، ص ۹۱، باب النسبة، حدیث ۲ و صفحہ ۱۱۳، باب حدوث الاسماء، حدیث ۲۔

۲۔ موجودات کو ایجاد کرنے سے قبل خداوند عالم کے علم کی کیفیت

فلسفی اور اعتقادی پیچیدہ مسائل میں سے ایک مسئلہ ”موجودات کو ایجاد کرنے سے قبل خداوند عالم کے علم کی کیفیت“ سے متعلق ہے ۔ ایک طرف تو ہم جانتے ہیں کہ خداوند عالم آئندہ حوادث سے آگاہ ہے اور قرآن کریم کی آیات میں بھی اس کی طرف بارہا اشارہ ہوا ہے اور مذکورہ عبارت میں بھی بیان ہوا ہے۔
دوسری طرف خداوند عالم کا علم ”علم حصولی“ نہیں ہے ، یعنی اشیاء کی ذہنی صورت اورنقش و نگار اس کی ذات میں منعکس نہیں ہوتے ہیں کیونکہ اس کے پاس مخلوقات کی طرح ”ذہن“ نہیں ہے، اور اس کا علم موجودات کی صورت کو منعکس کرنے کی طرح نہیں ہے بلکہ اس کا علم ”علم حضوری“ ہے، یعنی مخلوقات کا وجود اس کے نزدیک حاضر ہے اور ہم جانتے ہیں کہ جو چیزیں ابھی وجود میں نہیں آئی ہیں ان کے متعلق علم حضوری معنی نہیں رکھتا، یہاں تک کہ یہ اشکال ان موجودات کے متعلق بھی پیش آتا ہے جو گذشتہ میں محو او رنابود ہوگئی ہیں، اگر ہم ان سے آگاہ ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی ذہنی صورتیں اور ان کی یادداشت ہمارے دل و جان میں سما گئی ہیں ،لیکن جس کے پاس ذہن ، یادداشت اور داخلی نقش و نگار نہیں ہیں اور جس کی ذات محل حوادث نہیں ہے وہ کس طرح ان چیزوں سے باخبر اور آگاہ ہوسکتا ہے؟!
مثال کے طور پر فرعون اور اس کے اصحاب کی صورتیںنابود ہوگئی ہیں اوران کی تاریخ بھی بہت پرانی ہوگئی ہے ہم فقط ان کی تصویروں کو اپنے ذہن میں حاضر کرسکتے ہیں ، لیکن خداوند عالم کا علم اس طرح نہیں ہے تو وہ کس طرح ان کے متعلق آگاہی رکھتا ہے؟
کیا یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ گذشتہ سے آگاہ نہیں ہے؟ یا اس کو آئندہ کی خبر نہیں ہے؟ ہرگز! پس اگر وہ عالم ہے تواس کا علم کیسا ہے؟
اس پیچیدہ مسئلہ نے فلاسفہ اور علمائے کلام کو سخت مشکل میں ڈال رکھا ہے اور انہوں نے اس کے متعدد جواب دئیے ہیں ، ہم اس حصہ میں اس مسئلہ کی طرف سرسری بحث کریںگے:
۱۔ خداوند عالم ہمیشہ اپنی ذات جو کہ تمام اشیاء کی علت ہے ،سے آگاہ تھا اور آگاہ ہے، دوسرے لفظوں میں یہ کہا جائے کہ اس کی ذات اس کے پاس حاضر ہے اور اپنی ذات کا یہ علم تمام موجودات عالم چاہے وہ ایجاد سے پہلے ہو یا ایجاد سے بعد میں ہو ان سب کا ایک علم اجمالی اس کے پاس موجود ہے۔
اگر ہمیں اشیاء کی علت کے بارے میں بالکل صحیح علم ہو تو یہ علم اس کے نتیجہ اور معلول تک پہنچنے کا سبب بنے گا۔ کیونکہ ہر علت میں اس کے معلول کے تمام کمالات پائے جاتے ہیں اور چونکہ خداوند عالم تمام اشیاء کی علت ہے اور اپنی ذات سے آگاہ ہے اور تمام اشیاء سے بھی آگاہ ہے اور حقیقت میں یہ ایک طرح کا کشف تفصیلی ہے۔
اس بات کی ایک دوسری طرح بھی توضیح دی جاسکتی ہے: گذشتہ حوادث بطور کامل نابود نہیں ہوئے ہیں اور ان کے آثار آج کے حوادث میں پوشیدہ ہیں ۔ اسی طرح آئندہ حوادث ، آج کے حوادث سے جدا نہیں ہیں اور وہ ان سے مربوط ہیں اور انہی سے ان کو وجود ملتا ہے ۔ اس طرح کہ گذشتہ، حال اور آئند ہ اس سلسلہ کا ایک مجموعہ ہے جوعلت و معلول سے و جود میں آیا ہے جس کی وجہ سے ایک حلقہ اور سلسلہ کا علم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس سے پہلے اور بعد والے حلقہ سے واقف ہے۔
مثال کے طور پر اگر ہم بطور دقیق پوری زمین کی ہوای کی کیفیت اور ان عوامل کو جو موجودہ ہوا کی پیدائش کا سبب بنے ہیں ،جان لیں اور تمام جزئیات اور علت و معلولات کے رابطہ سے آگاہ ہوجائیں تو بطور دقیق ہزاروں سال پہلے کی ہوا کی کیفیت کو معلوم کرسکتے ہیں۔
کیونکہ گذشتہ اور آئندہ تمام چیزیں حال حاضر میں موجود ہیں۔ بطور دقیق آج کی تمام چیزیں کل پر منحصر ہیں اور آئندہ کی آج پر۔ اور آج کی تمام جزئیات پر کامل طور سے آگاہ ہونے کا مطلب ہے کہ گذشتہ اور آئندہ کے حوادث سے بطور کامل آگاہ ہیں۔
اب اگر اس حقیقت کی طرف توجہ کریں کہ خداوند عالم کل،آج اور آئندہ کے تمام حوادث کا اصلی سرچشمہ ہے اور اس کو اپنی ذات کا علم ہے تو ہمیں یہ قبول کرلینا چاہئے کہ اس کو گذشتہ، آئندہ اور آج کے تمام حوادث کا علم ہے۔ البتہ جس موجود میں جو بھی اثر ہے وہ اس کے حکم اور اجازت سے ہے ، لیکن اس کی سنت اس بات پر جاری ہے کہ وہ موجودات کو آثار اور خواص عطا کردے اور جب چاہے ان آثار کو ان سے واپس لے لے (1) ۔
۲۔ دوسرا راستہ جو اس سوال کے جواب میں اختیار کیا جاسکتا ہے وہ یہ ہے کہ گذشتہ،حال اور آئندہ کا ہمارے علم میں تصور ہوتا ہے کیونکہ ہمارا وجود محدود ہے لیکن خداوند عالم کی ذات نامحدود ہے ، گذشتہ، حال اور آئندہ کا وہاں پر کوئی مفہوم نہیں پایا جاتا ،بلکہ تمام اشیاء اور حوادث اپنی تمام خصوصیات اور جزئیات کے ساتھ اس کے پاس حاضر ہیں۔
اس دقیق اور نازک مطلب کو مثال کے ذریعہ واضح کیا جاسکتا ہے:
فرض کرلیں کہ کوئی شخص کسی کمرہ میں قید ہے اور اس کمرہ میں فقط ایک چھوٹا سا سوراخ ہے اور اس سوراخ کے سامنے سے اونٹوں کی ایک قطار کو گزارا جائے تو یہ قیدی انسان اس سوراخ میں سے پہلے اونٹ کا سر اور گردن کو دیکھے گا پھر اس کے کوہان کو اور پھر اس کی پیروں اور اس کی دم کو دیکھے گا اور پھر دوسرے اونٹوں کو اسی طرح دیکھے گا۔
سوراخ کے چھوٹا ہونے کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے کہ وہ اپنے لئے گذشتہ ، حال اورآئندہ بنا لیتا ہے لیکن جو شخص اس کمرہ کے باہر ہو اور اس کی چھت پر یا کھلی ہوئی فضا میں اس بیابان کو دیکھ رہا ہو تو پھر اس کو اونٹوں کی پوری قطار ایک دفعہ میں نظر آجائے گی (غور و فکر کریں) ۔


1۔ جن لوگوں نے مذکورہ اشکال کا جواب دینے کی کوشش ہے ان کے سامنے یہ سوال پیش آتا ہے کہ اس بات کا لازمہ یہ ہے کہ خداوند عالم ، موجودات کی کثرت کو کثرت کی صفت کے ساتھ ان کے وجود سے پہلے نہیں جانتا تھا، کیونکہ کثرت اس کی ذات میں نہیں ہے یا دوسرے لفظوں میں یہ کہا جائے کہ موجوددات کے وجود سے پہلے اور ان کے وجود کے بعد خداوند عالم کے علم میں فرق ہے: وجود سے پہلے اس کا علم اجمالی ہے اور وجود کے بعد علم تفصیلی ہے اور تعجب کی بات یہ ہے کہ بعض نے اس فرق کا اعتراف بھی کیا ہے۔

پانچواں حصہ

ثم انشا (سبحانہ ) فتق الاجواء و شق الارجاء و سکائک الھوائ
ترجمہ
پھر خداوند عالم نے فضا کے طباقت کو کھولا اور فضا کو ایجاد کیااور اس کے اطراف و اکناف کو وسیع کیا،پھر فضا اور ہوا کے طبقات کو ایجاد کیا ۔

شرح و تفسیر

دنیا کی پیدائش کے آغاز کی کیفیت

مورد بحث عبارت کے پہلے جملہ میں دنیا کی شروعات کو بیان کیا اور فضا کی خلقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ” پھر خداوند عالم نے فضا کے طباقت کو کھولا اور فضا کو ایجاد کیا ۔ (ثم انشا سبحانہ فتق (۱) الاجواء(۲)) ۔
اور اس کے اطراف و اکناف کو وسیع کیا ۔ (و شق (
۳) الارجاء (۴)) ۔
اور فضا و ہوا کے طبقات کو ایجاد کیا ۔ ( وسکائک (
۵) الھواء(۶)) ۔
ایسا لگتا ہے کہ یہ لفظ ا پنے استعمال کی وسعت کی وجہ سے” آکیسجن“ اور ” ازت “سے مرکب نامرئی گیس کے معنی میں بھی اس کا استعمال ہوتا ہے جو کہ اپنے اصلی معنی سے تناسب بھی رکھتا ہے کیونکہ یہ بھی ایک قسم کی خالی جگہ سمجھی جاتی ہے (اگر چہ بعض روایات میں اس معنی میں بھی استعمال ہوا ہے) ۔
پہلے حصہ میں فضا کو کھولنے کی طرف اشارہ ہے اور دوسرے حصہ میں اس کے اطراف وجوانب کو ایجاد کرنے اور تیسرے حصہ میں اس کے طبقات کی طرف اشارہ ہے ۔
ان تمام جملوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ جہان مادہ میں سب سے پہلے دنیا کی فضا کو خلق کیا گیا ہے ، ایسی فضا جس میں اجرام فلکی، منظومہ شمسی اور کہکشاں کو قبول کرنے کی استعداد پائی جاتی ہو ،بالکل اسی طرح سے جس طرح ایک ماہر نقاش ایک وسیع کاغذ کو نقاشی کرنے سے پہلے تیار کرتا ہے ۔
یہاں سے واضح ہوجاتا ہے کہ کلمہ ”ثم“ یہاں پر تکوینی ترتیب کے معنی میں نہیں ہے بلکہ اس کے ذریعہ بیان کی ترتیب و تاخیر کو بیان کیا گیا ہے ۔ کیونکہ پہلے جملوں میں مختلف موجودات اور کائنات کے خلق کرنے کو بیان کیا گیا ہے اور یقینا فضا کی تخلیق ، پھر اجرام فلکی اور زمین کے بعد نہیں ہوسکتی ، حقیقت میں گذشتہ حصہ میں موجودات کی تخلیق سے متعلق ایک اجمالی بحث کی گئی تھی اور اس حصہ میں اس کی شرح و تفصیل کو بیان کر رہے ہیں ۔
بہرحال اس عبارت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عالم مادہ میں سب سے پہلی مخلوق یا مخلوقات میں سے ایک مخلوق فضا ہے ، لیکن بعض فلاسفہ اور متکلمین نے فضا کے امر وجودی یا امر عدی ہونے میں تردید کی ہے اور بعض کا نظریہ ہے : جس طرح زمانہ ، موجودات کی پیدائش اور ان کی حرکت کے بعد حاصل ہوتا ہے (کیونکہ زمان وہی حرکت کی اندازہ گیری ہے) مکان بھی مختلف اجسام کی پیدائش اور ان ا یک دوسرے سے مقائسہ کرنے کے بعد حاصل ہوتا ہے ، جب کہ بہت مشکل ہے کہ ہم یہ تصور کریںجب پہلے جسم کو بنایا گیا تھاتو مطلقا کوئی مکان موجود نہیں تھا ۔
جب ہم چند منزلہ عمارت بناتے ہیں تو جس طرح زمین کے اوپرجگہ کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح زمین کے اوپری حصوں میں فضا بھی ضروری ہوتی ہے اور اگر بہت بڑی عمارت بنائی جائے تو اس کے لئے بہت زیادہ فضا کی بھی ضرورت ہے ۔
بہر حال امام علیہ السلام کے کلمات سے یہ ظاہر ہوتا ہے : فضا اوراس کے اطراف او رطبقات ، خدا کی مخلوق ہیں اور ہم اس کو قبول کرتے ہیں اور اس کے متعلق بحث کو خود اس کی جگہ پر بیان کریں گے ۔


۱۔ ”فتق“ (مشق کے وزن پر)اصل میں فتق کے معنی کھولنے اور دو چیزوں کے درمیان فاصلہ کے ہیں یہ ”رتق“ کے برخلاف ہے (جیسا کہ راغب نے مفردات میں کہا ہے)اور صبح کو ”فتیق“ کہتے ہیں، کیونکہ وہ افق کو پھاڑکر ظاہر ہوتا ہے ، لسان العرب کے بقول فصیح اور سخنور افراد کو ” فتیق اللسان“ کہتے ہیں کیونکہ اس کی زبان کھلی ہوئی اور کشادہ ہے ۔
۲۔ ”اجواء “ ، ” جو“ کی جمع ہے ، مفردات اور لسان العرب کے بقول اس ہوا اور فضاء کو کہتے ہیں جو زمین اور آسمان کے درمیان برقرار ہے ۔
۳۔ ”شق“ کے معنی کسی چیز میں شگاف کے ہیں ، اسی وجہ سے کسی جمعیت کے درمیان جب کوئی اختلاف ہوتا ہے اور وہ اختلاف ان کو ایک دوسرے سے جدا کردیتا ہے تو اس کو ”شقاق“ کہتے ہیں ۔
۴۔ ” ارجاء“ ”رجا“ (بغیر ہمزہ )کی جمع ہے ، مقائیس اللغہ کے بقول کنویں یا ہر چیز کے اطراف کو کہتے ہیں، اور جب ”رجاء“ ہمزہ کے ساتھ بولا جائے تو اس کے معنی امید کے ہوتے ہیں، بعض لغویین جیسے ”التحقیق“ کے مصنف کانظریہ ہے کہ اس کے اصلی معنی اسی چیز کے ہیں جس کے اطراف و جوانب میں واقع ہونے کی امید کی جاتی ہے اور اس طرح کے اطراف و جوانب جن میں امید کی جاتی ہے وہاں پر ”رجا“ (بغیر ہمزہ )کے اطلاق ہوتا ہے ۔
۵۔ ”سکائک “ ،”سکاکہ“(خلاصہ کے وزن پر) کی جمع ہے ، لسان العرب کے بقول اس ہوا اور فضاء کو کہتے ہیں جو زمین اور آسمان کے درمیان ہے، اور ابن ابی الحدید کے بقول فضا کا اوپری حصہ ہے ۔
۶۔ ” ھواء “ کے اصلی معنی ، خالی ہونے اور نیچے گرنے کے ہیں، لہذا ہر خالی چیز کو ” ھوا“ کہتے ہیں ، زمین و آسمان کے درمیان فضاء کے معنی بھی اسی بناء پر مراد لئے جاتے ہیں اور شہوائے نفسانی کی رغبت کو ”ھوا“ اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس کی وجہ سے انسان دنیا اور آخرت دونوں میں سقوط کرجاتا ہے (مقاییس اللغة، مفردات راغب، لسان العرب) ۔

نکتہ

کیا عالم مادہ حادث ہے؟

کیا عالم مادہ حادث ہے یا قدیم اورازلی؟ اس متعلق دانشوروں اور فلاسفہ کے درمیان اختلاف ہے ، بعض اس کو قدیم اورازلی جانتے ہیں اور بہت سے گروہ اس کو حادث سمجھتے ہیں ، لہذا ان دلائل کو مد نظر رکھتے ہوئے جو کہتے ہیں کہ ازلی اور ابدی ایک چیز ہے اور وہ خداوند عالم کی ذات پاک ہے ،اس کے علاوہ جو کچھ بھی ہے وہ حادث ہے اور اللہ تعالی کی مخلوق ہے اوراسی سے وابستہ ہے ۔
دنیا کو حادث سمجھنے والوں نے اس کے لئے کبھی فلسفی دلائل کو بیان کیا ہے اور کبھی علمی دلائل سے استفادہ کیا ہے ۔
برہان حرکت و سکون ، فلسفہ کی مشہور دلیل ہے جوکہتی ہے کہ عالم مادہ ہمیشہ حرکت اور سکون کی حالت میں ہے اور حرکت و سکون ،حادث ہیں اور جو چیز حوادث سے وجود میں آئے وہ خود بھی حادث ہے ۔
اس دلیل کو وسیع طور پر بیان کیا جاسکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ عالم مادہ میں ہمیشہ تغیر و تبدل ہوتا رہتا ہے اور تغیر و تبدل ، حدوث کی علامت ہے کیونکہ اگر ازلی ہواور اس میں ہمیشہ تغیر و تبدل ہوتا رہے تو حدوث اور قدم ایک جگہ جمع ہوجائیںگے یعنی وہ تغییرات جو کہ حادث ہیں ان کو ازلی ماننا پڑے گا اور یہ آشکار تناقض ہے ۔
یہ دلیل حرکت جوہری کو قبول کرنے سے جو کہ کہتی ہے اشیاء کی ذات میں حرکت چھپی ہوئی ہے ،بلکہ ان کی عین ذات ہے، آشکار اور رواضح ہوجاتی ہے،کیونکہ حرکت کا وجود جو کہ حادث ہے از میں اس کے کوئی معنی نہیں ہیں (غور وفکر کریں) ۔
یہ دلیل نقد و تحقیق کے قابل ہے اور اس کی تحقیق و نقد فلسفی مباحث میں کی جائے گی ۔
لیکن علمی دلیل ایسی دلیل ہے جو کہتی ہے عالم ہمیشہ خستہ اور پرانی حالت کی طرف رواں ہے اور بہت زیادہ علمی دلائل اس کی ہمیشہ فرسودگی اور خستگی کو ثابت کرتی ہیں ، سیارے، کہکشاں ، اپنی جگہ قائم ستارے،زمین اور وہ چیزیں جو زمین کے اوپر ہیں ان سب کو یہ قانون شامل ہے ، ہمیشہ جاری رہنے والی فرسودگی اس بات پر دلیل ہے کہ جہان مادہ ایک روز ختم ہوجائے گاکیونکہ فرسودگی بہت دیر تک قائم ودائم نہیں رہ سکتی اور جب ہم یہ قبول کرلیتے ہیں کہ اس کی کوئی آخری حداور ا ختتام ہے تو پھر یہ بھی قبول کرنا پڑے گا کہ اس کی شروعات اور آغازبھی ہے ۔ کیونکہ اگر کوئی چیز ابدی نہ ہو تو وہ یقینا ازلی بھی نہیں ہے ۔ کیونکہ ابدیت کے معنی ہیں جس کی کوئی انتہا یا حد نہ ہو۔ اور جس چیز کی کوئی انتہا نہ ہو وہ نامحدود ہے اورنامحدود کا کوئی آغاز نہیں ہوتا اس بناء پر جو چیز ابدی نہیں ہے وہ ازلی بھی نہیں ہے ۔
اس تعبیر کو دوسرے الفاظ میں بھی بیان کیا جاسکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر جہان ، ازلی ہے اور فرسودگی و خراب ہونے کی طرف رواں و دواں ہے تو اس فرسودگی کو دنیا کوختم کردینا چاہئے کیونکہ جس فرسودگی کی کوئی انتہاء نہ ہو وہ عدم کے مساوی ہے ۔
اس کے علاوہ آخری علمی نظریہ کے مطابق جہان مادہ ایک چیز کی طرف رواں دواں ہے ،ایٹم بھی آہستہ آہستہ منتشر اور قوت و طاقت میں تبدیل ہوجاتا ہے ، اور طاقتیں ایک ہی رنگ و آہنگ کی طرف چلتی ہیں (اس کی مثال بالکل اسی طرح ہے کہ جب کسی کمرہ میں آگ جلاتے ہیں تو جلانے والا مادہ گرمی میں تبدیل ہوجاتا ہے اور کمرہ کی گرمی آہستہ آہستہ منتشر ہوجاتی ہے، اور ایک رنگ و آہنگ کی صورت میں حرکت کرنے لگتی ہے ۔)
اگر اس عالم کے اوپر ایک بے انتہاء زمانہ گذر چکا ہوتو یہ حالت(تمام مواد کو طاقت وقوت میں تبدیل اور مستعد طاقت کو ایک رنگ اور مردہ حالت میں تبدیل ہوجانا ) ہونا چاہئے ۔
بہر حال اس مطلب کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ کوئی زمانہ ایسا تھا جس میں خداوند عالم نے کسی مخلوق کو خلق نہ کیا ہو اور اس کی فیاض ذات بے فیض رہی ہو بلکہ اس کے برعکس بھی کہاجاسکتا ہے : خداوند عالم کے پاس ہمیشہ ایک مخلوق تھی لیکن یہ مخلوق ہمیشہ تغیر و تبدل کی حالت میں تھی اور یہ تمام مخلوقات اس کی ذات سے وابستہ تھیں، یا دوسرے لفظوں میں یہ کہاجائے کہ یہ مخلوقات ، حدوث ذاتی رکھتی تھیں، حدوث زمانی نہیں، کیونکہ ان سب کیلئے حدوث زمانی کا تصور نہیں کیا جاسکتا (غور وفکر کریں) ۔ اور روایت میں جو یہ آیا ہے : ” کان اللہ و لا شئی معہ“ خداوند عالم ہمیشہ تھا اور اس کے ساتھ کوئی چیز نہیں تھی (1) اس سے مراد یہ ہے کہ اس کی ذات کے ساتھ نہیں تھی، بلکہ اس کی مخلوق تھی (غور وفکر کریں) ۔

 


1۔ توحید صدوق، صفحہ ۶۶، اسی مضمون کے مشابہ صفحہ ۱۴۵ اور ۲۲۶ پر بھی بیان ہوا ہے ۔

چھٹا حصہ

فاجری فیھا ماء متلاطما تیارہ متراکما زخارہ ، حملہ علی متن الریح العاصفة والزعزع القاصفة ، فامرھا بردہ ، وسلطھا علی شدہ ، وقرنھا الی حدہ ، الھوائمن تحتھا فتیق، والماء من فوقھا دفیق ۔
ترجمہ :
پھر خداوند عالم نے اس (عظیم فضا)کے درمیان وہ پانی بہادیاجس کی لہروں میں تلاطم تھااوراسے ایک تیز و تند ہوا کے کاندھے پر لاد دیا ، پھر ہوا کو ان امواج کو الٹنے پلٹنے اور روک کر رکھنے کا حکم دیا اوراس کی حدوں کو پانی کی حدوں سے اس حدتک ملادیا جس قدر اس کو ملانا ضرور ی تھا اس کے نیچے ہوا کی وسعتیں تھیں اور اوپر پانی کا تلاطم !

شرح و تفسیر:

پانی پہلی مخلوق تھی

عالم کی پیدائش کی کیفیت سے متعلق اس حصہ اور آئندہ حصہ میں مولائے کائنات امیر المومنین علی (علیہ السلام)کے کلمات سے جو کچھ استفادہ ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ خداوند عالم نے سب سے پہلے پانی یا دوسرے لفظوں میںایساسیال جو پانی کی طرح تھا، خلق کیااور اس کو تیز و تند ہوا کے کندھوں پر سوار کیا ان تیز و تند ہواؤں کو حکم کیا گیا تھا کہ اس سیال کو کامل طور سے محفوظ رکھیں ،منتشر نہ ہونے دیںور سرحدوں پر اس کو متوقف رکھیں ۔
اس کے بعد اس سے بھی زیادہ تیز و تند ہواکو خلق کیا تاکہ وہ اس عظیم سیال میں امواج کو ایجاد کرے اور اس تیز و تند ہوا نے پانی کی عظیم امواج کو اور زیادہ عظیم بنادیا پھر وہ موجیں اتنی بلند ہوئیں کہ فضا کی کمر پر سوار ہوگئی اور اس سے سات آسمان خلق ہوگئے ۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ پانی ، ہوا، طوفان وغیرہ جیسے الفاظ (کیونکہ اس وقت نہ پانی تھا نہ ہو ا اورنہ طوفان یہاں تک کہ اس وقت نہ روز تھا اور نہ شب)کنایہ ہیں ان موجودات سے جن کو ہم آج پانی اور ہوا سے مشابہ دیکھتے ہیں کیونکہ لغویین نے ان الفاظ کو ان کاموں کے لئے وضع کیا ہے اور جو چیز اس عالم کی تخلیق میںواقع ہوئی ہے اس کے لئے انہوں نے کوئی لفظ وضع نہیں کیا ہے ۔
جو کچھ مولا علی (علیہ السلام) کے کلام میںبیان ہوا ہے اس میں غور وفکر کرنے سے ان آخری فرضیات کی تفسیر کی جاسکتی ہے جن کو آج کے دانشوروں نے بیان کیا ہے ،ہم یقینی طور پر یہ نہیں کہتے کہ مولا کی مراد یہی تھی بلکہ اجمالی طور پر اس طرح کی تفسیرکو اس کے لئے ذکر کیا جاسکتا ہے ۔
توضیح : دنیا کی پیدائش کے سلسلہ میں آج کے آخری فرضیات یہ ہیں کہ شروع میں تمام عالم ،گیس کا ایک بہت عظیم انبار تھا جو سیال سے مشابہ تھا اور اس کے اوپر ”دخان“ (دھویں) کا نام رکھا جاسکتا ہے یا دوسرے لفظوں میں یہ کہا جائے کہ وہ آسمان کے بالائی حصوں میں دھواں تھااور جتنا بھی دنیا کے مرکز سے نزدیک ہوتا جاتھا اتنا ہی چھوٹا اور سیال کی صورت اختیار کرتا جاتا تھا ۔
جو چیز اس عظیم ،انبار کو محفوظ کئے ہوئے تھی وہ جذب کرنے والی وہی طاقت تھی جو دنیا کے تمام ذرات کے درمیان برقرار ہے ،یہ قوت جاذبہ اس سیال گیس کے اوپر مسلط اور محکم تھی اور اس کو اجازت نہیں دیتی تھی کہ یہ اپنی حدوں سے باہر نکلے ۔
اس کے بعد اس عظیم انبارنے اپنے مرکز کا چکر لگانا شروع کیا (یا شروع ہی سے اپنے اطراف میں چکر لگارہا تھا) یہاں پراپنے مرکز سے فرار کرنے والی طاقت وجود میں آئی(
۱) ۔
مرکز سے اس طاقت کے فرار کرنے کی وجہ سے گیس کا یہ عظیم انبار فضا میں داخل پھیلنے لگا ۔ اور نہج البلاغہ کی تعبیر میں اس دریا کی امواج کو ہر طرف بھیجنے لگایا دوسرے لفظوں میں یہ کہا جائے کہ زمین کے صفحہ پر جو جھاگ ظاہر ہوئے تھے ان کو باہر نکالا اور ان کو کھلی ہوئی ہوا اور وسیع فضا میں اوپر لے گیا (اس خطبہ کے آئندہ جملوں میں بھی یہی تعبیر بیان ہوئی ہے) اور اس سے منظومہ شمشی،کہکشاں،چھوٹے اور بڑے کرات (یا قرآن کریم اور نہج البلاغہ کی زبان میں سات آسمان )وجود میں آئے ۔
ہم کسی اصرار کے بغیر مذکورہ تعبیرات کو ان نظریات پر تطبیق کرتے ہیں ،ہم اس حدتک کہتے ہیں کہ آسمان،منظومہ شمسی ، کہکشاں او رکرہ زمین کی پیدائش میں نظریوں کے افق اور آج کے علمی فرضیات کاملا مولا علی (علیہ السلام) کے جملوں میں قابل درک ہیں ۔
اب ہم ان دقیق اور ظریف تعبیرات کا مطالعہ کرتے ہیں جو مولا علی کے کلام میں بیان ہوئے ہیں:
پہلے آپ فرماتے ہیں : خدا وند عالم نے اس عظیم فضاء میں جس کو پہلے خلق کیا تھا ، پانی جاری کیا،ایسا متلاطم پانی جس کی امواج بہت زیادہ شدید تھیں(فاجری فیھا ماء متلاطما(
۲) تیارہ (۳)) ۔
”تلاطم“ کے معنی امواج کا ایک دوسرے سے ٹکرانا ہے اور ”تیار“ کے معنی ہر طرح کی امواج کے ہیں، خصوصا وہ امواج جو پانی کو باہر پھنکتی ہیں ۔
کیا یہ متلاطم اور پر جوش پانی وہی پہلے والاسیال گیس نہیںہے جو آج کے دانشوروں کے نظریات کے مطابق دنیا کے اولین مادے کو تشکیل دیتا ہے؟
اس کے بعد اس پانی کے تلاطم اور جوش و خروش کے سلسلہ میں زیادہ تاکید کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ” یہ اس وقت تھا جب یہ امواج اس متلاطم دریا سے اٹھتی تھیں اور ایک دوسرے کے اوپر سوار ہوتی تھیں(متراکما(
۴) زخارہ(۵) ) ۔
اس کے بعد مزید فرماتے ہیں : خداوند عالم نے اس پانی کو ایک تیز و تند ہوا اور سخت طوفان کے کاندھے پر لاد دیا (حملہ علی متن الریح العاصفة(6) والزعزع(7) القاصفة(8)) ۔
”عاصف“ کے معنی توڑے اور کوٹنے کے ہیں ”زعزع“ کے معنی مضطرب، شدید اور ”قاصف“ کے معنی بھی توڑنے کے ہیںاور یہ پے در پے تمام تاکیدیں اس شدید اور وسیع ہوا کی قدرت کو بیان کرنے کیلئے ہیں ۔
اس عظیم اور وحشتناک طوفان کوحکم دیا گیا تھا کہ پانی کی امواج کو محفوظ اور ان کے اجزاء کو ایک دوسرے سے متصل کردے اور ان کو اپنی حدود میں محفوظ رکھ(فامرھا بردہ ، وسلطھا علی شدہ(9) ، وقرنھا الی حدہ ) ۔
کیایہ عظیم اور شدیدطوفان امواج جاذبہ کی طرف اشارہ نہیں ہے جس کو خداوند عالم نے عالم مادہ کے تمام ذرات پر مسلط کیا ہے جس کے ذریعہ سے تمام اجزاء کے متصل ہونے اور ذرات کے منتشر ہونے سے روکتا ہے، اور سب کو مہار کرکے اپنے دائرہ میں محفوظ رکھتا ہے؟
عظیم امواج اور اس کے شرایط کوبیان کرنے کیلئے تیز ،سخت اور مہار کرنے والی ہوا سے بہتر اور کیا تعبیر بیان کی جاسکتی تھی ۔
یہ سب اس وقت تھا کہ جب اس کے نیچے فضا ہاتھ کھولے ہوئے تھا اور پانی (وہی سیال گیس) اس کے اوپر حرکت کررہا تھا(الھوائمن تحتھا فتیق(10)، والماء من فوقھا دفیق(11)) ۔
”فتیق“ کا مادہ ”فتق“ ہے اور اس کے معنی کھلنے کے ہیں ۔ ”دفیق“ کا مادہ ”دفق“ ہے اوراس کے معنی تیزی سے حرکت کرنے کے ہیں ۔
جی ہاں یہ متلاطم موجیں تیز ہواؤں کے ذریعہ محدود ہوجاتی ہیں اور اپنی حدوں سے تجاوز کرنے سے روک دی جاتی ہیں ۔
یہاں پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان تیز اور مہار کرنے والی ہواؤں کے باوجود وہ متلاطم موجیں کس طرح پانی کے اندر پیدا ہوتی تھیں، کیونکہ عام طور سے موجیں ہوا اور طوفان کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں، جب کہ یہاں پر طوفان ، امواج کو روکنے اور مہار کرنے کا کردار ادا کرتا تھا پھر کون سی چیز باعث ہوتی تھی کہ ان امواج میں تلاطم پیدا ہو۔
ایسا لگتا ہے کہ ان امواج کی پیدائش کا سبب خود اس کے اندر کوئی چیز تھی جو پانی کو ہمیشہ متلاطم کرتی تھی ،یہ علت اور سبب کیا ہے ، دقیقا طور سے ہمارے لئے یہ بات ثابت نہیں ہے ،لیکن آج کے دانشوروں کے نظریات سے کامل طور پر سازگار ہے ۔ کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ پہلے سیال گیس کے اندر پے در پے بم منفجر ہوتے تھے ، وہی انفجار جو آج بھی ہمارے سورج کے اندر پیدا ہوتے ہیں ۔ یہ عظیم انفجار ، سیال گیس کے آرام میں خلل ایجاد کرتا تھا اور امواج میں ایک عظیم تلاطم پیدا کردیتا تھا ۔
اس فراز کو کامل کرنے کیلئے بعد والے فراز کا مطالعہ کرتے ہیں اور مولا علی(علیہ السلام) کے نظریات کے مطابق دنیا کی پیدائش کا دقیق نقشہ بناتے ہیں ۔


۱۔ جو چیز بھی اپنے گردچکر لگاتی ہے ،وہ اپنے مرموزی طاقت کے تحت اس مرکز سے فرار کرنا چاہتی ہے ،بالکل اسی آگ کی طرح جس کو ہم اپنے ہاتھ سے گھوماتے ہیں اگر وہ اچانک ہمارے ہاتھ سے چھٹ جائے تو بہت دور جاکر گرے گی ، یہ وہی طاقت ہے جو مرکز سے فرار کرنا چاہتی ہے اور یہ جتنی بھی شدید ہوگی اسی قدر دور سے دور جگہ پر جاکر گرے گی ۔
۲۔”متلاطم“ کا مادہ ”لطم“ (ختم کے وزن پر) ہے اس کے معنی ہاتھ کی ہتھیلی سے چہرہ پرطمانچہ مارنے کے ہیں، بعد میں یہ لفظ امواج کے تھپیروں میں استعمال ہونے لگا ۔
۳۔ ”تیار“ دریا کی ان امواج کو کہتے ہیں جو پانی کو دریا سے باہر پھینکتی ہیں، بعض اہل لغت نے اس کو ہر طرح کی موج پر اطلاق کیا ہے (مقاییس اللغة اور لسان العرب) ۔
۴۔ ”متراکم“ کا مادہ ”رکم“ (رزم کے وزن پر) ہے، اس کے معنی کسی چیز کو اکھٹا کرنے اور ان میں سے بعض کو بعض کے اوپر ڈالنے کے ہیں ، بادلوں، ریت، پانی ا وران انسانوں کے اوپر اطلاق ہوتا ہے جو ایک جگہ جمع ہوجاتے ہیں (مفردات، لسان العرب، مقاییس اللغة) ۔
۵۔ ”زخار“ کا مادہ ”زخر“ ہے اور ”زخور“ اصل میں بلندی کے معنی میں ہے اور یہ دریا کے بھرجانے اور اپنی حدود سے باہر نکلنے پر بھی اطلاق ہوتا ہے (لسان العرب و مقاییس اللغة) ۔
6۔ ”عاصفہ“ کا مادہ ”عصف“ (عصر کے وزن پر) ہے اس کے معنی ہلکے اور جلدی کے ہیں اسی وجہ سے حبوبات کے چھلکوں اور گھانس پھونس کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں کو جلدی منتشر ہوجانے کی وجہ سے عصف کہتے ہیں ۔ ”عاصف“ اور ”معصف“ اس چیز کو کہتے ہیں جو اشیاء کو ٹوڑکر نرم کردیتی ہے (مفردات، لسان العرب، مقاییس اللغة) ۔
7۔ ”زعزع“(زمزم کے وزن پرہے اور اس )کے معنی حرکت اور اضطراب کے ہیںاور یہ شدید و سخت کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے ( لسان العرب، مقاییس اللغة) ۔
8۔ قاصفہ کا مادہ قصف (حذف کے وزن پر)ہے اس کے معنی کسی چیز کو توڑنے کے ہیں، اسی وجہ سے سخت اور شدید طوفانوں کو قاصف کہتے ہیں کیونکہ یہ دریاؤں میں کشتیوں کو توڑدیتے ہیں ،اسی طرح شدید رعد و برق کو قاصف کہتے ہیں (مفردات، لسان العرب، مقاییس اللغة) ۔
9 ”شد“ (مد کے وزن پرہے) کے معنی کسی چیز کی قوت اور طاقت کے ہیں، اسی وجہ سے قوی (خصوصا جنگ میں قوی) افراد کو شدید کہا جاتا ہے ۔ یہ لفظ، محکم گرہ لگانے(چاہے بدن میں ہو یا باطنی اور روحی طاقت میںیا مصیبت اور عذاب )میں بھی استعمال ہوتا ہے ۔(مفردات، لسان العرب، مقاییس اللغة) ۔
10۔ ”فتیق“ کا مادہ ”فتق“ ہے جو کہ پہلے فراز میں گزر گیا ہے ۔
11۔ ”دفیق“ کا مادہ ”دفق“ (دفن کے وزن پر)ہے اصل میں اس کے معنی کسی چیز کو آگے کی طرف ہانکنے کے ہیں اور تیزی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ تیز چلنے والے اونٹ کو ”ادفق“ کہتے ہیں ۔

ساتواں حصّہ

ثُمَّ اٴَنْشَاٴَ سُبْحَانَہُ ریحاً اعْتَقَمَ مَھَبَّہَا وَاٴدَامَ مُرَبَّھَا وَاٴعْصَفَ مَجْرَاھَا وَاٴبْعَدَ مَنْشَاھَا فَاٴمَرَھَا بِتَصْفِیْقِ الْمَاءِ الزَّخَّارِ وَإثَارَةِ مَوْجِ الْبِحَارِ فَمَخَضَتْہُ مَخْصَ السِّقَاءِ وَعَصَفَتْ بِہِ عَصْفَھَا بِالْفَضَاءِ تَرُدُّ اٴوَّلَہُ إلیٰ آخِرِہِ وَسَاجیَہُ إلیٰ مَائِرِہِ حَتّی عَبَّ عُبَابُہُ وَرَمی بِالزَّبَدِ رُکَامُہُ فَرَفَعَہُ فِی ھَواءٍ مُنْفَتِقٍ وَجَوٍّ مُنْفَھِقٍ فَسَوَّی مِنْہُ سَبْعَ سَمَوَاتٍ جَعَلَ سُفْلَاھُنَّ مَوْجاً مَکْفُوفاً وَعُلْیَاھُنَّ سَقْفاً مَحْفُوظاً وَسَمْکاً مَرفُوعاً بِغَیرِ عَمَدٍ یَدْعَمُھَا وَلَادِسَارٍ یَنْظِمُھَا ثُمَّ زَیَّنَھَا بِزِیْنَةِ الْکَوَاکِبِ وِضِیَاءِ الثَّوَاقِبِ وَاٴجری فِیھَا سِراجاً مُسْتَطِیراً وَقَمَراً مُنِیْراً فِی فَلَکٍ دَائِرٍ وَسَقْفٍ سَائِرٍ وَرَقِیْمٍ مَائِرٍ.
ترجمہ
اس کے بعد پاک ومنزہ پروردگارنے ایک طوفان کو پیدا کیا جس کا کام پانی کی لہروں میں تلاطم اور اس کی موجوں کو درہم وبرہم کرنا تھا، طوفان شدّت سے جاری تھا اور ایک دور دراز مرکز سے نشاٴت پارہا تھا، پھر اُسے حکم دیا کہ اُس بحر ذخار کو الٹ پلٹ کردے اور دریا کی موجوں کو ہر طرف پھیلادے! نتیجہ میں اُس نے پانی کو ایک مشک کی طرح متھ دالا اور اُسی شدّت کے ساتھ کہ جیسے وہ فضا میں جاری تھا، اُن موجوں پر حملہ آور ہوا، اس کے اوّل کو آخر پرپلٹ دیتا اور ٹھہرے ہوئے پانی کو متحرک موجوں سے ملادیتا، یہاں تک کہ ایک کے اوپر ایک پانی کی تہہ جم گئیںاور پھر وہ پانی پہاڑ کی چوٹی کی طرح اُبھر کر اُوپر آگیا، موجوں نے جھاگ کو بلند کیا اور اُسے کھلی ہوا اور پھیلی ہوئی وسیع فضاء میں منتشر کردیا اور اُس سے ساتھ آسمان پیدا کئے، نیچے کے آسمان کو ٹھہری ہوئی موج کی طرح قرار دیا اور سب سے اوپر کے آسمان کو محفوظ اور بلند چھت کے مانند بنایا، کسی ایسے ستون کے بغیر جو ا س کی حفاظت کرسکے اور نہ اس میں کیلیں لگائیں جو اُسے باندھ سکے، اس کے بعد نیچے والے آسمان کو تابندہ نجوم اور درخشاں ستاروں کے نور سے مزیّن کیا، ان کے درمیان ایک ضوفگن چراغ اور ایک نورفشاں مہتاب کو متحرک فلک اور گھومنے والی چھت اور جنبش کرنے والی تختی میں رواں دواں کیا ۔

شرح اور تفسیر

آغاز خلقت میں طوفان کا کردار

مولائے متقیان کے کلام کا یہ حصّہ (جیسا کہ پہلے اشارہ ہوچکا ہے) گذشتہ کلام کی تکمیل اور اُسی کا باقی حصّہ ہے ۔
یہاں پر بھی (پہلے سے کوئی فیصلہ کئے بغیر) پہلے حضرت کے کلام میں آنے والی نہایت دقیق اور عمیق عبارتوں کو سمجھیں گے، پھر اس کے بعد گفتگو کریں گے کہ تخلیق کائنات کے بارے میں دور حاضر کے دانشمندوں کے نظریات پر اُسے کیسے تطبیق دیا جائے ۔
مولا امیرالمومنین علیہ السلام اپنے کلام کے اس حصّہ میں چند مرحلوں کی طرف اشارہ فرماتے ہیں:
نسب سے پہلے آپ یہ فرماتے ہیں: ”الله سبحانہ نے ایک اور ہوا چلائی اور دوسرا طوفان پیدا کیا (اس طوفان کی چار خصوصیت تھیں“ (ثُمَّ اٴَنْشَاٴَ سُبْحَانَہُ ریحاً اعْتَقَمَ (
۱)مَھَبَّہَا (۲)) ۔ نہ بادل ہی تھا جو آپس میں رابطہ پیدا کرتا اور بارش برساتا اور نہ کوئی پھول ہی تھا جو اُسے بارور کرتا یعنی اس میں تولیدی صلاحیت نہیں تھی ۔
”وہ ہوا ہمیشہ پانی کے ساتھ رہتی ارو اس سے جدا نہیں ہوتی تھی“ (وَاٴدَامَ مُرَبَّھَا )(
۳) عام ہواوٴںکے برخلاف جن میں دوام نہیں ہوتا، کبھی چلتی ہیں اور کبھی رُک جاتی ہیں ۔
”وہ ہوا جس کے جھونکے بہت ہی قوی اور طاقتور تھے (یہ ہوا معمولی ہواوٴں اور طوفانوں سے بہت مختلف تھی)“ (وَاٴعْصَفَ(
۴) مَجْرَاھَا ) ۔
”وہ ہوا جو دور دراز مرکز سے متصل تھی (معمولی ہواوٴں کی طرح نہیں جواکثر نزدیکی سرچشموں سے نشاٴت پاتی ہیں)“ (وَاٴبْعَدَ مَنْشَاھَا) ۔
دوسرے مرحلہ میں حضرت، اس طوفانی ہوا کو دیئے گئے حکم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، فرماتے ہیں: ”اس کو حکم دیاگیا ہے کہ دریا کے گہرے پانی اور اس کے ذخیرہ کو متواتر ایک دوسرے پر مارتی اور کوٹتی رہے“ (فَاٴمَرَھَا بِتَصْفِیْقِ(5) الْمَاءِ الزخار) ۔
”دریاوٴں کی موجوں اور لہروں کو ہر سمت میں چلایا“ (وَإثَارَةِ مَوْجِ الْبِحَارِ) ۔
”اس عظیم طوفان نے اس پانی کو سقّوں کی مشک کی طرح متھ ڈالا “ (فَمَخَضَتْہُ(6)مَخْصَ السِّقَاءِ) ”اور اس کو شدّت کے ساتھ فضا کی طرف بلند کردیا“ (وَعَصَفَتْ بِہِ عَصْفَھَا بِالْفَضَاءِ) ۔
”اس طوفان نے پانی کے پہلے حصّہ کو آخری حصہ پر اُلٹ دیا اور ٹھہرے ہوئے حصّہ کو متحرک پانی کی طرف لے گیا“( تَرُدُّ اٴوَّلَہُ إلیٰ آخِرِہِ وَسَاجیَہُ(7) إلیٰ مَائِرِہِ(8)) ۔
تیسرے مرحلہ میں ارشاد فرماتے ہیں: ”وہ پانی ایک دوسرے کے اوپر جمع ہوکر اوپر آگئے“ (حَتّی عَبَّ عُبَابُہُ(9)) ۔ ”پانی ۔ کے جمع ہونے والے ذخیرہ نے اپنے اندر سے کچھ جھاگ باہر پھینک دیا“ (وَرَمی بِالزَّبَدِ رُکَامُہُ(10))
آخرکار چوتھے مرحلہ میں: ”خداوندعالَم نے یہ جھاگ، اوپر کی وسیع فضا اور پھیلی ہوئی کشادہ ہوا میں بلند کردیئے“ (فَرَفَعَہُ فِی ھَواءٍ مُنْفَتِقٍ وَجَوٍّ مُنْفَھِقٍ(11)) ۔
”اور اُس سے سات آسمان پیدا کئے اور اُن میں نظم برقرار کیا“ (فَسَوَّی مِنْہُ سَبْعَ سَمَوَاتٍ) ۔
”یہ ایسے عالَم میں تھا کہ اس کی نچلی سطح کو ایک ٹھہری ہوئی موج کی طرح قرار دیا اور اس کے اوپر کا حصّہ ایک محفوظ چھت کی طرح بلند بنادیا“ (جَعَلَ سُفْلَاھُنَّ مَوْجاً مَکْفُوفا (12) وَعُلْیَاھُنَّ سَقْفاً مَحْفُوظاً وَسَمْکا (13)مَرفُوعاً) ۔
”حالانکہ اس کا نہ کوئی ستون تھا جو اُسے سہارا دے سکے اور نہ کوئی کیل اور رسّی تھی جو اُسے منظم کرسکے اور باندھ سکے“ (بِغَیرِ عَمَدٍ(14) یَدْعَمُھَا (15)وَلَادِسَارٍ یَنْظِمُھَا (16)) ۔
آخر کار پانچواں اور آخری مرحلہ آگیا: ”خداوندعالَم نے آسمان کو تابندہ نجوم اور درخشاں ستاروں کے نور سے مزیّن کیا“ (ثُمَّ زَیَّنَھَا بِزِیْنَةِ الْکَوَاکِبِ وِضِیَاءِ الثَّوَاقِبِ(17)) ۔ ”اور اس میں روشن چراغ ضوفگن (تابندہ آفتاب) اور نور افشاں ماہتاب کو ایک متحرک فلک، گھومنے والی چھت اور جنبش کرنے والی تختی میں رواں دواں کیا“ (وَاٴجری فِیھَا سِراجاً مُسْتَطِیرا (18) وَقَمَراً مُنِیْراً فِی فَلَکٍ دَائِرٍ وَسَقْفٍ سَائِرٍ وَرَقِیْمٍ(19) مَائِرٍ) ۔


۱۔ ”اعتقم“ ”عُقْم“ (بروزن ”قُفل“) سے مشتق ہے، اس کے معنی خشکی کے ہوتے ہیں جو اثر کو قبول کرنے سے مانع ہوتی ہے، ”عقیم “ اس عورت کو کہا جاتا ہے جو بچہ نہیں جنتی اور مرد کے نطفہ کو قبول کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی، البتہ یہ لفظ تنگی اور مضیق ہونے کے معنی میں بھی آیا ہے، (مفردات، لسان العرب اور مقاییس اللغة).
۲۔ ”مَھَبَّ“ ”ھُبوب“ (بروزن ”سجود“)سے مشتق ہے اور بیدار ا ہونے، تلوار لہرانے اور عام طور پر ہیجانی کیفیت طاری ہونے کے معنی میں آتا ہے اسی وجہ سے ہوا چلنے اور طوفان آنے کے لئے بھی بولا جاتا ہے ۔
۳۔ ”مُرَبَّ“ ”ربّ“ سے مشتق ہے، اصل میں تربیت کے معنی میں ہے اور مربی (تربیت کرنے والا)، مالک اور خالق کے لئے بھی ”رب“ کا لفظ استعمال کیاجاتا ہے (یہ ایسا مصدر ہے جوفاعل کے معنی میں آتا ہے) اور جب باب ”افعال“ (ارباب) سے آئے تو استمرار اورملازمت کے معنی میں ہوتا ہے (اس لئے کہ تربیت، استمرار کے بغیر امکان پذیر نہیں ہوتی) لہٰذا اس بناپر ”مُرب“ جو مصدر میمی ہے دوام اور بقاء کے معنی میں ہے ۔
۴۔ ”اعصف“، ”عَصْف“ (بروزن ”عصر“) سے مشتق ہے اور جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں کہ یہ سرعت، حرکت اور شدّت کے معنی میں ہے ۔
5۔ ”تصفیق“ ”صفق“ (بروزن ”سقف“) سے مشتق ہے اور ایک چیز کو دوسری پر اس طرح مارنے کے معنی میں ہے کہ اس سے آواز بلند ہوجائے، اسی وجہ سے ہتھیلی بجانے کو تصفیق کہا جاتا ہے، یہاں پر ہلانے اور پانی کو ایک دوسرے پر مارنے کے معنی میں آیا ہے (لسان العرب، مقاییس اللغة، شرح عبدہ) ۔
6۔ ”مَخَضَ“ ”مَخْض“ (بروزن ”قرض“) سے مشتق ہے، اصل میں بہنے والی چیزوں کو اُن کے برتن میں ہلانے کے معنی میں آتا ہے لہٰذا جب کسی مشک ، یا متھینی میں دہی ڈال کر مکھّن نکالنے کے لئے ہلایا اور متھا جائے تو اس وقت کے لئے اس لفظ کو استعمال کیا جاتا ہے ۔
7۔ ”ساجی“ ”سَجْو“ (بروزن”سَہْو“) سے مشتق ہے، اور سکون وارام کے معنی میں اتا ہے ۔
8۔ ”مائر“ ”موٴر“ (بروزن ”فوْر“) سے مشتق ہے، اصل میں تیزی سے جاری ہونے کے معنی میں آتا ہے، یہ لفظ سڑک کے معنی میں بھی بولا جاتا ہے چونکہ اُس پر لوگ متحرک رہتے اور رفت وآمد کرتے رہتے ہیں ۔
9۔ ”عُباب“ کا مصدر ”عبّ“ ہے اور وقفہ دیئے بغیر تیزی سے پانی پینے کے معنی میں ہے، اسی وجہ سے پانی کی فراوان مقدار ، زیادہ بارش اور عظیم سیلاب کو ”عُباب“ کہا جاتا ہے، جبکہ یہاں پر ایک پانی کی دوسرے پانی پر تہہ جمنے کے معنی میں آیا ہے ۔
10۔ ”رُکام“ زیادہ مقدار میں جمع ہونے کے معنی میں ہے جس کی طرف پہلے اشارہ ہوچکا ہے ۔
11۔ ”مُنْفَھِق“ ”فَھْق“ (بروزن ”فرق“)سے مشتق ہے اور پھیلنے اور وسعت کے معنی میں آیا ہے، اسی وجہ سے درّہ کے پھیلے ہوئے حصّے اور پانی سے بھر ہوئے ظرف کو ”منفہِق“ کہتے ہیں ۔
12۔ ”مکفوف“ کفّ“ (بروزن ”سدّ“) سے مشتق اور قبض واقباض اور کسی چیز کو جمع کرنے کے معنی میں ہے، ہاتھ کے نچلے حصّہ کو ”کف“ کہا جاتا ہے اس لئے کہ اس کے ذریعہ قبض واقباض یعنی لین دین کیا جاتا ہے اور نابینا کو ”مکفوف“ کہا جاتا ہے، چونکہ اس کی آنکھیں بند ہوتی ہیں ۔
13۔ ”سَمْک“ اصل میں رفعت اور بلندی کے معنی میں آیا ہے، گھر کی چھت کو اسی وجہ سے ”سمک“ کہا جاتا ہے چونکہ بلند ہوتی ہے ۔
14۔ ”عمَد“ (بروزن ”سبَد“) و ”عُمُد“ (برورزن”شُتر“) دونوں ”عمود“ کی جمع اور ستون کے معنی میں ہیں ۔
15۔ ”یَدْعَم“ ، ”دعم“ (بروزن ”فَھْم“) سے مشتق اور کسی چیز کو اٹھائے رکھنے کے معنی میں ہے، اسی طرح ”دِعام“ اور ”دعامہ“ اُن لکڑیوں (بَلِّیّوں) کے معنی میں آتے ہیں، جس سے دیوار بنانے کے لئے پیڑ باندھی جاتی ہے ، یہ الفاظ ہر اُٹھانے والی چیز اور شخص کے لئے بولے جاتے ہیں ۔
16۔ ”دسار“ کیل کے معنی میں اور اسی طرح رسّی کے معنی میں ہے جس سے کسی چیز کو مضبوطی سے باندھتے ہیں ۔
17۔ ”ثواقِب“، ”ثَقْب“ (بروزن ”سقْف“) سے مشتق اور سوراخ کرنے، پھاڑنے اور کسی چیز میں نفوذ کرنے کے معنی میں ہے، درخشاں ستاروں کو اس لئے ”ثواقب“ کہا جاتا ہے کہ گویا اُن کا نور آنکھوں میں سوراخ کرکے اُن میں نفوذ کرجاتا ہے یا اس لئے کہ اُن کا نور آسمان سے گذر کر ہم تک پہنچتا ہے ۔
18 ”مستطیر“ ”طَیْر“ سے مشتق ہے، اصل میں اس کے معنی، ہوا میں کسی چیز کے ہلکا ہونے کے ہیں، پھر بعد میں ہر تیز رفتار چیز اور پرندوں کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے اور ”مستطیر“ منتشر اور پھیلے ہوئے کے معنی میں ہے، یہ لفظ صبح کے اُس وقت کے لئے بھی بولا جاتا ہے کہ جب سورج کی کرنیں افق میں چاروں طرف پھیل جاتی ہیں ۔
19۔ ”رَقِیم“ ”رَقْم“ (بروزن ”رزم“) سے مشتق ہے اور اصل میں خط وکتابت کے معنی میں ہے، لفظ ”رقیم“ کتاب کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے اور آسمان کو اس لئے ”رقیم“ کہا جاتا ہے کہ وہ کتاب کے ایک صفحہ کی طرح ہے جو ستاروں کے نقش ونگار سے بھر گیا ہے ۔ (مقاییس اللغة، مفردات اور لسان العرب)

نکات

۱۔ عصر حاضر کے نظریات پر اس کلام کی اجمالی تطبیق

تخلیق کائنات کے سلسلہ میں دور حاضر کے دانشمند حضرات کے کچھ خاص نظریات ہیں، جو مفروضات کی حد سے آگے نہیں بڑھتے اس لئے کہ اربوں سال پہلے کوئی بھی نہیں تھا جو تخلیق کائنات کی کیفیت کا مشاہدہ کرتا، لیکن بہرحال کچھ ایسے قرائن اور نشانیاں موجود ہیں جو بعض مفروضوںکی بطور دقیق تائید کرتی ہیں ۔
مولائے کائنات کے کلام میں جو عبارتیں آئی ہی وہ مکمل طور پر مشہور مفروضوں کے اوپر منطبق ہونے کی قابلیت رکھتی ہیں، ذیل میں یہ عبارتیں قارئین کی نظروں سے گذریں گی البتہ کوئی ایسا دعویٰ کئے بغیر کہ مولا کی مراد یہی رہی ہو۔
جیسا کہ گذشتہ بیانات کی شرح اور تفسیر کے ذیل میں ہم نے بیان کیا ہے کہ شروع میں یہ کائنات، گیس کے کثیر ذخیرہ کادبا ہوا ایک ڈھیر تھا جو بہنے والی چیزوںسے بہت زیادہ مشابہ تھا کہ اُسے ”پانی“ کہنا بھی صحیح ہے ار ”دخان“ (دھویں) کا کام دینا میں درست ہے، جیسے قرآن مجید کی آیات میں آیا ہے ۔
خالق کائنات نے اُس کے اوپر دو عظیم طاقتوں کو مسلط کیا جنھیں مذکورہ کلام میں دو ہواوٴں کے عنوان سے تعبیر کیا گیا ہے:
قوّت جاذبہ ، جو اُسے ایک دوسرے سے قریب رکھتی اور منتشر ہونے سے حفاظت کرتی تھی اور قوّہٴ دافعہ جو اپنے چاروں طرف گردش کرنے اور محور سے گریز کرنے والی قوت کو وجود دینے کے نتیجہ میں، اُس کو باہر کی جانب کھینچتی تھی، یہ وہی دوسری تیز ہوا ور شدید طوفان تھا ۔
اگر ہم اس بات کو قبول کرلیں کہ کائنات کی دائرہ نما پہلی گردش، متغیّر کیفیت کی حامل تھی، کبھی شدّت اختیار کرتی اور کبھی نرمی اختیار کرلیتی تھی، تو یہ طبیعی ہے کہ اُس سیّال گیس کے ذخیرے میں عظیم لہریں اور خوفناک موجیں پیدا ہوتی تھیں، وہ موجیں ہمیشہ ایک دوسرے کے اوپر جمع ہوتی اور پھر اس کے اندر سرایت کرجاتی تھیں ۔
آخرکار ان میں سے جو موجیں ہلکی اور کمترین وزن رکھتی تھیں ”جسے مولا کے کلام میں جھاگ کے عنوان سے تعبیر کیا گیا ہے“ باہر کی فضا میں اوپر آجاتی تھیں، (یاد رہے کہ لفظ ”زَبَد“ پانی کے اوپر آنے والے جھاگ کو بھی کہا جاتا ہے اور اس چکنائی اور مکھن کو بھی کہا جاتا ہے جو ہلکا ہونے کی وجہ سے متھینی کے اندر اوپر کی طرف نمایاں ہوجاتا ہے) ۔
اس طرح اُ س دائرہ نما گردش میں شدّت آگئی اور اُس بڑے ڈھیر کے بہت سے عظیم حصے اور اجزاء جدا ہوکر فضا میں پھیل گئے، جن میں زیادہ شدّت تھی وہ زیادہ بلندی پر پہنچ گئے اور جن میں شدّت کم تھی وہ نچلی جگہوں پر ٹھہرگئے ۔
وہ حصّے جو دور مقامات پر پہنچ گئے تھے، قوہٴ جاذبہ کی وجہ سے پھر بھی مکمل طور پر فرار یا جدانہ ہوسکے اور ایک محفوظ چھت کی صورت میں قرار پائے نچلی سطح کا حصّہ وہ کمزور موجیں تھیں جنھیں مولا نے مکفوف موج کے عنوان سے تعبیر فرمایا ہے ۔
سات آسمان (جن کے بارے میں ہم بعد میں گفتگو کریں گے) اُس پھیلی ہوئی فضا میں ظاہر ہوئے وہ بھی اس طرح کہ نہ کوئی ستون تھا جو انھیں ٹھہرا سکے اور نہ کوئی کیل تھی جو انھیں روک سکے اور نہ ہی کوئی رسی تھی جو انھیں باندھ سکے، فقط جاذبہ اور دافعہ قوت کا تعادل تھا اور جو اُنھیں ایسی جگہ پر روکتا اور اُن کے اپنے مدار اور مرکز پر گھماتا تھا ۔
اس زمانے میں فضا، چھوٹے بڑے کُرات (گول افلاک) سے بھری ہوئی تھی، ان موجوں کے پھیلے ہوئے ٹکڑے باہر کی جانب منتشر ہوتے اور آہستہ اہستہ، قوہٴ جاذبہ کی وجہ سے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے، بڑے کرات کی طرف کھینچ لئے جاتے تھے، فضا صاف ہوئی اور ستارے جگمگانے لگے، نجوم اور کواکب، زینت بخشنے لگے، سورج نے ضوفشانی کی اور چاند نے چمکنے کی ابتدا اور تابناکیوں کا آغاز کیا اور سب اپنے اپنے مدار میں گردش کرنے لگے ۔
تخلیق کائنات کے بارے میں بعض مفروضوں میں آیا ہے کہ منظوموں، کہکشانوں اور آسمانی کرات کے سب سے پہلے کے عظیم ڈھیر سے جدا ہونے کا سبب، اندرونی عظیم دھماکہ تھا جس کا سبب دقیقاً کسی کو بھی معلوم نہیں ہے، اس عظیم دھماکے نے اس گیس کے عظیم ڈھیر اور ذخیرے کے اکثر حصّوں کو فضا میں اُچھال کر بکھیر دیا اور منظوموں اور کرات کو بنادیا ۔
ممکن ہے مولائے کائنات امیرالمومنین علیہ السلام کے کلام میں یہ عبارت ”تیز آندھی اور دوسرا طوفان چلنے لگا جس کا سرچشمہ کہیں دور واقع تھا اور اس نے پانی کو شدّت سے الٹ پلٹ دیا یہاں تک کہ اس کے اوپر جھاگ نمودار ہوگیا“ اسی عظیم دھماکے کی طرف اشارہ ہو جو وہ سب سے پہلے مادّے کی گہرائیوں سے وجود میں آیا ہو۔
بہرحال جیسے اوپر بیان ہوچکا ہے، مقصد یہ ہے کہ اس خطبہ کی عبارتوں کو، تخلیق کائنات کے بارے میں موجودہ اندازوں اور مفروضات پر تطبیق دینے کے سلسلہ میں وضاحت کریں، کوئی یقینی قضاوت یا فیصلہ نہیں ۔

۲۔ تخلیق کائنات کی کیفیت

وہ نہایت پیچیدہ مسائل جو دانشمند اور متفکر حضرات کے سامنے ہیں اُن میں سے ایک مسئلہ یہی ہے کہ کائنات کی تخلیق کیسے ہوئی، اس مسئلہ کی بازگشت اربوں سال پہلے کی طرف ہے اور شاید یہ مسئلہ کسی انسان کی فکر میں نہ سما سکے، اسی وجہ سے بڑے بڑے دانشمند، اپنے ان تمام مفروضوں اور اندازوں کے باوجود جن کا انھوں نے اظہار کیا اور اس سلسلہ میں انھوں نے طاقت فرسا مطالعہ اور کوششیں کی ہیں، کسی جگہ تک نہیں پہنچ سکے بلکہ سب نے اس مسئلہ میں عاجزی کا اظہار کیا ہے ۔
لیکن بشر کی جستجو گر روح اُسے خاموش ہوکر چین سے نہیں بیٹھنے دیتی کہ اس سلسلہ میں گفتگو نہ کرے، حقیقت میں دانشمندوں کی زبان حال یہ ہے کہ اگرچہ ہم اس موضوع کی تہہ اور حقیقت تک پہنچنے سے عاجز اور ناتواں ہیں، لیکن اس کے باوجود ہم اس کا ایک تصور اور خیال اپنے ذہن میں بٹھاکر اپنی جستجوگر اور پیاسی روح کو تھوڑا سیراب کرنے کی خواہش رکھتے ہیں ۔
قرآنی آیات اور اسلامی روایات واحادیث میں اس مسئلہ کی طرف فقط مختصر سا اشارہ نظر آتا ہے لہٰذا وہ بھی ہمارے ذہن میں فقط ایک دھندے سے خیال کی تصویر کشی کرتی ہیں، اس سے زیادہ کچھ نہیں اور طبیعی طور پر یہ مسئلہ بھی اسی بات کا تقاضا کرتا ہے ۔
بہرحال تخلیق کائنات کے متعلق جو بھی اِس خطبہ شریفہ میں آیا ہے وہ اس سے ہماہنگ ہے جو خطبہ نمبر
۲۱۱ میں ہم پڑھتے ہیں کہ حضرت نے ارشاد فرمایا: ”وَکَانَ مِن اقتدار جَبَرُوتِہِ وَبَدِیع لَطَائِفِ صَنْعِتِہ اٴن جَعَلَ مِن مَاءِ الْبَحْرِ الزَّاخِرِ الْمُتَرَاکِمِ الْمُتَقَاصِفِ یَبَساً جَامِداً ثُمَّ فَطَرَ مِنہُ اٴَطْبَاقاً فَفَتَقَھَا سَبْعَ سَمَوَاتٍ، بَعدَ اِرْتِتَاقِھَا؛ خلّاق کائنات کے اقتدار وجبروت کی طاقت اور اس کی صناعی کی حیرت انگیز لطافت یہ تھی کہ اس نے طغیاںمتلاطم اور تہہ دار سمندر کے پانی سے جس کی موجیں شدّت سے آپس میں ٹکرارہی تھیں ایک ٹھوس اور خشک چیز کو پیدا کیا، پھر اس کے طبقے بنائے اور ایک دوسرے میں پیوستہ کرنے کے بعد اُنھیں شگافتہ کرکے سات آسمان پیدا کئے“۔
اسلامی روایتوں میں بھی اس سلسلہ میں کثرت سے بحث وگفتگو دکھائی دیتی ہے، اکثر روایات، اس بیان سے ہماہنگ ہیں جو اس خطبہ میں آیا ہے، فقط اس فرق کے ساتھ کہ ان میں سے بہت سی روایتوں میں آیاہے کہ پہلے اس پانی پر جھاگ نمودار ہوئے، جھاگ سے بھاپ یا دھواں اٹھا اور آسمانوں کووجود میں لایا ۔(1)
لیکن جیسا کہ کہا گیا ہے ان حدیثوں میں کوئی تضاد یا ٹکراوٴ نہیں ہے چونکہ قوی امکان ہے کہ سب سے پہلا مادّہ، بہنے والی چیز کی طرح دبی ہوئی سیّال گیس کی شکل میں رہا ہو اور اس پر مختلف مرحلوں میں پانی، بھاپ اور دھوئیں کا عنوان صادق آتا ہے ۔
یہ بات بھی غور طلب ہے کہ اُن روایات اور حدیثوں میں بھی کوئی تضاد یا ٹکراوٴ نہیں ہے جن میں بیان ہوا ہے کہ سب سے پہلے جو چیز پیدا ہوئی وہ پانی ہے یا سب سے پہلے الله نے پیغمبر اکرم صلی الله علیہ والہ وسلّم کے نور کو خلق کیا یا سب سے پہلے عقل کو بنایا ہے، اس لئے کہ ان میں سے بعض احادیث، عالَم مادّہ کی تخلیق پر ناظر ہیں اور بعض حدیثیں عالَم مجردات اور عالَم ارواح پر نظر رکھتی ہیں ۔
گذشتہ بیان سے واضح ہوجاتا ہے کہ ان روایات اور سورہٴ فصّلت کی گیارہویں آیت میں جو بیان ہوا ہے کوئی کسی طرح کا تضاد یا ٹکراوٴ نہیں ہے قرآن مجید کے سورہٴ فصّلت میں ارشاد ہوتا ہے: <ثُمَّ اسْتَوَی إِلَی السَّمَاءِ وَھِیَ دُخَانٌ > ”اس کے بعد آسمانوں کو بنایا حالانکہ وہ دھواں تھے“۔


1۔ ان روایات کے بارے میں مزید معلومات کے لئے بحارالانوار، مطبوعہ بیروت، ج۳، ۱۰،اور ۵۷ میں رجوع فرمائیں، اس سلسلہ کی زیادہ تر حدیثیںجلد۵۷ میں موجود ہیں ۔

۳۔ تخلیق کائنات کے متعلق، نزول قرآن کے زمانے میں موجودہ مفروضے

قابل توجہ نکات میں سے ایک اچھا نکتہ یہ ہے کہ نزول قرآن کے ماحول میں (یا صحیح لفظوں میں جس زمانے میں قرآن نازل ہوا ہے) تخلیق کائنات کے بارے میں دو مشہور نظریے موجود تھے: ایک نظریہ ”بطلمیوس“ کے علم نجوم کا تھا جو تقریباً پندرہ صدیوں تک دنیا کی علمی محفلوں پر سایہ فگن اور قرون وسطیٰ کے آخری دور تک باقی رہا ، اس نظریہ کے مطابق کائنات کا محور، زمین تھی اور نو فلک (سیارے) اُس کے اردگرد گردش کرتے تھے ۔
یہ افلاک پیاز کے چھلکوں کے مانند، صاف وشفّاف اور ایک دوسرے کے اوپر لپٹے ہوئے تھے جبکہ متحرک ستاروں (عطارد، زہرہ، مریخ اور زحل) میں سے ہر ایک ستارہ کی جگہ اپنے مخصوص فلک میں تھی، نیز چاند اور سورج کا بھی اپنا اپنا ایک مخصوص فلک تھا، اس کے علاوہ ساکن ستاروں سے مربوط سات فلک اور بھی تھے (ساکن ستاروں سے مراد ستاروں کا وہ مجموعہ ہے جو ایک ساتھ طلوع اور غروب ہوتے ہیں اور آسمان میں اپنی جگہ نہیں بدلتے، اُن ستاروں کے برخلاف جن کا نام شروع میں بیان کیا جاچکا ہے) آٹھویں فلک یعنی فلک ثوابت کے بعد، فلک اطلس تھا، جس میں کوئی ستارہ نہیں تھا، اس کا کام دنیا کے فوقانی مجموعہ کو زمین کے گرد گھمانا تھا، اس کا دوسرا نام فلک الافلاک تھا ۔
دوسرا مفروضہ، عقول عَشَرہ کے مفروضہ پر مشتمل تھا، اس نظریہ میں بھی ’بطلمیوس“ کے اس نظریہ سے مدد لی گئی تھی جو کائنات کی طبیعت پر ناظر تھا ۔
اس نظریہ کے مطابق جو بعض یونانی فلسفیوں کی جانب سے بیان کیا گیا تھا، خداوندعالَم نے شروع میں فقط ایک چیز پیدا کی اور وہ عقل اوّل تھی (فرشتہ یا روح عظیم اور مجرد جس کا نام شروع میں عقل اوّل رکھا گیا) اِس عقل نے دو چیزوں، عقل دوّم اور نویں فلک کو پیدا کیا، اس کے بعد عقل دوّم نے عقل سوّم اور آٹھویں فلک کو خلق کیا اور اس ترتیب سے دس عقلیں اور نو فلک پیدا ہوئے اور پھر دسویں عقل نے اس کائنات کی دیگر موجودات کو پیدا کیا ۔
حقیقت میں مفروضہ مراتب کے اس سلسلہ کی کوئی دلیل نہیں تھی، جیساکہ ”بطلمیوس“ کے مفروضے کی بھی بقدر کافی دلیل نہیں تھی، بہرحال جو کچھ بھی تھے کئی صدیوں تک یہ مفروضے، افکار پر حاکم اور غالب رہے ۔
لیکن قرآن مجید اور اسلامی احادیث نے نہ پہلے مفروضہ کو قبول کیا اور نہ دوسرے نظریہ کو مانا، چونکہ آیات قرآنی اور مشہور حدیثوں (خصوصاً نہج البلاغہ) میں ان نظریوں کا ہمیں کوئی اثر نہیں ملتا اور یہ بات بذات خود، قرآن اور اسلامی احادیث کی عظمت اور مستقل مزاجی پر بہترین گواہ ہے، نیز شاہد ہے کہ قرآن وحدیث کا سرچشمہ، وحی ہے بشری افکار نہیں، ورنہ یہ بھی وہی رنگ اختیار کرلیتے ۔(1)
تخلیق کائنات کی کیفیت کو ”امیرالمومنین علیہ السلام“ کے کلام میں جو دوسری بہت سی احادیث سے ہماہنگ ہے، آپ نے مشاہدہ کیا ہے ۔
قرآنی آیات اور اسلامی احادیث میں سات آسمانوں کا ذکر ملتا ہے، نہ کہ نو افلاک اور دس عقلوں کا، بہرحال آئندہ گفتگو میں سات آسمانوں کی تفسیر بیان ہوگی ۔
لیکن افسوس کہ نہج البلاغہ کی شرح کرنے والے قدیم علماء (جو تخلیق کائنات کے سلسلہ میں دس عقلوں کے فرضیہ یا ”بطلمیوس“ کے نظریہ سے متاثر ہوگئے تھے) ان نظریات کو شرح نہج البلاغہ میں لے آئے اور انھیں کے اوپر مذکورہ خطبہ کو تطبیق دینے کی کوشش کی، حالانکہ اس بات پر مُصر رہنے کی کوئی ضرورت بھی نہیں تھی، چونکہ یہ دونوں نظریے فقط مفروضے ہی تو تھے، جن کا باطل ہونا دور حاضر میں ثابت ہوچکا ہے ۔
عصر حاضر کے علمی مشاہدات اور علم نجوم کے ماہرین کے تجربات نے واضح طور پر ثابت کردیا ہے کہ فلک کے جو معنی بطلمیوس گمان کرتا تھا اُس معنی میں کوئی فلک موجود نہیں ہے اور ساکن یا متحرک ستارے، جن کی تعداد اُس سے کہیں زیادہ ہے جو قدیم علماء سمجھتے تھے، خلاء میں (سیّارے زمین کے نہیں بلکہ سورج کے گرد اور ساکن ستارے دوسرے محور پر) گردش کرتے ہیں جبکہ زمین یہ ہی نہیں کہ وہ کائنات کا محور نہیں ہے بلکہ منظومہ شمسی کے سیّاروں میںسے ایک چھوٹا سا سیّارہ ہے جو خود اپنے حساب سے ایک چھوٹا منظومہ ہوتے ہوئے بھی کائنات کے کروڑوں اور اربوں منظوموں سے بڑا منظومہ ہے ۔
جبکہ عقول عشرہ (دس عقلوں) کا نظریہ رکھنے والے حضرات نے اگرچہ اپنے اس نظریہ کا ایک ستون ”بطلمیوس“ کے علم نجوم سے حاصل کیا ہے (جس کا باطل ہونا آج کے دور میں ثابت ہوچکا ہے) اور دوسرے ستون کو بعض عقلی قواعد ”اَلْوَاحِدُ لایَصْدُرُ مِنہُ الّا الْوَاحِد“ کی بنیاد پر رکھا ہے کہ یہاں پر اس قاعدہ کی وضاحت کرنے کا موقع نہیں ہے ۔
بہرحال بہت سے دانشمندوں کے نظریہ کے لحاظ سے چونکہ مذکورہ قاعدہ پر بقدر کافی دلیل نہیں ہے لہٰذا اس مفروضہ کا دوسرا ستون بھی غیر معتبر اور بے اثر ہوجائے گا (دقّت فرمائیں) ۔


1۔بلکہ قرآن کریم کی بعض آیتوں میں زمین کے متحرک ہونے کا اشارہ ملتا ہے، جیسے سورہٴ نمل کی آیت نمبر ۸۸ <وَتَرَی الْجِبَالَ تَحْسَبُھَا جَامِدَةً وَھِیَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ صُنْعَ اللهِ الَّذِی اٴَتْقَنَ کُلَّ شَیْءٍ> اور سورہٴ مرسلات کی پچیسویں آیت <اٴَلَمْ نَجْعَلْ الْاٴَرْضَ کِفَاتًا> (البتہ بعض تفسیروں کی بناپر اور بعض آیات چاند اور سورج کے عالَم بالا کی فضا میں تیرنے پر دلالت کرتی ہیں، جیسے سورہٴ یٰسین کی چالیسویں آیت < لَاالشَّمْسُ یَنْبَغِی لَھَا اٴَنْ تُدْرِکَ الْقَمَرَ وَلَااللَّیْلُ سَابِقُ النَّھَارِ وَکُلٌّ فِی فَلَکٍ یَسْبَحُونَ >(مزید تشریح کے لئے تفسیر نمونہ ملاحظہ فرمائیں ۔
2۔ مرحوم ”خواجہ نصیر الدین طوسی“ نے ”تجرید الاعتقاد“ نامی کتاب میں ”عقول عشرہ“ پر مشتمل مفروضہ کے دلائل کا تذکرہ کرتے ہوئے اور انھیں غلط شمار کیا ہے، وہ مختصر لفظوں میں کہتے ہیں: ”وَاَدِلَّةُ وُجُودِہِ مَدخُولة“ مزید وضاحت کے لئے، خواجہ کے کلام اور اس کی شرح کو ملاحظہ فرمائیں جو علامہ حلّیۺ نے کی ہے ۔

۴۔ سات آسمان سے کیا مراد ہے؟

فقط مورد بحث خطبہ یا دیگر خطبوں (جیسے خطبہ نمبر۲۱۱) میں ہی نہیں بلکہ قرآن مجید میں بھی ”سماوات سبع“ یعنی سات آسمانوں کے بارے میں گفتگو ہوئی ہے ۔(1)
قدیم اور جدید دونوں دانشمندوں کے درمیان ، سات آسمانوں کے بارےں میں طرح طرح کی تفسیریں نظر آتی ہیں، اُن سب تفسیروں کو یہاں پر بیان کرنے کا موقع ومحل نہیں ہے، ان میں سے یہ تفسیر زیادہ صحیح نظر آتی ہے کہ سات آسمان سے مراد وہی واقعاً سات آسمان ہیں؛ آسمان کا مطلب عالَم بالا کے کواکب اور ستاروں کا ایک مجموعہ اور سات کے عدد سے مراد وہی سات کا مشہور عدد ہے، کثرت کا عدد یا زیادہ کے معنی میں نہیں ہے، البتہ قرآن مجید کی دوسری آیتوں سے پتہ چلتا ہے کہ وہ سب چیزیں جنھیں ہم ساکن اور متحرک ستاروں اور کہکشاں کی صورت میں دیکھتے ہیں وہ سب، پہلے آسمان کے مجموعہ سے مربوط ہیں ۔
اس بناپر اس عظیم مجموعہ کے علاوہ مزید چھ مجموعے اور بھی ہیں جو چھ آسمانوں کو وجود دیتے ہیں، جو بشر کی علمی دسترسی سے باہر رہے ہیں ۔
سورہٴ صافات کی چھٹی آیت اس مطلب پر گواہ ہے: <إِنَّا زَیَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْیَا بِزِینَةٍ الْکَوَاکِب> ”ہم نے نچلے (یا نزدیک) آسمان کو ستاروں سے مزین کیا ہے“۔
یہی معنی سورہ فصلت کی بارہویں آیت میں آئے ہیں : <وَزَیَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیحَ>”ہم نے نچلے آسمان کو ستاروں کے چراغوں سے سجایا ہے“۔
جبکہ سورہٴ ملک کی پانچویں آیت میں بھی ہم پڑھتے ہیں: <وَلَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیحَ >غور طلب بات یہ ہے کہ بحارالانوار میں ”علامہ مجلسی“ نے بھی اس تفسیر کو ایک احتمال کے عنوان سے جو اُن کے ذہن میں خطور کیا یا اس وقت کی زبان میں کہا جائے کہ جو انھوں نے آیات اور احادیث کی روشنی میں سمجھا ہے، بیان کیا ہے ۔(2)
صحیح ہے کہ آج کے زمانے کے آلات اور وسائل نے ابھی تک اُن چھ عالَم کا پردہ فاش نہیں کیا ہے، لیکن اُن کے افکار پر بھی حقیقت میں موجودہ علوم کے لحاظ سے کوئی دلیل نہیں ہے، شاید آئندہ زمانے میں اس معمّا کا راز کشف ہوجائے، البتہ علم نجوم کے بعض ماہرین کے انکشافات سے اس طرح کا پتہ چلتا ہے کہ دوسرے عالَم کے موجود ہونے کے بارے میں کچھ سائے سے دور سے نظر آتے ہیں، مثال کے طور پر فضائی تحقیقات کے بعض رسالوں میں مشہور رصدخانہ ”پالومر“ کے قول کے مطابق اس طرح بیان ہوا ہے: ”پالومر“ رصدخانہ کی ٹیلسکوپ کے ذریعہ کروڑوں کی تعداد میں جدید کہکشاوٴں کا انکشاف ہوا ہے جن میں سے بعض کہکشاں، ہم سے ایک ارب سال نوری کے فاصلہ پر واقع ہیں ۔
لیکن ایک ارب نورس سال کے فاصلہ کے بعد ایک عظیم ، ہولناک اور تاریک خلاء نظر آتا ہے جس کے اندر کوئی چیز دکھائی نہیں دیتی، لیکن بلاشبہ اُس خوفناک اور تاریک خلاء میں کروڑوں کہکشاں موجود ہیں اور ان ہی کی جاذبہ قوت سے، نیچے کی اُن کہکشاوٴں کی حفاظت کی جاتی ہے جو ہماری سمت میں واقع ہیں، یہ پوری عظیم دنیا جو ہمیں نظر آتی ہے اور اس میں کھربوں کہکشائیں موجود ہیں، اس عظیم کائنات کے ایک بے مقدار ذرِّے کے سوا کچھ نہیں ہے البتہ ابھی ہم مطمئن نہیں کہ اس دوسری دنیا کے پیچھے بھی کوئی اور دنیا نہ ہو۔(3)
لہٰذا اس بنا پر جو عالَم ابھی تک بشر کے لئے کشف ہوئے ہیں، اپنی تمام حیرت انگیز اور چکاچوند کرنے والی عظمتوں کے باوجود، اس عظیم اور بڑے عالَم کا ایک چھوٹا سا گوشہ ہیں، کوئی عجب نہیں کہ مستقبل میں شاید دوسرے چھ عالَم بھی انسان کے لئے واضح ہوجائیں ۔

 


1۔ غور طلب بات یہ ہے کہ قرآن مجید کی آیتوں میں ”سماوات السبع“ سات آسمانوں کی طرف اشارہ ہوا ہے (بقرہ، آیت۲۹؛ اسراء۴۴؛ مومنون۸۶؛ فصلت۱۲؛ طلاق۱۲؛ ملک۳، اور سورہٴ نوح آیت۱۵) بعض دوسری آیتوں میں بھی دیگر الفاظ میں اشارہ ہوا ہے ۔
2۔ بحارالانوار: ج
۵۵، ص۷۸.
3۔ مجلہ فضا (نامی رسالہ): نمبر
۵۶، فروردین سن ۱۳۵۱ ھ ش.

۵۔ امام علیہ السلام کو ان چیزوں کا کیسے پتہ چلا

قابل توجہ بات یہ ہے کہ امیرالمومنین علیہ السلام نے مذکورہ خطبہ میں جو عبارتیں استعمال کی ہیں وہ ہرگز ایک مفروضہ یا احتمال کی صورت میں نہیں ہیں بلکہ مکمل یقین واعتماد کے ساتھ اس طرح گفتگو کی ہے کہ گویا آپ حاضر وناظر تھے اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انھوں نے علم کو الله کے غیبی خزانہ یا پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کی تعلیمات (جوسرچشمہ وحی سے لی گئی ہے) سے حاصل کیا تھا اور ”ابن ابی الحدید“ کے قول کے مطابق یہیں سے پتہ چلتا ہے کہ امام علی علیہ السلام کے پاس ہر علم موجود تھا اور یہ بات آپ(علیه السلام) کے فضائل ومناقب سے بعید بھی نہیں ہے ۔(1)
ایسا کیوں نہ ہو حالانکہ دوسری جگہ پر بذات خود ارشاد فرماتے ہیں: ”اٴَنَا بِطُرُقِ السَّمَاءِ اٴَعْلَمُ مِنِّیْ بِطُرُقِ الْاٴَرْض؛ میں آسمانوں کی راہوںکو زمین کے راستوں سے زیادہ جانتا ہوں“۔(2)


1۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید: ج۱، ص۸۰.
2۔ نہج البلاغہ: خطبہ
۱۸۹.

آٹھواں حصّہ

ثُمَّ فَتَقَ مَابَیْنَ السَّمَوَاتِ الْعُلَا فَمَلَاٴَھُنَّ اٴَطْوَاراً مِنْ مَلَائِکَتِہِ، مِنْھُمْ سُجُود لَا یَرْکَعُونَ، وَرُکُوع لَایَنْتَصِبُونَ، وَصَافُّونَ لَایَتَزَایَلُونَ، وَمُسَبِّحُونَ لَایَسْاٴَمُونَ، لَایَغْشَاھُمْ نَومُ الْعُیُونِ، وَلَاسَھْوُ الْعُقُولِ، وَلَافَتْرَةُ الْاٴَبْدَانِ، وَلَاغَفْلَةُ النِّسْیَانِ، وَمِنْھُمْ اُمَنَاءُ عَلیٰ وَحْیِہِ، وَاٴَلْسِنَةِ اِلیٰ رُسُلِہِ، وَمُخْتَلِفُونَ بَقَضَائِہِ وَاٴَمْرِہِ، وَمِنْھُمُ الْحَفَظَةُ لِعِبَادِہِ وَالسَّدَنَةُ لِاٴَبْوَابِ جِنَانِہِ، وَمِنْھُمُ الْثَّابِتَةُ فِی الْاَرَضِیْنَ السُّفْلیٰ اٴَقْدَامُھُمْ، وَالْمَارِقَةُ مِنَ السَّمَاءِ الْعُلْیَا اَعْنَاقُھُمْ، وَالْخَارِجَةُ مِنَ الْاَقْطَارِ اَرْکَانُھُمْ، وَالْمُنَاسِبَةُ لِقَوائِمِ الْعَرْشِ اَکْتَافُھُمْ نَاکِسَة دُونَہُ اٴَبْصَارُھُمْ مُتَلَفَّعُونَ تَحْتَہِ بِاَجْنِحَتِھِمْ، مَضْرُوبَة بَیْنَھُمْ وَبَینَ مَن دُونَھُمْ حُجُبُ الْعِزَّةِ وَاَسْتَارُ الْقُدْرَةِ، لَایَتَوَھَّمُونَ رَبَّھُمْ بِالتَّصْوِیرِ، وَلَایُجْرُونَ عَلَیہِ صِفَاتِ الْمَصْنُوعِینَ، وَلَایَحُدُّونَہُ بِالْاَمَاکِنِ، وَلَایُشِیْرُونَ اِلَیْہِ بِالنَّظَائِرِ.
ترجمہ
پھر اس نے بلندترین آسمانوں کو شگافتہ کیا اور انھیں طرح طرح کے فرشتوں سے بھردیا، ان میں سے بعض فرشتے ہمیشہ سجدے میں رہتے ہیں، رکوع نہیں کرتے اور بعض رکوع میں ہیں، قیام نہیں کرتے، بعض صف باندھے کھڑے ہیں ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتے، ہمیشہ تسبیح الٰہی کرتے رہتے ہیں اور کبھی تھکتے نہیں ۔
ان کی آنکھوں پر کبھی بھی نیند غالب نہیں آتی اور عقلوں پر سہو ونسیان طاری نہیں ہوتا، نہ اُن کے بدن میں سستی پیدا ہوتی ہے اور نہ نسیان کی غفلت کا شکار ہوتے ہیں ۔
ان میں بعض فرشتے وحی کے امین اور پیغمبروں کی طرف اس کی زبان ہیں، ہمیشہ اس کے حکم اور فرمان کو پہنچانے کے لئے رفت وآمد میں مصروف رہتے ہیں، ان میں سے بعض فرشتے اس کے بندوں کے محافظ اور اس کی بہشت کے دربان ہیں، اُن میں سے بعض وہ ہیں جن کے قدم زمین کے آخری طبقہ میں ثابت اور گردنیں بلند ترین آسمانوں سے باہر نکلی ہوئی ہیں، ان کے اعضاء بدن، اقطار عالَم سے باہر نکلے ہوئے ہیں، ان کے شانے عرش الٰہی کے ستونوں کو اٹھانے کے لئے آمادہ ہیں، وہ عرش الٰہی کے سامنے نگاہیں جھکائے ہوئے اور اس کے نیچے اپنے پروں کو سمیٹے ہوئے ہیں، ان کے اور اس مخلوق کے درمیان، جن کا مرتبہ ان سے کمتر ہے، عزت کے حجاب اور قدرت کے پردے حائل ہیں (وہ معرفت الٰہی میں اس قدر غرق ہیں کہ) اپنے ذہن میں اپنے پروردگار کے شکل وشمائل کا بھی تصور نہیں کرتے، اس کے حق میں مخلوق کی صفات کے قائل نہیں ہوتے، اس کو کبھی بھی کسی جگہ میں محدود نہیں کرتے اور اشباہ ونظائر سے اس کی طرف اشارہ نہیں کرتے ہیں ۔

شرح اور تفسیر

عالَم ملائکہ میں

اس خطبہ میں گذشتہ حصّوں کے آسمانوں اور کائنات کی تخلیق کے سلسلہ میں بحث وگفتگو کے بعد امام علیہ السلام خطبہ کے اس حصّہ میں آسمانی موجودات اور عالَم بالا کے فرشتوں کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں اور مختصر وگویا عبارتوں میں فرشتوں کی اقسام، ان کی صفات، خصوصیات اور ان کے اعمال کے بارے میں بات کرتے ہیں، نیز ان کے وجود کی بناوٹ اور اُن کی معرفت کے بلند درجات کے متعلق گفتگو کرتے ہیں، حقیقت میں خطبہ کا یہ حصّہ، مختلف زاویوں سے فرشتوں کی پہچان کرانے سے مربوط ہے، جس میں حضرت(علیه السلام) ارشاد فرماتے ہیں: پھر خداوندعالَم نے بلندترین آسمان کو شگافتہ کیا (ثُمَّ فَتَقَ مَابَیْنَ السَّمَوَاتِ الْعُلَا) ۔(۱)
اس عبارت سے بخوبی استفادہ ہوتا ہے کہ آسمانوں کے درمیان فاصلے پائے جاتے ہیں، جو شروع میں ایک دوسرے جُڑے ہوئے تھے پھر بعد میں ایک دوسرے سے جدا ہوگئے اور یہ بات ”بطلمیوس“ کے علم نجوم کے بالکل برخلاف ہے جس میں بیان ہوا تھا کہ آسمان پیاز کے چھلکوں کی طرح ایک دوسرے کے اوپر قائم ہیں اور ان میں کوئی فاصلہ نہیں ہے ۔
اس کے بعد امام علیہ السلام مزید فرماتے ہیں: ”خداوندعالَم نے ان فاصلوں کو طرح طرح کے فرشتوں سے بھردیا ہے“ (فَمَلَاٴَھُنَّ اٴَطْوَارا (
۲) مِنْ مَلَائِکَتِہِ) ۔(۳)
”خطبہ اشباح“ (خطبہ
۹۱) میں بھی ہم پڑھتے ہیں: ”وَمَلَاٴَ بِھِمْ فُرُجَ فِجَاجِھا وَحَشَابھم فُتُوقَ اٴَجوائِھَا؛ان (فرشتوں) کے ذریعہ آسمانوں کے تمام فاصلوں کو بھردیا اور خلاء کے فاصلوں کو اُن سے مالامال کردیا“۔
اسی خطبہ کے دوسرے جملہ میں ہم پڑھتے ہیں: ”ولیس فی اٴطباق السماء موضِعُ اِھَاب اِلَّا وَعَلیہِ مَلَک ساجِد اوساعٍ حافد؛تمام آسمانوں میں ایک چوپائے کی کھال کے برابر بھی جگہ نہیں ملے گی مگر یہ کہ اس میں کوئی فرشتہ سجدے میں سر رکھے ہوئے ہے، یا تیزی سے کسی کام کی جستجو میں مصروف ہے“۔
پھر حضرت(علیه السلام) نے انواع واقسام یا دوسرے لفظوں میں فرشتوں کے طور طریقوں کو بیان کیا اور انھیں چار گروہوں میں تقسیم فرمایا ہے:
پہلی قسم کے فرشتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جو عبادت میں مصروف ہیں، انھیں بھی چند گروہوں میں تقسیم فرماتے ہیں: ”ایک گروہ کے فرشتے ہمیشہ سجدہ کی حالت میں رہتے ہیں، رکوع نہیں کرتے“ (مِنْھُمْ سُجُود(4) لَا یَرْکَعُونَ) ۔
”ایک گروہ ہمیشہ رکوع میں رہتا ہے قیام نہیں کرتا“ (وَرُکُوع لَایَنْتَصِبُونَ) ۔
”جبکہ ایک گروہ ہمیشہ قیام کی حالت میں ہے اور اس حالت سے ہرگز جدا نہیں ہوتا“ (وَصَافُّونَ(5) لَایَتَزَایَلُونَ) ۔
بعض علماء نے یہاں پر لفظ ”صافّون“ کو عبادت کے لئے صف باندھنے کے معنی میں لیا ہے اور بعض دوسرے علماء نے آسمان میں بال وپر پھیلانے کے معنی میں لیا ہے البتہ قرآن کی اس عبارت کو قرینہ بناتے ہوئے جو پرندوں کے بارے میں آئی ہے جس میں خداوندعالَم ارشاد فرماتا ہے: <اٴَوَلَمْ یَرَوْا إِلَی الطَّیْرِ فَوْقَھُمْ صَافَّاتٍ> (کیا انھوں نے اپنے سروں کے اوپر اُن پرندوں کو نہیں دیکھا جو پر پھیلائے ہوئے ہیں)(6)
یہ بھی امکان پایا جاتا ہے کہ اس سے منظم صفوں میں کھڑے ہوکر فرمان کی اطاعت اور احکام کی بجاآوری کے لئے تیار ہونا مراد ہو۔
لیکن پہلا احتمال بہرحال پہلے اور بعد کے جملوں کے لحاظ سے زیادہ مناسب ہے، حقیقت میں جیسے ہماری عبادتوں میں عمدہ طور پر تین حالت ہوتی ہیں، قیام، رکوع اور سجود، اُن میں سے بھی ہر گروہ انہی تین عبادتوں میں سے کسی ایک عبادت میں غرق رہتا ہے ۔
”صافّون“ کا لفظ یا فرشتوں کی منظم صفوں کی طرف اشارہ ہے، یا ان میں سے ہر ایک کے منظم قیام کی طرف، صحیح وہی ہے جو متقین کے بارے میں دیئے گئے خطبہ ”ہمام“ میں آیا ہے، حضرت(علیه السلام) فرماتے ہیں: ”راتوں کو قیام کی حالت میں رہتے ہیں، اپنے پیروں کو ایک دوسرے ملائے ہوئے ہیں اور تلاوت قرآن میں مصروف رہتے ہیں“ (وَاٴَمّا اللَّیل فَصَافّون اٴَقْدَامَھُمْ تالینَ لِاَجْزَاء القُرآنِ) ۔(7)
”دوسرے گروہ کے فرشتے جو ہمیشہ تسبیح الٰہی میں مصروف ہیںاور ہرگز خستہ حال نہیں ہوتے ہیں“ (وَمُسَبِّحُونَ لَایَسْاٴَمُونَ) ۔
اس جملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک علیحدہ گروہ ہے جو اُن تین گروہوں سے بالکل جدا ہے جو سجدے، رکوع اور قیام کی حالت میں رہتے ہیں (اگرچہ نہج البلاغہ کے بعض شارحین نے یہ بھی امکان دیا ہے کہ تسبیح الٰہی کرنے والے فرشتے بھی، وہی مذکورہ گروہ ہیں اور بعض حدیثوں سے بھی ان کے اس امکان کی تائید کی جاسکتی ہے، اس لئے کہ ایک روایت میں آیا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ والہ وسلّم سے سوال کیا گیا کہ فرشتوں کی نماز کیسی ہے؟ آنحضرت نے کوئی جواب نہیں دیا یہاں تک کہ جبرئیل علیہ السلام نازل ہوئے اور حضور اکرم صلی الله علیہ والہ وسلّم سے عرض کیا: ”اِنَّ اٴَھْلَ السَّمَاءِ الدُّنْیَا سُجُودٌ اِلیٰ یَومِ الْقِیَامَةِ یَقُولُونُ سُبْحَانَ ذِی الْمُلْکِ وَالْمَلَکُوتِ وَاٴَھْلُ السَّمَاءِ الثَّانِیَةِ رُکُوعٌ اِلیٰ یَومِ الْقِیَامَةِ یَقُولُونَ سُبْحَانَ ذِی الْعِزَّةِ وَالْجَبَرُوتِ وَاٴَھْلُ السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ قِیَامٌ اِلیٰ یَومِ الْقِیَامَةِ یَقُولُونُ سُبْحَانَ الْحَیِّ الَّذِی لَایَمُوت؛پہلے آسمان والے قیامت تک سجدے میں ہیں اور ہمیشہ کہتے ہیں کہ پاک ومنزہ ہے وہ ذات جو ملک وملکوت کی مالک ہے، دوسرے آسمان والے قیامت تک ہمیشہ رکوع میں رہیں گے جو کہتے ہیں کہ پاک ومنزہ ہے وہ الله جو صاحب عزّت وجبروت ہے اور تیسرے آسمان والے قیامت تک ہمیشہ قیام کی حالت میں ہیں اور کہتے ہیں پاک ومنزہ ہے وہ پروردگار جو ہمیشہ زندہ ہے اور کبھی بھی نہیں مرے گا“) ۔(8)
اب رہا یہ سوال کہ کیا ان کے سجود، رکوع اور قیام سے مراد وہی ہمارے جیسے سجود، رکوع اور قیام کے طرز کے اعمال ہیں یا یہ فرشتوں کے مقام ومرتبہ کے لحاظ سے اُن کی عبادت اور خضوع کے مراحل کی طرف اشارہ ہے، بہرحال کہا جاسکتا ہے کہ اگر فرشتوں کو صاحب جسم (جسم لطیف) سمجھیں کہ اُن کے بھی ہاتھ، پیر، چہرہ اور پیشانی ہوتی ہے تو پہلے معنی زیادہ مناسب رہیں گے اور ان کے لئے جسم کے قائل نہ ہوں یا جسم کے قائل ہوں لیکن ہماری طرز کا جسم نہیں، تب دوسرے معنی زیادہ مناسب رہیں گے ۔ (بہرحال جب نکات اور گوشوں کے بارے میں گفتگو کی جائے تو اُسی وقت اس سلسلہ میں بھی گفتگو کریں گے) ۔
بہرحال اس مجموعہ کا کام ہمیشہ خداوندعالَم کی عبادت، تسبیح وتقدیس کرنا ہے، گویا اس کے علاوہ انھیں کوئی کام نہیں ہے وہ فقط عبادت سے عشق کرتے ہیں، حقیقت میں یہ فرشتے، پروردگار عالَم کی عظمت، بلند مرتبہ اور اس بات کی نشانیاں ہیں کہ مالک کائنات خالق اکبر کو عابدوں اور زاہدوں کی عبادتوں کی ضرورت نہیں ہے دوسرے لفظوں میں ان فرشتوں کی تخلیق کا فلسفہ اور مقصد ممکن ہے یہی ہو کہ انسان اپنی عبادت پر مغرور نہ ہوسکے اور جان لے کہ بافرض محال اگر خلّاق کون ومکان کو عبادت کی ضرورت ہوتی تو عالَم بالا کے ملائکہ ہر جگہ اس کی عبادت میں مصروف ہیں تاکہ کرہٴ زمین پر بسنے والے تصور نہ کریں کہ اس کی کبریائی میں ان کے عبادت کرنے یا نہ کرنے کا کوئی اثر ہوتا ہے اور اگر سب لوگ کافر بھی ہوجائیں تو بھی اس کے دامن کبریائی پر کسی طرح کی گرد تک نہیں بیٹھے گی: <اِن تَکْفُرُو فَاِنَّ اللهَ غَنِیٌّ عَنْکُمْ>(9) ۔
اس کے بعد حضرت علی علیہ السلام فرشتوں کے اس مجموعہ کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”نہ نیند اُن کی آنکھوں کو بند کرتی ہے، نہ عقل انھیں سہو ونسیان میں گرفتار کرتی ہے، نہ ان کے بدن میں سسی پیدا ہوتی ہے اور نہ نسیاں کی غفلت کا ان کے اوپر غلبہ ہوتا ہے“ (لَایَغْشَاھُمْ نَومُ الْعُیُونِ، وَلَاسَھْوُ الْعُقُولِ، وَلَافَتْرَةُ الْاٴَبْدَانِ، وَلَاغَفْلَةُ النِّسْیَانِ) ۔
ان کے برخلاف اگر انسان عبادت کا کوئی ایک عمل باربار انجام دے تو آہستہ آہستہ مذکورہ مشکلات میںگرفتار ہوجائے گا، آہستہ آہستہ اس کی آنکھیں بند ہونے لگیںگی، بدن میں سستی پیدا ہوجائے گی اور سہو نسیان کا غلبہ ہوجائے گا لیکن عبادت کرنے والے ملائکہ ان مشکلات میں ہرگز مبتلا نہیں ہوتے ۔
وہ اس قدر عبادت کے عاشق اور مناجات وتسبیح میں غرق ہوتے ہیں کہ پھر انھیں ہرگز نیند،غفلت اور سستی نہیں ہوتی ۔
دوسرے لفظوں میں اس مہم وظیفہ کی انجام دہی میں، جن چیزوں کی وجہ سے کوتاہی پیدا ہوتی ہے اُن میں سے کوئی چیز بھی ان فرشتوں کے اندر نہیں پائی جاتی ہے، بہرحال اس کوتاہی اور تقصیر کا سبب کبھی تھکن ہوتی ہے، کبھی آنکھوں پر نیند کا غلبہ ، کبھی عقلوں کی بھول چوک، کبھی بدن کی سستی اور کبھی غفلت ونسیان اور چونکہ ان میں سے کوئی بات بھی اُن کے اندر نہیں پائی جاتی ہے لہٰذا اپنے پروردگار کی عبادت میں وہ کبھی بھی سستی نہیں کرتے ۔
پھر حضرت(علیه السلام)، فرشتوں کے دوسرے گروہ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اُن میں سے بعض وحی الٰہی کے امین اور پیغمبروں کی طرف اس کی گویا زبان ہیں جو اس کے فیصلوں اور احکام کو برابر لاتے رہتے ہیں“ (وَمِنْھُمْ اُمَنَاءُ عَلیٰ وَحْیِہِ، وَاٴَلْسِنَةِ اِلیٰ رُسُلِہِ، وَمُخْتَلِفُونَ بَقَضَائِہِ وَاٴَمْرِہِ) ۔
اصل میں یہی ملائکہ، پروردگار عالَم اور اس کے رسولوں کے درمیان، واسطہ اور اس کی وحی کے ترجمان ہیں ۔
اس عبارت سے استفادہ ہوتا ہے کہ فقط جبرئیل ہی وحی الٰہی کے سفیر ہیں بلکہ حقیقت میں وہ الٰہی سفیروں کے سردار ہیں ۔
قرآن کریم میں بھی فرشتوں کے اس مجموعہ کی طرف اشارہ ہوا ہے ، کبھی ارشاد ہوتا ہے: <قُلْ نَزَّلَہُ رُوحُ الْقُدُسِ مِنْ رَبِّکَ بِالْحَقِّ>۔”کہدو اس (قرآن) کو بیشک پروردگار کی جانب سے روح القدس نے نازل کیا ہے“۔(10)
دوسرے مقام پر ارشاد ہوتا ہے: <قُلْ مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِیلَ فَإِنَّہُ نَزَّلَہُ عَلیٰ قَلْبِکَ بِإِذْنِ اللهِ>”اے میرے حبیب کہدیجئے جو جبرئیل کا دشمن ہوگا (حقیقت میں وہ خدا کا دشمن ہے) چونکہ اُس نے الله کے حکم سے قرآن کو آپ کے قلب پر اُتارا ہے“۔(11)
کبھی فرشتوں کے حاملان وحی گروہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: <یُنَزِّلُ الْمَلَائِکَةَ بِالرُّوحِ مِنْ اٴَمْرِہِ عَلیٰ مَنْ یَشَاءُ مِنْ عِبَادِہِ >”خداوندعالم فرشتوں کو ارواح الٰہی کے ساتھ اپنے حکم سے، اپنے بندوں میں سے جس کے پاس چاہتا ہے نازل کردیتا ہے“۔(12)
اسلامی احادیث وروایات اور ”نہج البلاغہ“ کے بعض دوسرے خطبوں میں بھی اسی مطلب کی طرف اشارہ ہوا ہے ۔
توجہ رکھنا چاہئے کہ محل بحث وگفتگو جملوں میں، فیصلہ اور امر الٰہی سے مراد وہی فرامین اور دینی وشرعی احکام ہیں، تکوینی فیصلہ اور حکم نہیں جو ”نہج البلاغہ“ کے بعض شارحین نے احتمال دیا ہے چونکہ یہ بات پہلے مذکورہ جملوں (کہ جن میں وحی الٰہی کے امین ہونے کی بات آئی ہے) سے مناسب اور ہماہنگ نہیں ہے جبکہ لفظ ”مختلِفُونَ“ جس کا مصدر ”اختلاف“ ہے یہاں پر رفت وآمد کے معنی میں ہے ۔
اس کے بعد امیر بیان(علیه السلام)، فرشتوں کے تیسرے گروہ کے بارے میں اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”ان میں سے ایک گروہ کے فرشتے، اس کے بندوں کے محافظ اور اس کی بہشت کے دربان ہیں“ (وَمِنْھُمُ الْحَفَظَةُ لِعِبَادِہِ وَالسَّدَنَةُ(13) لِاٴَبْوَابِ جِنَانِہِ) ۔
”حفظة“ ، ”حافظ“ کی جمع ہے اور حفاظت کرنے والوں کے معنی میں ہے، اس مقام پر اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں: ایک، بندوں کے وہ محافظ جو اُن کے اعمال پر نگراں ہیں اور ان کے اعمال لکھتے ہیں جس کی طرف سورہٴ طارق کی چوتھی آیت میں اشارہ ہوا ہے: <إِنْ کُلُّ نَفْسٍ لَمَّا عَلَیْھَا حَافِظٌ>”ہر شخص کے اوپر ایک محافظ رکھا گیا ہے“۔ اسی طرح سورہٴ انفطار کی دس اور گیارہویں آیت میں ہم پڑھتے ہیں: <وَاِنَّ عَلَیکُمْ لَحَافِظِینَ، کِرَاماً کَاتِبِینَ>”تمھارے اوپر محافظ رکھے گئے ہیں، ایسے شریف نگراں جو ہمیشہ تمھارے اعمال لکھتے رہتے ہیں“۔
دوسرے، فرشتوں کا وہ گروہ جو بندوں کا محافظ ہے اور انھیں آفتوں، بلاوٴں اور مختلف حادثوں سے بچاتا ہے کہ اگر وہ نہ ہوں تو انسان ہمیشہ نابودی کے دہانے پر رہتا ہے، جیسا کہ سورہٴ رعد کی گیارہویں آیت میں آیا ہے پروردگار عالَم ارشاد فرماتا ہے: <لَہُ مُعَقِّبَاتٌ مِنْ بَیْنِ یَدَیْہِ وَمِنْ خَلْفِہِ یَحْفَظُونَہُ مِنْ اٴَمْرِ اللهِ > ”انسان کے لئے کچھ محافظ بنائے گئے ہیں جو انھیں پے درپے آگے اور پیچھے سے الٰہی (غیر حتمی) حادثوں سے بچاتے ہیں“۔


۱۔ ”العلاء“ اعلیٰ کی موٴنث ”علیا“ کی جمع ہے جس کے معنی بلند اور اشرف کے ہوتے ہیں ۔
۲۔ ”اطوار“، ”طَوْر“ (بروزن قول) کی جمع ہے جس کے معنی صنف اور حد وحالت کے بھی آئے ہیں ۔
۳۔ صحیح ہے کہ عبارت سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ”ھُنَّ“ کی ضمیر آسمانوں کی جانب پلٹی ہے، لیکن ”ثم فتق“ اور ”ملاٴھُنَّ“ میں فاء تفریع کے قرینہ سے پتہ چلتا ہے کہ اس سے مراد آسمانوں کے درمیانی فاصلے ہیں ۔
4۔ ”سجود“ ”ساجد“(سجدہ کرنے والا) کی جمع ہے جیسا کہ ”رکوع“ ”راکع“ (رکوع کرنے والے) کی جمع ہے ۔
5۔ ”صافّون“ ”صافّ“ (بروزن حادّ) کی جمع اور ”صف“ سے مشتق ہے، اس کے معنی مساوات کے ہوتے ہیں، اصل میں اسے ”صَفَف“ سے لیا گیا ہے جو صاف زمین کے معنی میں ہے ۔
6۔ سورہٴ ملک: آیت
۱۹.
7۔ نہج البلاغہ: خطبہ
۱۹۳.
8۔ بحارالانوار: ج
۵۹، ص۱۹۸.
9۔ سورہٴ زمر: آیت
۷.
10۔ سورہٴ نحل: آیت
۱۰۲.
11۔ سورہٴ بقرہ:آیت
۹۷.
12۔ سورہٴ نحل: آیت
۲.
13۔ ”سَدَنہ“، ”سادن“ کی جمع ہے، خدمتگار اور دربان کے معنی میں ہے ۔

 

Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved